روزے کے طبی پہلو اور صحت پر اُس کے پڑنے والے اثرات

روزے کے طبی پہلو اور صحت پر اُس کے اثرات

حکیم محمد سعید شہید

روزہ اور رمضان اہلِ ایمان پر رب کی عنایات اور عظیم احسانات میں سے ایک ہے۔‘‘روزہ‘‘بنیادی طور پر بے شمار فوائد کا مجموعہ اور عظیم اجر و ثواب کا خزینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت بڑی عقیدت، پابندی اور نہایت احترام و اہتمام سے روزے رکھتی ہے۔ اگر غور کیا جائے تو اسلامی روزے کا اعلیٰ و ارفع مقصد پرہیز گاری اور تقویٰ ہے۔ ماہ ِرمضان کے 30 دنوں کے ہر ہر لمحے میں ہر ہر مسلمان اللہ تعالیٰ کو زیادہ سے زیادہ یاد کیا کرتا ہے، قرآن مجید کی تلاوت کی جاتی ہے روزے رکھے جاتے ہیں۔ 

اس ماہ مبارک میں نہ کوئی لغوبات منہ سے ادا کی جاتی ہے، نہ سنی جاتی ہے۔ آنکھوں، کانوں، ہاتھوں، پیروں یہاں تک کہ قوائے عقلیہ کو صرف پرہیزگاری کے کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جسم کی کثافت دور کر کے نظافت اور پاکیزگی اختیار کی جاتی ہے۔ اپنی سوچ کو پاک رکھا جاتا ہے۔ اپنی فکر کو آلودہ ہونے سے بچایا جاتا ہے۔ طبی پہلو :غذا کے بارے میں ایک طبی نکتہ یہ ہے کہ ہر غذا استعمال کے بعد نشاستوں میں تبدیل ہو کر بالآخر وہ شکر بن جاتی ہے۔ اس شکر (گلوکوز) سے فوری طور پر توانائی حاصل ہوتی ہے۔

ضرورت سے زائد نشاستے اور شکر چربی کی صورت میں عضلات میں اور گلائیکوجن کی صورت میں جگر میں ذخیرہ ہو جاتے ہیں۔ جب آدمی روزہ رکھتا ہے اور از سحر تا مغرب بھوکا پیاسا رہتا ہے تو نشاستے بدن میں کم ہو جاتے ہیں۔ اس صورت میں بدن از خود جگر سے گلائیکوجن لے کر توانائی کے لیے گلوکوز فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح چربیلی بافتوں سے ذخیرہ شدہ چربی لے کر توانائی کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔اس طرح اگر غور کیا جائے تو روزہ نظامِ ہضم میں نیز مرکزی عصبی نظام میں خوشگوار فعلیاتی سکون لاتا ہے اور استحالۂ غذا میں اعتدال پیدا کرتا ہے۔

روزے پر سائنسی مطالعات: یونی ورسٹی ہسپتال عمان (اردن) کے ڈاکٹر سلیمان کی رپورٹ کے مطابق اس میں 42 مرد اور 26 خواتین شامل تھیں۔ یہ سب کے سب صحت مند تھے۔ مردوں کی عمریں 15 سے 64 برس اور خواتین کی عمریں 16 سے 28 برس تھیں۔ 

ان کے وزن اور تمام اہم ٹیسٹ کر کے محفوظ کر لیے گئے۔ رمضان کے اختتام پر پھر ان کے وزن اور تمام اہم ٹیسٹ کیے گئے ۔ مردوں کے وزن میں 6 سے 7 کلو اور خواتین کے وزن میں 4 سے 5 کلو کمی ہوئی۔ ٹیسٹوں میں کوئی ایسی تبدیلی نظر نہیں آئی جو کسی خاص اہمیت کی حامل ہو۔

ایک اور مطالعہ میڈیکل سائنسز یونی ورسٹی تہران میں ہوا۔ اس مطالعے میں ڈاکٹر ایف عزیزی اور ان کے رفقا شریک تھے۔ انہوں نے رمضان شروع ہونے سے پہلے اور دسویں، بیسویں اور آخری رمضان کو وزن اور تمام اہم ٹیسٹ لیے۔ ان کے مطابق وزن اوسطاً 9 کلو کم ہوا۔ 17 گھنٹوں کے 29 روزوں میں تولیدی ہارمونوں، ہائپوتھیلمس، پٹیوٹری، تھائرائڈ نظام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ان دو مطالعات سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ نظامِ جسمِ انسانی پر طبی لحاظ سے روزے کے کوئی مضر اثرات پیدا نہیں ہوتے، بلکہ وزن کی کمی اور چربی کے استحالے سے متعلق مفیدِ صحت اثرات پیدا ہوتے ہیں۔

روزے میں غذائیت کی کمی کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا، اس لیے کہ ماہ رمضان میں غذاؤں پر کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ نہ کوئی خاص غذا مقرر ہے۔ ہاں، روحِ روزہ تقلیلِ غذا کی دعوت دیتی ہے۔ اس لیے کہ تقلیلِ غذا عبادت کے لیے انسان کو تیار کرتی ہے۔

رمضان میں رات کو تراویح کی نماز عضلات اور جوڑوں کے لیے ہلکی ورزش کا درجہ رکھتی ہے۔ اس میں 200 کیلوریاں صرف ہوتی ہیں۔ انسان کے لیے روزے خود پر قابو پانے کا ایک ذریعہ ہیں۔ سگریٹ نوش اور وہ لوگ جو ہر وقت کچھ کھاتے رہتے ہیں ، اپنی عادت پر قابو پاسکتے ہیں۔ روزے سے اطمینان و سکون قلب ملتا ہے جو صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔

ذیابیطس: جن مریضوں کا ذیابیطس معمولی درجے کا ہو، صحت اچھی ہو تو وہ معالج کی اجازت سے روزہ رکھ سکتے ہیں۔ معالج کے مشورے سے صرف ایک تہائی دوا افطار کے وقت کھائی جائے۔ روزہ رکھنے سے پہلے اور افطار کے بعد شوگر ٹیسٹ کرائی جائے۔ رمضان کے دوران بھی انہیں پرہیزی غذا کھانی چاہیے۔

ہائی بلڈپریشر: اگر مرض ہلکے درجے کا ہو اور مریض زیادہ وزن والا ہو تو اس کے لیے روزہ مفید ہو سکتا ہے۔ معالج کے مشورے سے پیشاب آور دوا کی مقدار کم کرائی جائے اور لمبے عرصے تک اثر کرنے والی بلڈپریشر کی دوا دن میں ایک مرتبہ سحری سے پہلے کھائی جائے۔ زیادہ بلڈپریشر اور قلب کے مریض روزہ قضا کر سکتے ہیں۔

اکثر لوگ ماہ رمضان میں افطار، عشا اور سحر میں دہی بڑے، پکوڑے، پھلکیاں، بریانی، قورمے، پراٹھے، پلاؤ، چٹنیاں، اچار، جلیبیاں، کھجلے پھینیاں، کباب، شامی کباب ان کھانوں کے رسیا بن جاتے ہیں۔ طبی اعتبار سے اور روح روزہ کے لحاظ سے یہ غذائیں یقینا صحیح نہیں ہیں۔ روح روزہ و رمضان تو یہ ہے کہ انسان کھانوں سے دل کو ہٹائے اور روح اور جسم کی ساری توانائیاں عبادات پر صرف کرے۔

Share This:

صیام و صحت

  • 20  مارچ ،  2026

اکثر لوگ دن میں تین بار کھانا کھاتے ہیں اور یہ ان کی روزمرہ زندگی کا عمومی جزو بن چکا ہے۔

  • 19  مارچ ،  2026

نئی تحقیق میں ماہرین نے روزے کے کچھ حیرت انگیز فوائد کا اعتراف کیا ہے۔

  • 18  مارچ ،  2026

رمضان میں فجر سے مغرب تک بغیرکچھ کھائے پیے رہنے سے صحت میں جو بہتری آتی ہے، وہ اب متعدّد تحقیقات سے بھی ثابت ہوچُکی ہے۔

  • 17  مارچ ،  2026

ناریل کا پانی ایک بہترین مشروب ہے، جو ذائقہ میں لذیذ ہونے کے ساتھ توانائی بحال کرتا ہے۔

  • 16  مارچ ،  2026

سحری کے وقت لی گئی غذاؤں کی بدولت انسان کا جسم پورا دن متحرک رہتا ہے۔

  • 14  مارچ ،  2026

رمضان بلاشبہ ہر بار کی طرح رحمتوں اور برکتوں سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ بابرکت مہینہ ایک بہترین روٹین بھی ساتھ لاتا ہے اور...

  • 13  مارچ ،  2026

یہاں چند ایسی غذائیں بتائی جا رہی ہیں کہ جن سے آپ کی سحری صحت بخش ہو سکتی ہے۔

  • 12  مارچ ،  2026

رمضان کے روزے رکھنا نہ رکھنا، خالصتاً ایک مسلمان کا ذاتی فعل ہے۔

  • 11  مارچ ،  2026

دوحہ، قطر کے حمد میڈیکل کارپوریشن میں انٹرنل میڈیسن کے چیئرمین پروفیسر عبدالبادی ابو سمرہ نے ذیابیطس کے مریضوں کو مشورہ...

  • 10  مارچ ،  2026

صحت کے حوالے سے روزے کے بے شمار فوائد ہیں، جن میں سب سے بڑی نعمت ہیومن گروتھ ہارمونز میں اضافہ اور جین کی تبدیلی ہے جس سے...

  • 09  مارچ ،  2026

اچھے روزے کی شروعات یقینی طور پر اچھی سحری سے ہوتی ہے۔

  • 07  مارچ ،  2026

دُودھ کے ساتھ کھجور کا استعمال ہمیں صحت مند اور قوی رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

  • 06  مارچ ،  2026

ماہ رمضان کے مقدس مہینے میں روزے داروں کو متوازن غذا کھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

  • 06  مارچ ،  2026

ٹائپ وَن ذیابیطس کے شکار افراد کو عموماً روزہ نہ رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

  • 04  مارچ ،  2026

عموماً رمضان المبارک میں زیادہ تر افراد پیٹ کے عوارض سے متاثر ہوتے ہیں، جس کی ایک وجہ بسیار خوری ہے۔

  • 03  مارچ ،  2026

ذیابطیس کے مریض ڈاکٹر کی رہنمائی میں بہت اچھی طرح اور خطرات سے بچتے ہوئے روزہ رکھتے ہیں۔

  • 02  مارچ ،  2026

نوجوانوں کیلئے رمضان ایک ایسا سنہری موقع ہے، جس میں وہ اپنی جسمانی صحت متوازن، نفسیاتی قوّت مضبوط اور روحانیت بلند کر...

  • 28  فروری ،  2026

ماہ رمضان کے دوران بیشتر افراد کھجور سے روزہ افطار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

  • 27  فروری ،  2026

کچھ امراض ایسے ہوتے ہیں جو پوری زندگی انسان کے ساتھ چلتے رہتے ہیں جن میں سے ذیابطیس بھی ایسا ہی مرض ہے۔

  • 26  فروری ،  2026

روزے داروں میں ایسے افراد بھی شامل ہوتے ہیں جو تمباکونوشی کے عادی ہیں۔