رمضان کے بعد زندگی کے شب و روز کیسے گزاریں؟

رمضان کے بعد زندگی کے شب و روز کیسے گزاریں؟

پروفیسر خالد اقبال جیلانی

رمضان کا مبارک مہینہ اپنی تمام تر برکتوں، رحمتوں، مغفرتوں، فضیلتوں سعادتوں کے ساتھ آج اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ رمضان دلوں میں گناہوں کی تاریکیوں کے عالم میں ایک روشنی کی کرن بن کر آیا۔ اس کی پر نور راتوں اور پرسکون دنوں کے سائے میں بے قراردلوں کو قرار آگیا۔ اس میں کی گئی عبادتوں نے امید کے بجھتے چراغوں کو ایک نئی زندگی بخشی۔ تو بہ و استغفار کے سائبانوں نے گناہوں کی دھوپ میں جلتے ہوئے اہل ایمان کو پناہ دی۔

یہ بات بھی قابل صد شکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روزے کی جس عظیم عبادت کی سعادت ہمیں اس ماہ مبارک کے وسیلے سے عطا کی تھی اسے ہم نے اپنی جسمانی و نفسانی خواہشوں اور ایمانی طاقت کے سہارے پوری کرنے کی اپنی سی کوشش ضرور کی، مگر آج وہ وقت آچکا ہے کہ جب ہم اس ماہ مبارک کو الوداع کہہ رہے ہیں۔

جب ہم کسی کو خود سے جدا ہوتے وقت الوداع کہتے ہیں تو اس کا مقصد اس جانے والے سے اپنی بے پناہ محبت اور انسیت کا اظہار کرنا ہوتا ہے اور یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ اس کی غیر موجودگی ہم پر بہت شاق گزرے گی کیوں اس کی رفاقت ہمارے لئے ایک نعمت تھی جس سے ہم فیض یاب ہو رہے تھے، اس لئے ہم اس کی واپسی کے مشتاق رہیں گے۔ ان الوداعی لمحات میں اس جانے والے کے ساتھ گزارے گئے خوشگوار روز و شب کی یاد تازہ کی جاتی ہے اور دعا کی جاتی ہے کہ اللہ ہمیں پھر یہ قربت کی نعمت نصیب ہو۔

بس ہمارا یہی حال رمضان کو الوداع کرتے وقت ہو رہا ہے۔ اس ماہِ مبارک کی ایک ایک ساعت جس کے طفیل ہم سب اپنی پریشانیاں اور مصیبتیں بھول چکے تھے اور اللہ کی ذات سے پر امید تھے کہ وہ اس ماہ مبارک میں ہماری مغفرت کے ساتھ ساتھ دنیا کی پریشانیاں بھی دور فرمائے گا۔ اس ماہ مبارک میں کی گئی اپنی عبادتوں کے طفیل دلوں میں امید کی قوی شمعیں روشن ہو گئی ہیں کہ اللہ تعالیٰ بڑا ہی غفورالرحیم ہے، وہ ہماری مغفرت فرمائے گا اور ہماری مشکلات کو آسان فرمائے گا۔

در اصل رمضان کی حیثیت اہل ایمان کے لئے ایک روحانی ورکشاپ کی سی ہے، اس ورکشاپ میں ایک معینہ مدت میں باہر کی دنیا سے لاتعلق ہو کر کچھ روحانی ایکسر سائز کرائی جاتی ہیں، تاکہ اس کے بعد اس پریکٹس کے ذریعے حاصل کردہ روحانی صلاحیتوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں استعمال کیا جاسکے۔

زندگی کے بدلتے رنگوں اور اتر تے چڑھتے ماحول میں اپنی روحانی طاقت کا ہر وقت استعمال کروانے کی غرض سے ہی اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کی یہ ورکشاپ مختلف موسموں میں آتی جاری رکھی ہے، اسے مختلف موسموں میں رکھ کر روزے داروں کو ہر موسم کے دوران بھوک پیاس کا احساس دلانے کا یہ موثر طریقہ ہے۔

رمضان کے رخصت ہونے کے اس موقع پر اور رمضان کی آخری مبارک اور مسعود و مغفور ساعتوں میں ہر صاحب ایمان روزے دار کا یہ فرض ہے کہ اس بات کا عہد کرے کہ وہ یہ سلسلہ آج رمضان کی آخری ساعت کے ختم ہوتے ہی ختم نہیں کرے گا ،بلکہ وہ رمضان میں حاصل ہونے والی روحانی دولت، ایمانی نعمت اور ہدایت و نیکیوں پر آخری سانس تک قائم اور ثابت قدم رہے گا۔

اگر رمضان کے بعد بھی ہم اپنی اسی روحانی و ایمانی طاقت کا استعمال کر تے ہوئے برائیوں کے مقابلے میں نیکیوں کے راستے پر قدم بڑھاتے رہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ دوران رمضان تو ہم شیطان کے چنگل سے بچنے میں کامیاب ہو گئے مگر بعد میں اس کے سامنے ہتھیا ر ڈال دیں۔

اب جبکہ رمضان کی یہ مخصوص عبادت اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے، یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک لمحہ کے لئے یہ غور و فکر کیاجائے کہ کیا ہم اس برس ماہِ رمضان کا حق ادا کرسکے؟ کیا ہم اپنے روزوں کی ادائیگی کر کے وہ مقصد حاصل کر سکے کہ جو اللہ تعالیٰ نے روزوں سے ہمارے لئے متعین فرمایا تھا، کیا ہم اپنی ان کوتاہیوں اور خطائوں سے بخوبی واقف ہیں کہ جو اس ماہِ مبارک میں ہم سے سر زد ہوئیں، تاکہ ہم جلد ہی ان کی تلافی اور کفارہ ادا کرسکیں ۔اس سے قبل کہ موت کا فرشتہ ہمارے دروازے پر دستک دے اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب ہم اپنے رمضان کے ہر ہر عمل کا محاسبہ کریں۔

ہمیں غور کرنا چاہیے کہ روزہ رکھنے کے بعد ہم منزل تقویٰ سے قریب ہوئے یا نہیں جیسا کہ ظاہر ہے کہ روزے کا مقصد تقویٰ اور تزکیۂ نفس ہے جسے حاصل کر کے انسان فلاح پاسکتا ہے۔

سورۂ شمس میں ارشاد ہوا کہ ’’ جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک رکھا ،وہ کامیاب ہو گیا‘‘ تو کیا ہم اس رمضان میں اپنے نفس کو گناہوں سے پاک رکھ سکے۔ تزکیہ نفس کی منزلوں میں سب سے پہلی صبر و شکر کی منزل ہے جسے حاصل کرنے کے لئے روزہ ایک بہترین طریقہ ہے تو ا س رمضان میں ہم نے صبر کا کہاں کہاں اور کیسے مظاہرہ کیا۔ اس مہینے میں ہم کب کب اپنے خالق کے شکر گزار ہوئے۔ اس کا محاسبہ بھی رمضان کے بعد اپنی زندگی رمضان جیسی گزارنے میں مدد گار ہوگا۔

آئیے ہم اپنے آ پ سے وعدہ کریں کہ رمضان کے بعد بقیہ زندگی کو شرعی اصولوں کی پاسداری کے ساتھ گزاریں گے اور زندگی کے دیگر ایام و مراحل میں بھی اس کی پاسداری کریں گے، تاکہ ہم میں مثبت تبدیلی پیدا ہو۔

رمضان کے اختتام پر ہمیں آج کے دن صمیم قلب کے ساتھ یہ دعا بھی ضرور کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں اور عالم اسلام کو فتح و نصرت، ا سلام کو غلبہ عطا فرمائے اور امّت کو متحد فرمائے۔(آمین)

Share This:

اسلامی مضامین

  • 21  مارچ ،  2026

’’عیدالفطر‘‘ اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے اجر اور مزدوری وصول کرنے کادن ہے۔

  • 19  مارچ ،  2026

ماہِ صیام جس کا گیارہ مہینے سے انتظار تھا، وہ آیا اور ہوا کے ایک خوشگوار جھونکے کی مانند ہمیں ہر نعمتِ خداوندی سے سرفراز...

  • 18  مارچ ،  2026

’’رمضان المبارک‘‘ نیکیوں کا موسم بہار، ایک عظیم ماہِ مبارک ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔

  • 17  مارچ ،  2026

اس ایک رات میں عبادت کا اجر و ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت و ریاضت سے بڑھ کر ہے۔

  • 16  مارچ ،  2026

رمضان کے قیمتی اوقات میں سے ایک وقت ہے لیلۃ القدر، مرتبے والی اور عظمت والی رات۔

  • 16  مارچ ،  2026

قرآن اللہ کا آخری کلام ہے۔ اللہ نے انسانوں کو جو علم دینا تھا، وہ قرآن کے اندر آخری مرتبہ مکمل شکل میں دے دیا گیا۔

  • 15  مارچ ،  2026

احادیثِ مبارکہ کے مطابق ماہِ رمضان کو بنیادی طور پر تین عشروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

  • 14  مارچ ،  2026

رمضان کریم، ماہِ صیام رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا ماہِ مبارک، اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں سمیت ہم سے رخصت ہونے کو...

  • 13  مارچ ،  2026

بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں اس ماہِ مبارک میں طاعت و عبادت کا موقع نصیب ہوا۔

  • 12  مارچ ،  2026

احادیثِ نبویﷺ میں اس پر بے شمار اجر وثواب کی نوید بیان کی گئی ہے

  • 11  مارچ ،  2026

حضرت علی ؓ امت کی تاسیسی شخصیات اور درخشاں و تابندہ ہستیوں میں سے ایک ہیں۔

  • 11  مارچ ،  2026

شیرِیزداں، شاہِ مرداں، سیّدنا علی مرتضیٰؓ نے عہدِ نبویؐ کے غزوات اور جنگی معرکوں میں جرأت و شجاعت کی تاریخ رقم کی۔

  • 10  مارچ ،  2026

الحمد للہ، اب ہم ماہ ِرمضان کے آخری عشرے میں داخل ہورہے ہیں، یہ وہ عشرہ ہے جس کی طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش کا حکم ہے۔

  • 09  مارچ ،  2026

ڈاکٹر حافظ محمد ثانینبیِ رحمت، محسنِ انسانیت،سرورِ کائنات، ختمی مرتبت، حضرت محمد ﷺ کی نمایاں ترین خصوصیت، آپ ﷺ کی’’...

  • 08  مارچ ،  2026

اور قومِ ثمود کو اللہ نے یوں نیست و نابود کردیا کہ گویا وہاں وہ کبھی آباد ہی نہ تھے۔ ۔

  • 07  مارچ ،  2026

یوم الفرقان، غزوۂ بدر اسلامی تاریخ کا عظیم اور تاریخ ساز معرکہ ہے۔

  • 07  مارچ ،  2026

یہ معرکہ مشر کین مکّہ کی عبرت ناک شکست اور اہل ایمان کی فتح مبین پر ختم ہوا۔

  • 07  مارچ ،  2026

آنحضرت ﷺ کی دیگر ازواجِ مطہراتؓ میں ان ساری باتوں کا پورا پورا جواب ہمیں حضرت عائشہ صدیقہ ؓہی کی زندگی میں نظر آتا ہے۔

  • 07  مارچ ،  2026

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جیسے ہی میں نے ہوش سنبھال کر والد کو دیکھا، انہیں مسلمان پایا۔

  • 06  مارچ ،  2026

’’نمازِتراویح‘‘ نبی کریم ﷺ کی سنّت ہے اور احادیث مبارکہ میں اس کی فضیلت آئی ہے۔