حضرت علی ابن ابی طالب ؓ: سیرت و کردار کا روشن اور تاریخ سازباب
- 11 مارچ ، 2026
- Web Desk
- اسلامی مضامین
ڈاکٹر حافظ محمد ثانی
خلیفۂ راشد، دامادِ پیمبر، امیرالمؤمنین، حیدرِکرّار، جوانانِ جنّت کے سردار، سیّدنا حسنؓ و حسینؓ کے والدِ گرامی، ہاشمی و مُطلبی، خاتونِ جنّت سیّدہ فاطمۃ الزہراءؓ کے شوہرِ نامدار، علومِ نبویؐ کے امین، عشرۂ مبشرہؓ کے بزم نشین، شیرِ خدا، ابو تراب سیّدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کی ذاتِ گرامی جرأت و شجاعت، ہمت وبہادری اور سیرت و کردار کا ایک قابلِ فخر اور تاریخ ساز باب ہے۔
’’بابُ العلم‘‘ سیّدنا علی مرتضیٰؓ کی سیرت کا ایک تاریخ ساز پہلو آپ کی جرأت و شجاعت، استقامت و پامردی اور بہادری و دلیری ہے۔ اس حوالے سے آپؓ اسلام کی پوری تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ ہجرتِ مدینہ کے موقع پر رسالت مآبﷺ نے آپؓ کو مکے میں امین اور اپنا نائب مقرر فرمایا۔
حضرت علی مرتضیٰؓ کو اپنے فرشِ اطہر پر استراحت کی سعادت بخشی۔ سیّدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کی عمر اس وقت بائیس، تئیس برس تھی۔ عالمِ شباب میں اپنی زندگی کو امتحان اور آزمائش میں ڈالنا اور قربانی کے لیے پیش کرنا بہادری اور جاں نثاری کا بے مثال کارنامہ ہے۔
رات بھر کاشانۂ نبویؐ پر اعدائے اسلام، کفار و مشرکین کا محاصرہ قائم رہا اور اس شدید خطرے کی حالت میں آپؓ نہایت اطمینان و سکون کے ساتھ محو استراحت رہے۔ صبح نمودار ہونے کے بعد جب کفار و مشرکین گھرکے اندر داخل ہوئے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ شہنشاہِ دو عالم، سیّد عرب و عجم حضرت محمد ﷺ کا جاں نثار، حیدرِ کرّارؓ اپنے آقاﷺ پر قربان ہونے کے لیے سربکف محو استراحت ہے۔
شیرِیزداں، شاہِ مرداں، سیّدنا علی مرتضیٰؓ نے عہدِ نبویؐ کے غزوات اور جنگی معرکوں میں جرأت و شجاعت کی تاریخ رقم کی۔ ’’خیبر‘‘ یہودیوں کا مرکز تھا، جس کی جنگی، عسکری اور جغرافیائی لحاظ سے بڑی اہمیت تھی۔ یہاں ان کے متعدد مضبوط قلعے تھے۔ یہ جزیرۃ العرب میں یہودیوں کے جنگی مورچے اور ان کی فوجی چھاؤنیاں تھیں۔
خیبر کے قلعوں میں سے ایک ایک فتح ہوتا رہا، لیکن ان کا مرکزی قلعہ ’’القموص‘‘ ناقابل تسخیر معلوم ہو رہا تھا۔ خیبر میں یہودیوں کے چھ قلعے تھے اور بیس ہزار آزمودہ کار جنگ جُو، جن کے پاس وافر سامان رسد و حرب موجود تھا۔ محاصرہ کئی دن جاری رہا، نتیجے میں یکے بعد دیگرے پانچ قلعے فتح ہوئے، مگر چھٹا قلعہ ’’القموص‘‘ فتح ہونے میں نہیں آرہا تھا۔
یہ بڑا مستحکم اور عسکری لحاظ سے بنیادی اہمیت کا حامل تھا۔اس کا سردار ’’مرحب‘‘ عرب کے قابل ذکر اور نام ور بہادروں میں شمار ہوتا تھا۔ اس فوجی حصار اور مرکزی قلعے کی فتح میں تاخیر کو دیکھتے ہوئے رسالت مآب ﷺ نے فرمایا: ’’کل میں جنگ کا عَلم ایسے بہادر کو عطا کروں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح عطا فرمائے گا، جسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت ہے اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری، باب غزوۂ خیبر)
یہ بہت اہم اعلان تھا۔ قلعۂ قموص کی فتح، خیبر پر اسلام اور مسلمانوں کے غلبے کی نوید اور فاتح خیبر کے لیے اللہ اور اس کے رسول مکرم ﷺ کی رضا و خوش نودی اور محبوبیت کی ابدی سند تھی۔ امام الانبیاء، سیدالمرسلین، ہادی عالم حضرت محمد ﷺ کے اشارۂ ابرو پر اپنا سب کچھ لٹا دینے کا جذبہ رکھنے والے، آپؐ کی عقیدت و محبت میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے جاں نثار صحابۂ کرامؓ میں سے ہر فرد اپنا نام سننے کا آرزومند اور منتظر تھا کہ دانائے سُبل، فخرالرسل، مولائے کل ﷺ نے حیدرِکرار سیّدنا علی مرتضیٰؓ کا نام لیا۔
سیّدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ اس موقع پر آشوبِ چشم میں مبتلا تھے، رسالت مآب ﷺ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا، ان کے لیے دعا فرمائی، جس سے یہ تکلیف فوراً جاتی رہی۔ بعد ازاں آپﷺ نے جنگ کا عَلم حضرت علیؓ کو مرحمت فرمایا۔ اس موقع پر سیّدنا علی کرم اللہ وجہہ نے دریافت کیا کہ کیا میں اس وقت تک ان سے قتال کروں، جب تک کہ وہ ہماری طرح مسلمان نہ ہوجائیں؟
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اپنی راہ پر گامزن ہوجاؤ اور ان کے مقابلے میں اتر کر انہیں اسلام کی دعوت دو، انہیں بتائو کہ اللہ تعالیٰ کا ان پر کیا حق ہے؟ بخدا، اگر تمہارے ہاتھ پر ایک فرد بھی ہدایت پاجائے تو یہ تمہارے لیے بڑی سے بڑی نعمت اور بے شمار سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ (صحیح بخاری و مسلم، باب غزوۂ خیبر، کتاب المغازی)
قموص کے اس قلعے میں جنگ خیبر کے آخری اور اختتامی مرحلے پر یہودیوں کا نامور سردار مرحب پورے جوش و خروش سے یہ رجز پڑھتا ہوا نکلا:۔
قد علمت خیبرانّی مرحب’’خیبر مجھے جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں‘‘
شاکی السّلاح، بطلٌ مُجرّب’’مسلح پوش ہوں، بہادر ہوں، تجربے کار ہوں‘‘
اذا الحُروبُ اقبلت تلھّب’’جب کہ لڑائی کی آگ بھڑکتی ہے‘‘
حیدرکرار سیّدنا علی کرم اللہ وجہہ نے مرحب کے اس متکبرانہ رجز کا جواب دیتے ہوئے یہ اشعار پڑھے:
انا الّذی سمّتنی اُمّی حیدرۃ’’میں وہ ہوں، جس کا نام میری ماں نے حیدر رکھا ہے‘‘
کلیث غابات کریۃ المنظرہ’’جنگل کے شیر کی طرح مہیب اور ڈرائونا‘‘
او فیھم بالصاع کیل السندرۃ’’میں دشمنوں کو نہایت سرعت کے ساتھ قتل کر دیتاہوں‘‘۔(صحیح بخاری، جلد دوم، باب غزوۃ ذی قرد)
یہ کہتے ہوئے جھپٹ کر آپ نے ایک ہی وار میں اس سورما کا کام تمام کردیا۔ آپ کے حملے سے اس کے سرکا آہنی خود اور سر دونوں ایک ساتھ کٹ گئے، اس کے جبڑے بھی ٹوٹ گئے، حضرت علیؓ کے اس جرأت مندانہ اقدام سے جنگِ خیبر اور اہلِ ایمان کی فتح مندی کا فیصلہ ہوگیا۔ سیّدنا علی مرتضیٰؓ نے قلعۂ خیبر کا دروازہ اپنے ہاتھوں پر اٹھا لیا تھا۔ یہ تاریخ ساز واقعہ آپ کی جرأت و شجاعت کا مظہر ہے۔
اس سے قبل اسلامی تاریخ کے دیگر معرکوں اور غزوات بالخصوص غزوۂ بدر، غزوۂ اُحد اور غزوۂ خندق میں آپؓ جرأت و شجاعت کی تاریخ رقم کر چکے تھے۔ بالخصوص غزوۂ خندق شوال 5ھ میں جسے غزوۂ احزاب کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ اس غزوے میں آپؓ نے عمرو بن عبدوُد کا جو ایک ہزار شہ سواروں کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ بڑی جرأت و پامردی سے مقابلہ کرتے ہوئے اسے واصل جہنم کیا۔ (ابنِ کثیر/البدایہ والنہایہ 4/105)
مشہور واقعہ ہے کہ ایک معرکے میں آپؓ اپنے حریف پر غالب آگئے۔ اس کے سینے پر چڑھ کر اسے قتل کرنا چاہتے تھے کہ اس نے زندگی سے مایوس ہوکر آپ کے چہرے پر تھوکنے کی ناپاک جسارت کی ، اس پر آپؓ اس پر قدرت اور قابو پانے کے باوجود اسے چھوڑ کر الگ کھڑے ہوگئے، وہ آپ کے اس اقدام پر حیرت زدہ رہ گیا، اس نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا: اے علی! آپ مجھ پر مکمل طور پر قابو پاچکے تھے، پھر مجھے زندہ اور آزاد کیسے چھوڑ دیا؟ آپؓ نے فرمایا، پہلے میری جنگ تمہارے ساتھ محض اللہ کے لیے تھی، اب اگر میں تمہیں قتل کرتا تو اس میں ذاتی انتقام کا جذبہ شامل ہوتا، اس لیے میں نے تمہیں آزاد چھوڑ دیا۔
وہ شخص آپ کے اس جرأت مندانہ اقدام سے اس قدر متاثر ہوا کہ دائرۂ اسلام میں داخل ہوگیا۔ غزواتِ نبویؐ میں ’’غزوۂ ہوازن‘‘ خاص اہمیت رکھتا ہے، اس میں تمام قبائل عرب کی متحدہ طاقت مسلمانوں کے خلاف اُمڈ آئی تھی، لیکن اس غزوے میں بھی حیدرِ کرارؓ ہر موقع پر ممتاز رہے، رسول اللہ ﷺ نے جن اکابر صحابہؓ کو پرچم عنایت فرمائے، ان میں شیرِ خدا سیدنا علی مرتضیٰؓ بھی شامل تھے، اس اہم معرکے میں جو صحابۂ کرامؓ مردِ میدان اور ثابت قدم رہے، ان میں حضرت علیؓ کو اہم مقام حاصل ہے۔
اسلامی مضامین
’’عیدالفطر‘‘ اعمال کے جائزے اور عزمِ نو کا دن
- 21 مارچ ، 2026
’’عیدالفطر‘‘ اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے اجر اور مزدوری وصول کرنے کادن ہے۔
رمضان کے بعد زندگی کے شب و روز کیسے گزاریں؟
- 20 مارچ ، 2026
رمضان کا مبارک مہینہ اپنی تمام تر برکتوں، رحمتوں، مغفرتوں، فضیلتوں سعادتوں کے ساتھ آج اختتام پذیر ہو رہا ہے۔
ماہِ رمضان کے بعد معمولاتِ زندگی اور ہماری ذمہ داریاں
- 19 مارچ ، 2026
ماہِ صیام جس کا گیارہ مہینے سے انتظار تھا، وہ آیا اور ہوا کے ایک خوشگوار جھونکے کی مانند ہمیں ہر نعمتِ خداوندی سے سرفراز...
رمضان المبارک جہنم سے نجات کا مہینہ
- 18 مارچ ، 2026
’’رمضان المبارک‘‘ نیکیوں کا موسم بہار، ایک عظیم ماہِ مبارک ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔
’’لیلۃُ القَدر‘‘ ربِّ ذُوالجلال کے حضور توبہ ومُناجات اور دعاؤں کی قبولیت کے مقدّس و بابرکت لمحات
- 17 مارچ ، 2026
اس ایک رات میں عبادت کا اجر و ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت و ریاضت سے بڑھ کر ہے۔
شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر
- 16 مارچ ، 2026
رمضان کے قیمتی اوقات میں سے ایک وقت ہے لیلۃ القدر، مرتبے والی اور عظمت والی رات۔
قرآنِ حکیم اور ہماری زندگی
- 16 مارچ ، 2026
قرآن اللہ کا آخری کلام ہے۔ اللہ نے انسانوں کو جو علم دینا تھا، وہ قرآن کے اندر آخری مرتبہ مکمل شکل میں دے دیا گیا۔
عشرہ نجات کی پرنور، بیش قیمت ساعات اور ہماری غلط ترجیحات
- 15 مارچ ، 2026
احادیثِ مبارکہ کے مطابق ماہِ رمضان کو بنیادی طور پر تین عشروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
الوداع ماہ رمضان الوداع
- 14 مارچ ، 2026
رمضان کریم، ماہِ صیام رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا ماہِ مبارک، اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں سمیت ہم سے رخصت ہونے کو...
رمضان المبارک کے آخری ایام کی قدر کریں
- 13 مارچ ، 2026
بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں اس ماہِ مبارک میں طاعت و عبادت کا موقع نصیب ہوا۔
اعتکاف کے فضائل و احکام
- 12 مارچ ، 2026
احادیثِ نبویﷺ میں اس پر بے شمار اجر وثواب کی نوید بیان کی گئی ہے
سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ: وفاداری و جاں نثاری کا بے مثال نمونہ
- 11 مارچ ، 2026
حضرت علی ؓ امت کی تاسیسی شخصیات اور درخشاں و تابندہ ہستیوں میں سے ایک ہیں۔
اعتکاف: ماہِ صیام کی ایک باعث اجر و فضیلت عبادت
- 10 مارچ ، 2026
الحمد للہ، اب ہم ماہ ِرمضان کے آخری عشرے میں داخل ہورہے ہیں، یہ وہ عشرہ ہے جس کی طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش کا حکم ہے۔
حُسنِ سلوک، عفوودرگزر، بُردباری و رواداری کا تاریخ ساز مظہر ’’واقعہ فتحِ مکّہ‘‘
- 09 مارچ ، 2026
ڈاکٹر حافظ محمد ثانینبیِ رحمت، محسنِ انسانیت،سرورِ کائنات، ختمی مرتبت، حضرت محمد ﷺ کی نمایاں ترین خصوصیت، آپ ﷺ کی’’...
قصہ قومِ ثمود اور حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا
- 08 مارچ ، 2026
اور قومِ ثمود کو اللہ نے یوں نیست و نابود کردیا کہ گویا وہاں وہ کبھی آباد ہی نہ تھے۔ ۔
’’غزوہ بدر‘‘ رسولﷺ کی عسکری و دفاعی حکمتِ عملی کا عظیم مظہر
- 07 مارچ ، 2026
یوم الفرقان، غزوۂ بدر اسلامی تاریخ کا عظیم اور تاریخ ساز معرکہ ہے۔
’’یوم الفرقان‘‘ جب اسلام غالب اور کفر مغلوب ہوا
- 07 مارچ ، 2026
یہ معرکہ مشر کین مکّہ کی عبرت ناک شکست اور اہل ایمان کی فتح مبین پر ختم ہوا۔
کاشانہ نبوت کی ملکہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
- 07 مارچ ، 2026
آنحضرت ﷺ کی دیگر ازواجِ مطہراتؓ میں ان ساری باتوں کا پورا پورا جواب ہمیں حضرت عائشہ صدیقہ ؓہی کی زندگی میں نظر آتا ہے۔
’’حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ‘‘ سیرت و کردار کا بے مثال اور تاریخ سازباب
- 07 مارچ ، 2026
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جیسے ہی میں نے ہوش سنبھال کر والد کو دیکھا، انہیں مسلمان پایا۔
نماز تراویح رمضان المبارک کی اہم عبادت
- 06 مارچ ، 2026
’’نمازِتراویح‘‘ نبی کریم ﷺ کی سنّت ہے اور احادیث مبارکہ میں اس کی فضیلت آئی ہے۔