عشرہ نجات کی پرنور، بیش قیمت ساعات اور ہماری غلط ترجیحات

عشرہ نجات کی پرنور، بیش قیمت ساعات اور ہماری غلط ترجیحات

بلقیس متین، کراچی

احادیثِ مبارکہ کے مطابق ماہِ رمضان کو بنیادی طور پر تین عشروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ حضرت سلمان فارسیؓ سے مَروی ایک حدیثِ پاک میں رسول اکرم ﷺ نے شعبان کے آخری خطبۂ جمعہ میں رمضان کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ ’’یہ ایسا مہینہ ہے، جس کا پہلا حصّہ رحمت ہے، درمیانی حصّہ مغفرت اور آخری حصّہ جہنم سے نجات کا ہے۔‘‘

رمضان کو تین عشروں میں تقسم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کے بتائے گئے طریقے سے عبادات اور دُعائیں کی جائیں۔ حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی جائے، پھر اُس کے سامنے اپنا معاملہ پیش کیا جائے اور آخر میں اللہ تعالیٰ سےمغفرت کی درخواست کی جائے۔ اِسی طرح رمضان کے بھی آداب بتائے گئے ہیں۔

یوں تو ماہِ رمضان پورا ہی عبادت کا مہینہ ہے، لیکن اس میں عبادت کی ترتیب کچھ یوں ہے کہ پہلے عشرے میں ربّ کی رحمتوں سے فیض یاب ہو کر اُس کی جانب مائل ہوں۔ دوسرے عشرے میں اپنے گناہوں کو یاد کر کے شرمندہ ہوں، مغفرت طلب کریں اور آخری عشرےمیں رب کےحضور اپنی اصل فریاد یعنی جہنّم سے نجات اورجنّت کی طلب کی درخواست پیش کی جائے۔ اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ ایک مزدور سارا مہینہ مزدوری کرتا ہے اور آخر میں اپنی محنت کا معاوضہ طلب کرتا ہے۔

شبِ قدر: رمضان المبارک کا آخری عشرہ جہنّم سے نجات اور جنّت کے حصول کی کوشش کا بہترین موقع ہے۔ اس عشرے میں شبِ قدر آتی ہے، جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ یہ نزولِ قرآن کریم کی شب ہے اور اس رات کی عبادت کی بے حساب فضیلت ہے۔ اِسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حُکم دیا گیا ہے۔ ماہِ رمضان المبارک اور خصوصاً آخری عشرہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم اس کے فیوض و برکات سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہوں۔

ماہِ مقدّس میں اپنے دِل و دماغ پاک کریں۔ رُوح اور نفس کا تزکیہ کریں اور خواہشات پر قابو پاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ نیکیاں سمیٹنے کی کوشش کریں، لیکن افسوس، صد افسوس کہ ہم میں سے اکثر خواتین اس آخری، انتہائی قیمتی عشرے کو عید کی تیاریوں، گھر کی صفائی سُتھرائی اور غیر ضروری اشیاء کی خریداری کے لیے بازاروں کے چکروں میں ضایع کر دیتی ہیں، جب کہ خواتین کاعام دِنوں میں بھی بازاروں میں گھومنا پھرنا معیوب قرار دیا گیا ہے۔

اِس ضمن میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔’’اور تم اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور قدیم زمانۂ جاہلیت کے دستور کے موافق مت پھرو اور تم نمازوں کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ دیا کرو اور اللہ کا اور اس کے رسولﷺ کا کہنا مانو۔ (احزاب 33:)

عشرۂ نار ِجہنم سے نجات کے قیمتی لمحات، جو تلاوتِ قرآنِ پاک، مطالعۂ حدیث، ذکر اذکار، استغفار اور درود پاک پڑھنے میں گزارنے چاہئیں، وہ غیر ضروری کاموں میں صرف کر دیئے جاتے ہیں، حالاں کہ اگر گھر کی صفائی سُتھرائی، شاپنگ وغیرہ رمضان المبارک کے آغاز سے قبل ہی مکمل کر لی جائے، تو اس مقدّس مہینے کے مبارک دن، رات اپنی دُنیا اور آخرت کی بھلائی کے کاموں اور دُعاؤں میں بسر ہو سکتے ہیں۔

اعتکاف: رمضان کے آخری عشرے کو اعتکاف میں گزارنے کا حُکم دیا گیا۔ یعنی اس عشرے کے دن، رات صرف اور صرف عبادات میں گزارے جانےکا حُکم ہے۔ حضرات تو مساجد میں اعتکاف کا اہتمام کرتے ہیں، جب کہ خواتین کو گھر کے کسی ایک گوشے میں اعتکاف کی نیّت سے عبادت کا حُکم دیا گیا ہے، چوں کہ تمام خواتین کے لیے گھر اور بچّوں کی ذمّے داریوں کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا، اس لیے انہیں یہ سہولت حاصل ہے کہ پورے دس دن نہ سہی، روزانہ وقت کا کچھ حصّہ اعتکاف کی نیّت سے گزار کر اس کا ثواب حاصل کر سکتی ہیں۔ اِسی طرح اگر گھر میں کسی بزرگ خاتون نے اعتکاف کا اہتمام کیا ہو، تو اُن کی خدمت سے بھی بہت زیادہ اجر و ثواب حاصل کیا جا سکتا ہے۔

لیلتہ الجائزہ: رمضان المبارک کے بابرکت اور مقدّس مہینےکے اختتام پر’’لیلۃ الجائزہ‘‘ یعنی شبِ عیدالفطر آتی ہے، جوکہ’’چاند رات‘‘ بھی کہلاتی ہے۔ یہ رات خصوصی برکات، رحمتوں، بخشش و مغفرت اور نہایت فضیلت کی حامل ہے۔ اس رات میں اللہ تبارک و تعالیٰ ماہِ صیام کی تمام راتوں سے زیادہ سخی اور فیّاض ہوکر اپنے بندوں کی مغفرت فرماتا ہے۔

لیلتہ الجائزہ میں اللہ تعالیٰ فرشتوں سے دریافت فرماتا ہے۔ ’’اُس مزدور کی اُجرت کیا ہے، جس نے اپنی مزدوری پوری کر لی؟‘‘ تو فرشتےعرض کرتے ہیں۔’’اُسے پوری پوری جزا اور اُجرت ملنی چاہیے۔‘‘ اس پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔’’اے فرشتو! تم گواہ رہو، مَیں نے اُمّتِ محمدیہ ﷺ کے روزے داروں کو اُجرت دے دی (یعنی روزے داروں کو بخش دیا)۔‘‘

عیدالفطر کے دن کی سعادتیں، برکات اور رحمتیں بجا ہیں، مگر ان کا دُرست حق دار وہی ہے، جس نے رمضان المبارک کے تقاضے پورے کیے ہوں اور جس نے اس کے نور سے اپنا دل منوّر کیا ہو۔ چناں چہ اس دن کی چاشنی صرف روزے دار ہی محسوس کرسکتے ہیں، کیوں کہ اللہ عزوجل نے یہ خوش گوار دن روزے داروں ہی کو بطور بدلہ عطا فرمایا ہے۔

مگر عام مشاہدہ ہےکہ رمضان المبارک میں کی جانے والی اپنی عبادات اور روزوں کی اُجرت وصول کرنے کی بجائے لیلتہ الجائزہ کو لوگ، بالخصوص خواتین شاپنگ مالز میں گھومنے پھرنے، چوڑیاں پہننے اورمنہدی لگوانےمیں گزاردیتی ہیں اوراس طرح وہ اس عظیم رات کے فیوض و برکات سے محروم رہتی ہیں، جو سراسر بدنصیبی ہے۔

Share This:

اسلامی مضامین

  • 21  مارچ ،  2026

’’عیدالفطر‘‘ اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے اجر اور مزدوری وصول کرنے کادن ہے۔

  • 20  مارچ ،  2026

رمضان کا مبارک مہینہ اپنی تمام تر برکتوں، رحمتوں، مغفرتوں، فضیلتوں سعادتوں کے ساتھ آج اختتام پذیر ہو رہا ہے۔

  • 19  مارچ ،  2026

ماہِ صیام جس کا گیارہ مہینے سے انتظار تھا، وہ آیا اور ہوا کے ایک خوشگوار جھونکے کی مانند ہمیں ہر نعمتِ خداوندی سے سرفراز...

  • 18  مارچ ،  2026

’’رمضان المبارک‘‘ نیکیوں کا موسم بہار، ایک عظیم ماہِ مبارک ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔

  • 17  مارچ ،  2026

اس ایک رات میں عبادت کا اجر و ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت و ریاضت سے بڑھ کر ہے۔

  • 16  مارچ ،  2026

رمضان کے قیمتی اوقات میں سے ایک وقت ہے لیلۃ القدر، مرتبے والی اور عظمت والی رات۔

  • 16  مارچ ،  2026

قرآن اللہ کا آخری کلام ہے۔ اللہ نے انسانوں کو جو علم دینا تھا، وہ قرآن کے اندر آخری مرتبہ مکمل شکل میں دے دیا گیا۔

  • 14  مارچ ،  2026

رمضان کریم، ماہِ صیام رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا ماہِ مبارک، اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں سمیت ہم سے رخصت ہونے کو...

  • 13  مارچ ،  2026

بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں اس ماہِ مبارک میں طاعت و عبادت کا موقع نصیب ہوا۔

  • 12  مارچ ،  2026

احادیثِ نبویﷺ میں اس پر بے شمار اجر وثواب کی نوید بیان کی گئی ہے

  • 11  مارچ ،  2026

حضرت علی ؓ امت کی تاسیسی شخصیات اور درخشاں و تابندہ ہستیوں میں سے ایک ہیں۔

  • 11  مارچ ،  2026

شیرِیزداں، شاہِ مرداں، سیّدنا علی مرتضیٰؓ نے عہدِ نبویؐ کے غزوات اور جنگی معرکوں میں جرأت و شجاعت کی تاریخ رقم کی۔

  • 10  مارچ ،  2026

الحمد للہ، اب ہم ماہ ِرمضان کے آخری عشرے میں داخل ہورہے ہیں، یہ وہ عشرہ ہے جس کی طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش کا حکم ہے۔

  • 09  مارچ ،  2026

ڈاکٹر حافظ محمد ثانینبیِ رحمت، محسنِ انسانیت،سرورِ کائنات، ختمی مرتبت، حضرت محمد ﷺ کی نمایاں ترین خصوصیت، آپ ﷺ کی’’...

  • 08  مارچ ،  2026

اور قومِ ثمود کو اللہ نے یوں نیست و نابود کردیا کہ گویا وہاں وہ کبھی آباد ہی نہ تھے۔ ۔

  • 07  مارچ ،  2026

یوم الفرقان، غزوۂ بدر اسلامی تاریخ کا عظیم اور تاریخ ساز معرکہ ہے۔

  • 07  مارچ ،  2026

یہ معرکہ مشر کین مکّہ کی عبرت ناک شکست اور اہل ایمان کی فتح مبین پر ختم ہوا۔

  • 07  مارچ ،  2026

آنحضرت ﷺ کی دیگر ازواجِ مطہراتؓ میں ان ساری باتوں کا پورا پورا جواب ہمیں حضرت عائشہ صدیقہ ؓہی کی زندگی میں نظر آتا ہے۔

  • 07  مارچ ،  2026

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جیسے ہی میں نے ہوش سنبھال کر والد کو دیکھا، انہیں مسلمان پایا۔

  • 06  مارچ ،  2026

’’نمازِتراویح‘‘ نبی کریم ﷺ کی سنّت ہے اور احادیث مبارکہ میں اس کی فضیلت آئی ہے۔