’’یوم الفرقان‘‘ جب اسلام غالب اور کفر مغلوب ہوا
- 07 مارچ ، 2026
- Web Desk
- اسلامی مضامین
عمران احمد سلفی
دین اسلام کی دعوت و تبلیغ اور لوگوں کو پیغام حق پہنچانے کے لیے مکۂ معظمہ اور اس کی پُرنور وادیوں میں جب اللہ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ نے توحید باری تعالیٰ کا نعرہ بلند کیا تو مشرکین مکہ آپ ﷺ کی جان کے دشمن ہوگئے۔ قریشِ مکّہ کی شدید خواہش تھی کہ اس آوازِ حق کو ابتدائی مراحل میں ہی دبا دیا جائے، تاکہ کفر وشرک کی نجاست میں ڈوبی ہوئی انسانیت جادۂ مستقیم پر گام زن ہوکر دنیوی و اخروی فلاح و کامرانی سے ہم کنار نہ ہوسکے، پوجا پاٹ کے ساتھ ساتھ ان کی قیادت و سیادت پر کوئی حرف نہ آئے، لہٰذا اسی فلسفے کے تحت کفار مکّہ نے ہادیِ برحق ﷺ کو ہرممکن ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنے مشن سے روکنے کی تمام ممکنہ تدبیریں کیں۔
آپ ﷺ کے جاں نثار ساتھیوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے تھے، مشرکین مکّہ کے حوصلے اس قدر بلند ہوگئے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے قتل کے منصوبے بنانے لگے۔ جب کہ اس دوران اسلام کی دعوت مکّے سے باہر مدینہ منورہ میں بھی پہنچ چکی تھی، لہٰذا پیغمبر اسلام ﷺ کو حکم ربانی ہوا کہ اب آپﷺ مدینے (جسے یثرب کہا جاتا تھا) کی طرف کوچ کرجائیں، لہٰذا آپ ﷺ سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ایک رات مکّہ سے مدینے کی جانب ہجرت کے لیے نکل پڑے، جب کہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو امانتیں سپرد کرکے اپنے بستر پر لٹادیا۔
مدینہ منورہ پہنچ کر نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کو قدرے اطمینان حاصل ہوا کہ کفار کے ظلم و ستم سے نجات حاصل ہوگئی، لیکن یہ سکون عارضی ثابت ہوا، چوں کہ قریش مکّہ بدستور اسلام کو مٹانے کے درپے تھے۔ 2ھ رمضان المبارک میں جب کہ بھوک و پیاس کی شدت کے ذریعے اہلِ ایمان کو تقویٰ سے نوازا جارہا تھا کہ مشیت ایزدی نے اپنے پیارے رسول ﷺ اور بے سرو سامان قافلۂ حق کے شہسواروں کو ایک اور آزمائش میں ڈال کر سرخ رُو ہونے کا سامان پیدا فرما دیا۔
غزوۂ بدر جسے قرآن نے یوم الفرقان کے نام سے موسوم کیا ہے، اس تاریخ ساز موقع پر اہلِ ایمان جو اس قافلے یا لشکر میں شامل تھے، ان کی کل تعداد 313تھی اور کسی قسم کی جنگی تیاری بھی نہ تھی۔ کسی کے پاس تلوار تھی تو زرہ نہیں تھی اور کسی کے پاس تیر تھا تو کمان نہیں تھی اور جاں نثار بھی ایسے تھے کہ جن کی اکثریت یعنی انصار مدینہ کو جنگ و جدال سے کوئی واسطہ بھی نہ پڑا تھا اور مجاہدین میں نوجوانوں کے علاوہ بوڑھے اور نوعمر بچّے بھی شامل تھے۔
ان حالات میں دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے اور تاریخ انسانی کے عجوبہ روزگار واقعات رونما ہوئے۔ اس موقع پر نبی اکرم ﷺ نے عاجزی و انکساری سے رب کے حضور یوں دعا فرمائی!’’اے اللہ اگر آج یہ گروہ ہلاک ہوگیا تو آئندہ تیری عبادت نہ کی جائے گی۔
آپ ﷺ کی دعاؤں کا اثر یہ ہوا کہ رب کائنات نے تسلّی دیتے ہوئے وحی نازل فرمائی کہ: ’’میں تمہارے ساتھ ہوں تم اہلِ ایمان کے قدم جماؤ، میں کافروں کے دل میں رعب ڈال دوں گا۔‘‘ (سورۃ الانفال ) اسی طرح مزید فرمایا کہ ’’میرے حبیب ﷺ پریشان نہ ہوں بلکہ میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا جو آگے پیچھے آئیں گے۔‘‘ (سورۃ الانفال)
ان بشارتوں کے بعد آپ ﷺ شاداں و فرحاں اٹھے اور ایک مٹھی کنکریلی مٹی لی اور قریش کی طرف رخ کرکے فرمایا۔ ’’چہرے بگڑ جائیں‘‘ اور ساتھ ہی مٹی ان کے چہروں کی طرف پھینک دی، پھر مشرکین میں سے کوئی ایسا نہیں بچا جس کی دونوں آنکھوں نتھنے اور منہ میں اس ایک مٹھی مٹی میں سے کچھ نہ کچھ نہ گیا ہو۔ اس کے بارے میں اللہ نے فرمایا: جب آپ ﷺ نے پھینکا تو درحقیقت آپ ﷺ نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا۔
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے جوابی حملے کا حکم اور جنگ کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا! ’’چڑھ دوڑو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے، ان سے جو آدمی بھی ڈٹ کر، ثواب سمجھ کر، آگے بڑھ کر اور پیچھے نہ ہٹ کر لڑے گا اور مارا جائے گا اللہ اسے ضرور جنّت میں داخل کرے گا۔‘‘
چناں چہ حق و باطل کے درمیان پہلا معرکہ شروع ہوگیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ اہلِ ایمان نے کفار کے مقابل ہتھیار اٹھائے، ورنہ اس سے قبل مسلمان کفار مکّہ کے ظلم و ستم سہتے رہے تھے مگر بوجوہ جوابی کارروائی نہیں کرسکتے تھے۔ آج اسلام کی برکت سے وہی لوگ جہاں دیدہ سرداروں کے سر قلم کررہے تھے۔ اسی طرح دیگر سرداران قریش تہ تیغ کردیے گئے اور کچھ خدمت نبوی ﷺ میں پیش کردیے گئے۔
اس موقع پر کئی عجیب و غریب مناظر وقوع پزیر ہوئے۔ ایمان اور کفر کے اس معرکے میں حسب و نسب کی کوئی حیثیت باقی نہ رہی بلکہ دونوں طرف مقابلہ محض ایمان اور کفر کی بنیاد پر ہورہا تھا، گرچہ آپس میں خونیں رشتے داریاں بھی موجود تھیں، تاہم اہل ایمان نے ان تمام رشتوں کو بھلا کر اللہ کے دشمنوں کو جہنم رسید کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔
چناں چہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو قتل کیا۔ اہلِ ایمان اس معرکے میں اللہ کے فضل وکرم سے سرخ رو اور کام یاب ہوئے۔ یہ معرکہ مشر کین مکّہ کی عبرت ناک شکست اور اہل ایمان کی فتح مبین پر ختم ہوا۔ غزوہ ٔبدر میں آج کے ماحول کے مطابق کئی اسباق موجود ہیں۔ اگر ہم آج بھی اسی جذبۂ ایمانی کے ساتھ کفر سے پنچہ آزمائی کے لیے آمادۂ پیکار ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمیں پھر سے تائید و نصرت الٰہی حاصل نہ ہو۔
اسلامی مضامین
’’عیدالفطر‘‘ اعمال کے جائزے اور عزمِ نو کا دن
- 21 مارچ ، 2026
’’عیدالفطر‘‘ اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے اجر اور مزدوری وصول کرنے کادن ہے۔
رمضان کے بعد زندگی کے شب و روز کیسے گزاریں؟
- 20 مارچ ، 2026
رمضان کا مبارک مہینہ اپنی تمام تر برکتوں، رحمتوں، مغفرتوں، فضیلتوں سعادتوں کے ساتھ آج اختتام پذیر ہو رہا ہے۔
ماہِ رمضان کے بعد معمولاتِ زندگی اور ہماری ذمہ داریاں
- 19 مارچ ، 2026
ماہِ صیام جس کا گیارہ مہینے سے انتظار تھا، وہ آیا اور ہوا کے ایک خوشگوار جھونکے کی مانند ہمیں ہر نعمتِ خداوندی سے سرفراز...
رمضان المبارک جہنم سے نجات کا مہینہ
- 18 مارچ ، 2026
’’رمضان المبارک‘‘ نیکیوں کا موسم بہار، ایک عظیم ماہِ مبارک ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔
’’لیلۃُ القَدر‘‘ ربِّ ذُوالجلال کے حضور توبہ ومُناجات اور دعاؤں کی قبولیت کے مقدّس و بابرکت لمحات
- 17 مارچ ، 2026
اس ایک رات میں عبادت کا اجر و ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت و ریاضت سے بڑھ کر ہے۔
شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر
- 16 مارچ ، 2026
رمضان کے قیمتی اوقات میں سے ایک وقت ہے لیلۃ القدر، مرتبے والی اور عظمت والی رات۔
قرآنِ حکیم اور ہماری زندگی
- 16 مارچ ، 2026
قرآن اللہ کا آخری کلام ہے۔ اللہ نے انسانوں کو جو علم دینا تھا، وہ قرآن کے اندر آخری مرتبہ مکمل شکل میں دے دیا گیا۔
عشرہ نجات کی پرنور، بیش قیمت ساعات اور ہماری غلط ترجیحات
- 15 مارچ ، 2026
احادیثِ مبارکہ کے مطابق ماہِ رمضان کو بنیادی طور پر تین عشروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
الوداع ماہ رمضان الوداع
- 14 مارچ ، 2026
رمضان کریم، ماہِ صیام رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا ماہِ مبارک، اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں سمیت ہم سے رخصت ہونے کو...
رمضان المبارک کے آخری ایام کی قدر کریں
- 13 مارچ ، 2026
بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں اس ماہِ مبارک میں طاعت و عبادت کا موقع نصیب ہوا۔
اعتکاف کے فضائل و احکام
- 12 مارچ ، 2026
احادیثِ نبویﷺ میں اس پر بے شمار اجر وثواب کی نوید بیان کی گئی ہے
سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ: وفاداری و جاں نثاری کا بے مثال نمونہ
- 11 مارچ ، 2026
حضرت علی ؓ امت کی تاسیسی شخصیات اور درخشاں و تابندہ ہستیوں میں سے ایک ہیں۔
حضرت علی ابن ابی طالب ؓ: سیرت و کردار کا روشن اور تاریخ سازباب
- 11 مارچ ، 2026
شیرِیزداں، شاہِ مرداں، سیّدنا علی مرتضیٰؓ نے عہدِ نبویؐ کے غزوات اور جنگی معرکوں میں جرأت و شجاعت کی تاریخ رقم کی۔
اعتکاف: ماہِ صیام کی ایک باعث اجر و فضیلت عبادت
- 10 مارچ ، 2026
الحمد للہ، اب ہم ماہ ِرمضان کے آخری عشرے میں داخل ہورہے ہیں، یہ وہ عشرہ ہے جس کی طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش کا حکم ہے۔
حُسنِ سلوک، عفوودرگزر، بُردباری و رواداری کا تاریخ ساز مظہر ’’واقعہ فتحِ مکّہ‘‘
- 09 مارچ ، 2026
ڈاکٹر حافظ محمد ثانینبیِ رحمت، محسنِ انسانیت،سرورِ کائنات، ختمی مرتبت، حضرت محمد ﷺ کی نمایاں ترین خصوصیت، آپ ﷺ کی’’...
قصہ قومِ ثمود اور حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا
- 08 مارچ ، 2026
اور قومِ ثمود کو اللہ نے یوں نیست و نابود کردیا کہ گویا وہاں وہ کبھی آباد ہی نہ تھے۔ ۔
’’غزوہ بدر‘‘ رسولﷺ کی عسکری و دفاعی حکمتِ عملی کا عظیم مظہر
- 07 مارچ ، 2026
یوم الفرقان، غزوۂ بدر اسلامی تاریخ کا عظیم اور تاریخ ساز معرکہ ہے۔
کاشانہ نبوت کی ملکہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
- 07 مارچ ، 2026
آنحضرت ﷺ کی دیگر ازواجِ مطہراتؓ میں ان ساری باتوں کا پورا پورا جواب ہمیں حضرت عائشہ صدیقہ ؓہی کی زندگی میں نظر آتا ہے۔
’’حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ‘‘ سیرت و کردار کا بے مثال اور تاریخ سازباب
- 07 مارچ ، 2026
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جیسے ہی میں نے ہوش سنبھال کر والد کو دیکھا، انہیں مسلمان پایا۔
نماز تراویح رمضان المبارک کی اہم عبادت
- 06 مارچ ، 2026
’’نمازِتراویح‘‘ نبی کریم ﷺ کی سنّت ہے اور احادیث مبارکہ میں اس کی فضیلت آئی ہے۔