رمضان کے بعد زندگی کے شب و روز کیسے گزاریں؟
- 20 مارچ ، 2026
- Web Desk
- اسلامی مضامین
پروفیسر خالد اقبال جیلانی
رمضان کا مبارک مہینہ اپنی تمام تر برکتوں، رحمتوں، مغفرتوں، فضیلتوں سعادتوں کے ساتھ آج اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ رمضان دلوں میں گناہوں کی تاریکیوں کے عالم میں ایک روشنی کی کرن بن کر آیا۔ اس کی پر نور راتوں اور پرسکون دنوں کے سائے میں بے قراردلوں کو قرار آگیا۔ اس میں کی گئی عبادتوں نے امید کے بجھتے چراغوں کو ایک نئی زندگی بخشی۔ تو بہ و استغفار کے سائبانوں نے گناہوں کی دھوپ میں جلتے ہوئے اہل ایمان کو پناہ دی۔
یہ بات بھی قابل صد شکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روزے کی جس عظیم عبادت کی سعادت ہمیں اس ماہ مبارک کے وسیلے سے عطا کی تھی اسے ہم نے اپنی جسمانی و نفسانی خواہشوں اور ایمانی طاقت کے سہارے پوری کرنے کی اپنی سی کوشش ضرور کی، مگر آج وہ وقت آچکا ہے کہ جب ہم اس ماہ مبارک کو الوداع کہہ رہے ہیں۔
جب ہم کسی کو خود سے جدا ہوتے وقت الوداع کہتے ہیں تو اس کا مقصد اس جانے والے سے اپنی بے پناہ محبت اور انسیت کا اظہار کرنا ہوتا ہے اور یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ اس کی غیر موجودگی ہم پر بہت شاق گزرے گی کیوں اس کی رفاقت ہمارے لئے ایک نعمت تھی جس سے ہم فیض یاب ہو رہے تھے، اس لئے ہم اس کی واپسی کے مشتاق رہیں گے۔ ان الوداعی لمحات میں اس جانے والے کے ساتھ گزارے گئے خوشگوار روز و شب کی یاد تازہ کی جاتی ہے اور دعا کی جاتی ہے کہ اللہ ہمیں پھر یہ قربت کی نعمت نصیب ہو۔
بس ہمارا یہی حال رمضان کو الوداع کرتے وقت ہو رہا ہے۔ اس ماہِ مبارک کی ایک ایک ساعت جس کے طفیل ہم سب اپنی پریشانیاں اور مصیبتیں بھول چکے تھے اور اللہ کی ذات سے پر امید تھے کہ وہ اس ماہ مبارک میں ہماری مغفرت کے ساتھ ساتھ دنیا کی پریشانیاں بھی دور فرمائے گا۔ اس ماہ مبارک میں کی گئی اپنی عبادتوں کے طفیل دلوں میں امید کی قوی شمعیں روشن ہو گئی ہیں کہ اللہ تعالیٰ بڑا ہی غفورالرحیم ہے، وہ ہماری مغفرت فرمائے گا اور ہماری مشکلات کو آسان فرمائے گا۔
در اصل رمضان کی حیثیت اہل ایمان کے لئے ایک روحانی ورکشاپ کی سی ہے، اس ورکشاپ میں ایک معینہ مدت میں باہر کی دنیا سے لاتعلق ہو کر کچھ روحانی ایکسر سائز کرائی جاتی ہیں، تاکہ اس کے بعد اس پریکٹس کے ذریعے حاصل کردہ روحانی صلاحیتوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں استعمال کیا جاسکے۔
زندگی کے بدلتے رنگوں اور اتر تے چڑھتے ماحول میں اپنی روحانی طاقت کا ہر وقت استعمال کروانے کی غرض سے ہی اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کی یہ ورکشاپ مختلف موسموں میں آتی جاری رکھی ہے، اسے مختلف موسموں میں رکھ کر روزے داروں کو ہر موسم کے دوران بھوک پیاس کا احساس دلانے کا یہ موثر طریقہ ہے۔
رمضان کے رخصت ہونے کے اس موقع پر اور رمضان کی آخری مبارک اور مسعود و مغفور ساعتوں میں ہر صاحب ایمان روزے دار کا یہ فرض ہے کہ اس بات کا عہد کرے کہ وہ یہ سلسلہ آج رمضان کی آخری ساعت کے ختم ہوتے ہی ختم نہیں کرے گا ،بلکہ وہ رمضان میں حاصل ہونے والی روحانی دولت، ایمانی نعمت اور ہدایت و نیکیوں پر آخری سانس تک قائم اور ثابت قدم رہے گا۔
اگر رمضان کے بعد بھی ہم اپنی اسی روحانی و ایمانی طاقت کا استعمال کر تے ہوئے برائیوں کے مقابلے میں نیکیوں کے راستے پر قدم بڑھاتے رہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ دوران رمضان تو ہم شیطان کے چنگل سے بچنے میں کامیاب ہو گئے مگر بعد میں اس کے سامنے ہتھیا ر ڈال دیں۔
اب جبکہ رمضان کی یہ مخصوص عبادت اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے، یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک لمحہ کے لئے یہ غور و فکر کیاجائے کہ کیا ہم اس برس ماہِ رمضان کا حق ادا کرسکے؟ کیا ہم اپنے روزوں کی ادائیگی کر کے وہ مقصد حاصل کر سکے کہ جو اللہ تعالیٰ نے روزوں سے ہمارے لئے متعین فرمایا تھا، کیا ہم اپنی ان کوتاہیوں اور خطائوں سے بخوبی واقف ہیں کہ جو اس ماہِ مبارک میں ہم سے سر زد ہوئیں، تاکہ ہم جلد ہی ان کی تلافی اور کفارہ ادا کرسکیں ۔اس سے قبل کہ موت کا فرشتہ ہمارے دروازے پر دستک دے اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب ہم اپنے رمضان کے ہر ہر عمل کا محاسبہ کریں۔
ہمیں غور کرنا چاہیے کہ روزہ رکھنے کے بعد ہم منزل تقویٰ سے قریب ہوئے یا نہیں جیسا کہ ظاہر ہے کہ روزے کا مقصد تقویٰ اور تزکیۂ نفس ہے جسے حاصل کر کے انسان فلاح پاسکتا ہے۔
سورۂ شمس میں ارشاد ہوا کہ ’’ جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک رکھا ،وہ کامیاب ہو گیا‘‘ تو کیا ہم اس رمضان میں اپنے نفس کو گناہوں سے پاک رکھ سکے۔ تزکیہ نفس کی منزلوں میں سب سے پہلی صبر و شکر کی منزل ہے جسے حاصل کرنے کے لئے روزہ ایک بہترین طریقہ ہے تو ا س رمضان میں ہم نے صبر کا کہاں کہاں اور کیسے مظاہرہ کیا۔ اس مہینے میں ہم کب کب اپنے خالق کے شکر گزار ہوئے۔ اس کا محاسبہ بھی رمضان کے بعد اپنی زندگی رمضان جیسی گزارنے میں مدد گار ہوگا۔
آئیے ہم اپنے آ پ سے وعدہ کریں کہ رمضان کے بعد بقیہ زندگی کو شرعی اصولوں کی پاسداری کے ساتھ گزاریں گے اور زندگی کے دیگر ایام و مراحل میں بھی اس کی پاسداری کریں گے، تاکہ ہم میں مثبت تبدیلی پیدا ہو۔
رمضان کے اختتام پر ہمیں آج کے دن صمیم قلب کے ساتھ یہ دعا بھی ضرور کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں اور عالم اسلام کو فتح و نصرت، ا سلام کو غلبہ عطا فرمائے اور امّت کو متحد فرمائے۔(آمین)
اسلامی مضامین
’’عیدالفطر‘‘ اعمال کے جائزے اور عزمِ نو کا دن
- 21 مارچ ، 2026
’’عیدالفطر‘‘ اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے اجر اور مزدوری وصول کرنے کادن ہے۔
ماہِ رمضان کے بعد معمولاتِ زندگی اور ہماری ذمہ داریاں
- 19 مارچ ، 2026
ماہِ صیام جس کا گیارہ مہینے سے انتظار تھا، وہ آیا اور ہوا کے ایک خوشگوار جھونکے کی مانند ہمیں ہر نعمتِ خداوندی سے سرفراز...
رمضان المبارک جہنم سے نجات کا مہینہ
- 18 مارچ ، 2026
’’رمضان المبارک‘‘ نیکیوں کا موسم بہار، ایک عظیم ماہِ مبارک ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔
’’لیلۃُ القَدر‘‘ ربِّ ذُوالجلال کے حضور توبہ ومُناجات اور دعاؤں کی قبولیت کے مقدّس و بابرکت لمحات
- 17 مارچ ، 2026
اس ایک رات میں عبادت کا اجر و ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت و ریاضت سے بڑھ کر ہے۔
شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر
- 16 مارچ ، 2026
رمضان کے قیمتی اوقات میں سے ایک وقت ہے لیلۃ القدر، مرتبے والی اور عظمت والی رات۔
قرآنِ حکیم اور ہماری زندگی
- 16 مارچ ، 2026
قرآن اللہ کا آخری کلام ہے۔ اللہ نے انسانوں کو جو علم دینا تھا، وہ قرآن کے اندر آخری مرتبہ مکمل شکل میں دے دیا گیا۔
عشرہ نجات کی پرنور، بیش قیمت ساعات اور ہماری غلط ترجیحات
- 15 مارچ ، 2026
احادیثِ مبارکہ کے مطابق ماہِ رمضان کو بنیادی طور پر تین عشروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
الوداع ماہ رمضان الوداع
- 14 مارچ ، 2026
رمضان کریم، ماہِ صیام رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا ماہِ مبارک، اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں سمیت ہم سے رخصت ہونے کو...
رمضان المبارک کے آخری ایام کی قدر کریں
- 13 مارچ ، 2026
بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں اس ماہِ مبارک میں طاعت و عبادت کا موقع نصیب ہوا۔
اعتکاف کے فضائل و احکام
- 12 مارچ ، 2026
احادیثِ نبویﷺ میں اس پر بے شمار اجر وثواب کی نوید بیان کی گئی ہے
سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ: وفاداری و جاں نثاری کا بے مثال نمونہ
- 11 مارچ ، 2026
حضرت علی ؓ امت کی تاسیسی شخصیات اور درخشاں و تابندہ ہستیوں میں سے ایک ہیں۔
حضرت علی ابن ابی طالب ؓ: سیرت و کردار کا روشن اور تاریخ سازباب
- 11 مارچ ، 2026
شیرِیزداں، شاہِ مرداں، سیّدنا علی مرتضیٰؓ نے عہدِ نبویؐ کے غزوات اور جنگی معرکوں میں جرأت و شجاعت کی تاریخ رقم کی۔
اعتکاف: ماہِ صیام کی ایک باعث اجر و فضیلت عبادت
- 10 مارچ ، 2026
الحمد للہ، اب ہم ماہ ِرمضان کے آخری عشرے میں داخل ہورہے ہیں، یہ وہ عشرہ ہے جس کی طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش کا حکم ہے۔
حُسنِ سلوک، عفوودرگزر، بُردباری و رواداری کا تاریخ ساز مظہر ’’واقعہ فتحِ مکّہ‘‘
- 09 مارچ ، 2026
ڈاکٹر حافظ محمد ثانینبیِ رحمت، محسنِ انسانیت،سرورِ کائنات، ختمی مرتبت، حضرت محمد ﷺ کی نمایاں ترین خصوصیت، آپ ﷺ کی’’...
قصہ قومِ ثمود اور حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا
- 08 مارچ ، 2026
اور قومِ ثمود کو اللہ نے یوں نیست و نابود کردیا کہ گویا وہاں وہ کبھی آباد ہی نہ تھے۔ ۔
’’غزوہ بدر‘‘ رسولﷺ کی عسکری و دفاعی حکمتِ عملی کا عظیم مظہر
- 07 مارچ ، 2026
یوم الفرقان، غزوۂ بدر اسلامی تاریخ کا عظیم اور تاریخ ساز معرکہ ہے۔
’’یوم الفرقان‘‘ جب اسلام غالب اور کفر مغلوب ہوا
- 07 مارچ ، 2026
یہ معرکہ مشر کین مکّہ کی عبرت ناک شکست اور اہل ایمان کی فتح مبین پر ختم ہوا۔
کاشانہ نبوت کی ملکہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
- 07 مارچ ، 2026
آنحضرت ﷺ کی دیگر ازواجِ مطہراتؓ میں ان ساری باتوں کا پورا پورا جواب ہمیں حضرت عائشہ صدیقہ ؓہی کی زندگی میں نظر آتا ہے۔
’’حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ‘‘ سیرت و کردار کا بے مثال اور تاریخ سازباب
- 07 مارچ ، 2026
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جیسے ہی میں نے ہوش سنبھال کر والد کو دیکھا، انہیں مسلمان پایا۔
نماز تراویح رمضان المبارک کی اہم عبادت
- 06 مارچ ، 2026
’’نمازِتراویح‘‘ نبی کریم ﷺ کی سنّت ہے اور احادیث مبارکہ میں اس کی فضیلت آئی ہے۔