’’عیدالفطر‘‘ اعمال کے جائزے اور عزمِ نو کا دن

’’عیدالفطر‘‘ اعمال کے جائزے اور عزمِ نو کا دن

ڈاکٹر حافظ حقانی میاں قادری

’’عیدالفطر‘‘ اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے اجر اور مزدوری وصول کرنے کا ہے، اس ضمن میں نبی کریم ﷺکا ارشاد ہے’’جب عید الفطر کا دن آتا ہے تو فرشتے اللہ کے حکم سے زمین کی طرف نزول فرماتے ہیں اور راستے میں کھڑے ہوکر یہ کہتے ہیں اور ان کی یہ صدا انسان اور جنات کے علاوہ تمام مخلوقات سنتی ہے، وہ یہ کہتے ہیں اے امتِ محمد یہ کے لوگو! اپنے رب کریم کی طرف نکلو جو تمہیں بہترین جزا دینے والا ہے اور تمہارے گناہوں کی مغفرت کرنے والا ہے۔اور جب اللہ کے بندے نماز کے لیے اپنا مصلیٰ پھیلا دیتے ہیں تو اللّٰہ تبارک تعالیٰ ملائکہ سے ارشاد فرماتے ہیں اے میرے فرشتو! جب کو ئی مزدور اپنا کام مکمل کرلے تو اس کی محنت و مشقت کا صلہ کیا ہونا چاہیے؟ فرشتے کہتے ہیں کہ ہمارے رب اس مزدور کا صلہ اور جزا یہ ہو نا چاہیے کہ اسے اس کی مزدوری پوری پوری دے دی جائے، اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے کہ میں نے انہیں ان کے صیام و قیام کا بدلہ دے دیا اور اپنی رضا اور مغفرت انہیں عطا کردی‘‘۔

حدیث نبویؐ میں ہی ایک دوسرے مقام پر یوں وارد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہےکہ ’’اے میرے بندو! تم نے میری رضا کی خاطر روزے رکھے اور قیام کیا اب تم اپنے گھروں کو اس حالت میں لوٹ جائوکہ تمہاری مغفرت کردی گئی ہے۔اسی لیے نبی کریم ﷺ نے عید الفطر کے بارے میں ارشاد فرمایا، یوم فطر کا اکرام واحترام کیا کرو اور اس دن اللہ کی نافرمانی والے اعمال اور لوگوں کو ضرر و تکلیف دینے والے افعال سے پرہیز کیا کرو۔’’کیوں کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بڑا کرم فرمایا ہے۔

سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ سے ایک شخص ملاقات کے لیے آیا ،عید کا دن تھا۔ آپ ایک خشک روٹی تناول فرمارہے تھے، اس شخص نے کہا، اے امیر المومنین ! آج عید کا دن ہے خوشی کا موقع ہے اور آپ خشک روٹی تناول فرما رہے ہیں۔ حضرت علی ؓنے جو اباً فرمایا: عید تو اس کی ہے جس کے روزے قبول ہوگئے ہوں اور اس کی سعی و کاوش کی اللہ کے حضور تعریف ہوگئی ہو اور گناہوں کی مغفرت ہوگئی ہو، ہر وہ دن کہ ہم اللہ کی معصیت اور نافرمانی سے بچ کر گزار دیں، وہ ہم سب کے لیئے عید کا ہی دن ہے‘‘۔

عید الفطر اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کے بندوں پر اس کے انعامات میں سے ایک عظیم انعام ہے اور روزے داروں کے لیے راحت کا ایک موقع ہے کہ بند ہ مؤمن نے حکم خداوندی کو پورا کیا۔ ایمان اور احتساب کے ساتھ روزے رکھے۔

اپنی نفسانی خواہشات کو قربان کر کے رضائے الہٰی کو پیش نظر رکھا توا للہ عزوجل نے اسے یہ انعام عطا فرمایا اور قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اس کی کامیابی کا اعلان فرما دیا، جیسا کہ ارشاد ہے۔’’بے شک وہی بامراد ہوا جو پاک ہوگیا اور وہ اپنے رب کے نام کا ذکر کرتا رہا اور نماز پڑھتا رہا ‘‘۔ رمضان المبارک کے روزے ان چیزوں کا مصداق ہیں کہ اپنی خواہشات کو ضبط میں رکھا اور روزے رکھ کر نمازیں ادا کیں تراویح پڑھی اور اپنے رب کو یاد کیا۔

ہر قوم و قبیلے کے کچھ خاص تہوار اور جشن کے دن ہوتے ہیں، اس جشن اور تہوار منانے کے دن اس قوم کے لوگ اپنی حیثیت کے مطابق عمدہ لباس پہنتے ہیں۔ اچھے اچھے کھانے پکاتے ہیں اور اپنی خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہیں، یہ انسانی فطرت اور مزاج کا خاصہ ہوتا ہے، اسی لیے سطح زمین پر کوئی ایسا طبقہ نہیں ہے کہ جن کے تہوار یا ایام جشن نہ ہوں، دین اسلام میں بھی دودن ایسے رکھے گئے ہیں ایک کو عید الفطر اور ایک کو عید الاضحی کہتے ہیں، یہ دودن مسلمانوں کے علمی ومذہبی تہوار ہیں عید الفطر رمضان المبارک کے اختتام پر یکم شوال کو منائی جاتی ہے رمضان المبارک کے ایام جو بندہ مؤمن نے نہایت اہتمام اور ذمہ داری سے گزارے۔

عیدالفطر چوں کہ ایک مبارک دن ہے۔ اس لیے اس دن چند باتیں مسنون ہیں، جن کا اہتمام ہونا چاہیے۔ شرعی پابندی کے مطابق اپنی آرائش و زیبائش کرنا، غسل کرنا، مسواک کرنا، اچھے صاف ستھرے کپڑے پہننا، خوشبو کا استعمال کرنا، صبح جلدی اٹھنا، عید گاہ کی طرف نکلنا، عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے کوئی میٹھی چیز کھجور وغیرہ کھانا، عید کی نما ز ادا کرنے سے پہلے صدقۃ الفطر ادا کرنا، جس راستے سے عید گا ہ کے لیے جائے تو واپسی کے لیے دوسرراستہ ا ختیار کرے، راستے میں اللہ کی بڑائی اور کبریائی کے الفاظ ادا کرتے ہوئے جانا۔

اللہ والوں نے امت کے افراد کو اپنے اپنے انداز میں یوم عید پر رہنمائی اور تنبیہ فرمائی ہے۔ مثلاً عید اس کی نہیں ، جو صرف نئے کپڑے پہن لے، عید تو اس کی ہے جو خوفِ خدا کا دھیان رکھے، عید اس کی نہیں ہے جو خوشبوؤں میں بسا ہوا ہو، عید اس شخص کی ہے جو توبہ و استغفار کرے، عید اس شخص کی نہیں، جو دنیا کی زیب و زینت سے آراستہ وپیراستہ ہو، عید تو اس شخص کی ہے جس کے پاس تو شۂ آخرت ہو، عید اس شخص کی نہیں، جو عمدہ سواریوں پر سوار ہو، بلکہ عید تو اس شخص کی ہے جو گناہوں اور معصیت کو چھوڑ دے ،عید اس شخص کی نہیں، جو اعلیٰ بچھو نوں اور عمدہ قالین پر بیٹھے، بلکہ عید تو اس شخص کی ہے، جو پل صراط سے بآسانی گزر جانے کی فکر و سعی کرے، عید اس کی نہیں جو روز عید غناء و موسیقی سنے، عید تو اس شخص کی ہے جو روزِعید بھی تلاوت قرآن کرے اور ذکر الہٰی میں مصروف رہے۔

عید کا مقصد رضائےالٰہی کا حصول ہے پھر عید کے اجتماعات سے مسلمانوں کی اجتماعی شان و شوکت اور اتحاد و اتفاق کا بھی اظہار ہوتا ہے، جب وہ مسلمان جن کا مختلف ثقافتوں، تہذیبوں، علاقوں اور زبانوں سے ہوتا ہے، اس موقع پر عیدگاہ میں جمع ہوتے اور ہر ایک سے اظہار مسرت کے لیے ملتے اور مبارک باد دیتے ہیں۔

وہ اللہ رب العزت کے بندے اور محمد مصطفی ﷺ کے امتی ہونے کی حیثیت سے کاندھے سے کاندھا ملاکر اللّٰہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ء کرتے ہیں، دوگانہ ادا کرتے ہیں، خطبہ مسنونہ سنتے ہیں ،پھر اللہ کی حمد و ثناء اور اس کی کبریائی کا ترانہ پڑھتے ہوئے تمام رنج و غم بھلا کر ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں۔

مصافحہ کرتے ہیں عید کی مبارک باد دیتے ہیں، دعائیں دیتے ہیں، یہی عید کا پیغام ہے کہ ہم سب نفرتیں اور عداوتیں مٹاکر ملت واحد بن جائیں عید کے دن کا تقاضا یہی ہے کہ ہم تجدید عہد کریں، تجدید وفا کریں، توبہ کریں، اپنی غلطیوں پر معافی کے طلب گار رہیں۔

Share This:

اسلامی مضامین

  • 20  مارچ ،  2026

رمضان کا مبارک مہینہ اپنی تمام تر برکتوں، رحمتوں، مغفرتوں، فضیلتوں سعادتوں کے ساتھ آج اختتام پذیر ہو رہا ہے۔

  • 19  مارچ ،  2026

ماہِ صیام جس کا گیارہ مہینے سے انتظار تھا، وہ آیا اور ہوا کے ایک خوشگوار جھونکے کی مانند ہمیں ہر نعمتِ خداوندی سے سرفراز...

  • 18  مارچ ،  2026

’’رمضان المبارک‘‘ نیکیوں کا موسم بہار، ایک عظیم ماہِ مبارک ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔

  • 17  مارچ ،  2026

اس ایک رات میں عبادت کا اجر و ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت و ریاضت سے بڑھ کر ہے۔

  • 16  مارچ ،  2026

رمضان کے قیمتی اوقات میں سے ایک وقت ہے لیلۃ القدر، مرتبے والی اور عظمت والی رات۔

  • 16  مارچ ،  2026

قرآن اللہ کا آخری کلام ہے۔ اللہ نے انسانوں کو جو علم دینا تھا، وہ قرآن کے اندر آخری مرتبہ مکمل شکل میں دے دیا گیا۔

  • 15  مارچ ،  2026

احادیثِ مبارکہ کے مطابق ماہِ رمضان کو بنیادی طور پر تین عشروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

  • 14  مارچ ،  2026

رمضان کریم، ماہِ صیام رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا ماہِ مبارک، اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں سمیت ہم سے رخصت ہونے کو...

  • 13  مارچ ،  2026

بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں اس ماہِ مبارک میں طاعت و عبادت کا موقع نصیب ہوا۔

  • 12  مارچ ،  2026

احادیثِ نبویﷺ میں اس پر بے شمار اجر وثواب کی نوید بیان کی گئی ہے

  • 11  مارچ ،  2026

حضرت علی ؓ امت کی تاسیسی شخصیات اور درخشاں و تابندہ ہستیوں میں سے ایک ہیں۔

  • 11  مارچ ،  2026

شیرِیزداں، شاہِ مرداں، سیّدنا علی مرتضیٰؓ نے عہدِ نبویؐ کے غزوات اور جنگی معرکوں میں جرأت و شجاعت کی تاریخ رقم کی۔

  • 10  مارچ ،  2026

الحمد للہ، اب ہم ماہ ِرمضان کے آخری عشرے میں داخل ہورہے ہیں، یہ وہ عشرہ ہے جس کی طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش کا حکم ہے۔

  • 09  مارچ ،  2026

ڈاکٹر حافظ محمد ثانینبیِ رحمت، محسنِ انسانیت،سرورِ کائنات، ختمی مرتبت، حضرت محمد ﷺ کی نمایاں ترین خصوصیت، آپ ﷺ کی’’...

  • 08  مارچ ،  2026

اور قومِ ثمود کو اللہ نے یوں نیست و نابود کردیا کہ گویا وہاں وہ کبھی آباد ہی نہ تھے۔ ۔

  • 07  مارچ ،  2026

یوم الفرقان، غزوۂ بدر اسلامی تاریخ کا عظیم اور تاریخ ساز معرکہ ہے۔

  • 07  مارچ ،  2026

یہ معرکہ مشر کین مکّہ کی عبرت ناک شکست اور اہل ایمان کی فتح مبین پر ختم ہوا۔

  • 07  مارچ ،  2026

آنحضرت ﷺ کی دیگر ازواجِ مطہراتؓ میں ان ساری باتوں کا پورا پورا جواب ہمیں حضرت عائشہ صدیقہ ؓہی کی زندگی میں نظر آتا ہے۔

  • 07  مارچ ،  2026

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جیسے ہی میں نے ہوش سنبھال کر والد کو دیکھا، انہیں مسلمان پایا۔

  • 06  مارچ ،  2026

’’نمازِتراویح‘‘ نبی کریم ﷺ کی سنّت ہے اور احادیث مبارکہ میں اس کی فضیلت آئی ہے۔