حضرت خدیجتہ الکبریٰ ؓ سیرت و کردار کے آئینے میں
- 28 فروری ، 2026
- Web Desk
- اسلامی مضامین
مولانا شاہد مدنی عطاری
امّ المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قبیلہ قریش کی ایک بہت ہی باہمت، بلند حوصلہ اور زیرک خاتون تھیں۔ اللہ عزوجل نے آپؓ کو اعلیٰ اوصاف سے نوازا تھا، جن کی بدولت آپؓ جاہلیت کے دورِ شروفساد میں ہی طاہرہ کے پاکیزہ لقب سے مشہور ہو چکی تھیں۔ آپؓ کی اعلیٰ صفات اور اعزازات کا ذکر کرتے ہوئے آپ کی سہیلی حضرت نفیسہ ؓ فرماتی ہیں ”حضرت خدیجہؓ دُور اندیش، سلیقہ شعار، پریشانیوں اور مصیبتوں کے مقابلے میں بہت بلند حوصلہ و ہمت رکھنے والی اور معزز خاتون تھیں، ساتھ ہی ساتھ اللہ عزوجل نے آپؓ کو عزت و شرف اور خیروبھلائی سے بھی خوب نوازا تھا۔ آپؓ قریش میں اعلیٰ نسب رکھنے والی، بہت ہی بلند رتبہ اور سب سے زیادہ مالدار خاتون تھیں۔“
آپؓ کی دو مرتبہ شادی ہو چکی تھی، پہلی شادی ابوہالہ بن زرارہ تمیمی سے ہوئی، ان کے فوت ہو جانے کے بعد عتیق بن عابد مخزومی سے ہوئی۔ جب یہ بھی وفات پا گئے تو کئی رؤسائے قریش نے آپؓ کو شادی کےلئے پیغام دیا، لیکن آپؓ نے انکار فرما دیا اور کسی کا بھی پیغام قبول نہ کیا، چنانچہ اب اکیلے ہی اپنی اولاد کےساتھ زندگی کے شب و روز گزار رہی تھیں۔
آپؓ صاحب ثروت اورمالدار خاتون تھیں، دیگر قریشیوں کی طرح آپؓ بھی تجارت کیا کرتی تھیں، عام لوگوں کی نسبت آپؓ کا سامانِ تجارت بہت زیادہ ہوتا تھا۔ روایت میں ہے کہ صرف آپؓ کے مال تجارت سے لدے اونٹ عام قریشیوں کے اونٹوں کے برابر ہوتے تھے۔ آپؓ لوگوں کو مزدور بھی رکھتی تھیں اور مضاربت (انویسٹمنٹ) کے طور پر بھی مال دیا کرتی تھیں‘ چنانچہ ہر تاجر کی طرح آپ کو بھی ایسے ذی شعور، سمجھدار، ہوشیار، باصلاحیت اور سلیقہ مند افراد کی ضرورت رہتی جو امین اور دیانتدار بھی ہوں۔
ادھر سرکارِ نامدار، مکے کے تاجدار ﷺکے حسن اخلاق، راست بازی، ایمانداری اور دیانتداری کا شہرہ ہر خاص و عام کی زبان پر تھا۔ آپ ﷺاپنے غیرمعمولی اخلاقی و معاشرتی اوصاف کی بناء پر اخلاقی پستی کے اس دورِ جاہلیت میں ہی امین کہہ کر پکارے جانے لگے تھے۔
حضرت خدیجہؓ تک بھی اگرچہ آپ ﷺ کی ان صفاتِ عالیہ کی شہرت پہنچ چکی تھی اور اس وجہ سے آپ ؓحضورِ اقدس ﷺ کو اپنا سامان دےکر تجارتی قافلے کے ساتھ روانہ کرنا چاہتی تھیں، لیکن یہ خیال کر کے کہ پتا نہیں حضور ﷺ اسے قبول فرمائیں گے بھی یا نہیں، اپنا ارادہ ترک کر دیتیں۔ پھر آپ ﷺ کے اعلانِ نبوت سے 15 برس پہلے کا دور آتا ہے۔
اہل عرب کا تجارتی قافلہ شام جانے کےلئے تیار ہے‘ آپ ﷺ کے چچا ابوطالب کی مالی حالت کمزور ہے، وہ آپ ﷺ کو مجبوراً شام بھیجنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ حضرت خدیجہؓ کو آپ ﷺ کی راست گوئی، عظیم امانتداری اور محاسن اخلاق کے بارے میں معلوم ہو چکا تھا، اس لئے آپ ﷺ کو بلا بھیجا اور عرض کیا ”آپ کو بلا بھیجنے کی وجہ صرف وہ بات ہے جو مجھے آپ کی سچائی، امانتداری اور محاسن اخلاق کے بارے میں پہنچی ہے، اگر آپ میرے مال کو تجارت کےلئے لے جانے کی پیشکش قبول فرما لیں تو میں آپ کو اس کی نسبت دگنا معاوضہ دوں گی جو آپ کی قوم کے دوسرے لوگوں کو دیتی ہوں“۔
آپ ﷺ نے اسے قبول فرما لیا۔ حضرت خدیجہؓ نے اپنے غلام میسرہ کو آپ ﷺ کے ساتھ کر دیا تھا۔ اللہ عزوجل نے اپنے پیارے محبوب ﷺ کے صدقے اس تجارت میں اس قدر برکت اور نفع عطا فرمایا کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ اتنا کثیر نفع دیکھ کر حضرت خدیجہؓ کے غلام میسرہ نے کہا ”اے محمد (ﷺ) میں نے اتنا زیادہ نفع کبھی نہیں دیکھا جو آپ کی بدولت ہوا ہے۔ واپس آ کر غلام میسرہ نے آپؓ کو اپنے مشاہدات بتائے۔ جناب سرکار عالی وقار رسول اللہ ﷺ کے پیغمبرانہ اخلاق و عادات سے متاثر ہو کر آپؓ نے اپنی سہیلی نفیسہ کے ذریعے شادی کا پیغام بھیجا جسے آپ ﷺ نے قبول فرما لیا۔
شادی کے بعد تاجداررسالت ﷺ آفاق عالم کو اپنے جلوؤں سے چمکاتے اور خوشبوؤں سے مہکاتے عرب کے ریگزاروں و کوہساروں میں مبارک حیات کے لمحات گزارتے رہے، حتیٰ کہ آپ ﷺ کے اعلانِ نبوت کا زمانہ قریب آ گیا۔ اس وقت آپ ﷺ کی عمر مبارک 40 برس ہو چکی تھی، ربیع الاوّل یا رمضان المبارک کے مہینے میں پہلی وحی نازل ہوئی۔
اس موقع پر حضرت خدیجہؓ نے آپ ﷺ کا بھرپور ساتھ دیا، کیونکہ نبوت کا اعلان کرتے ہی آپ ﷺ پر مصائب و آلام کے پہاڑ توڑ دئیے گئے، راہ میں کاٹنے بچھائے گئے، پتھر برسائے گئے، ایسے نازک‘ خوفناک اور کٹھن مرحلے میں جن ہستیوں نے آپ ﷺ کی دعوتِ حق کو قبول کیا، ان میں حضرت خدیجہؓ بھی شامل تھیں۔ آپؓ نے اتنے خطرناک حالات میں جس عزم و استقلال کےساتھ خطرات و مصائب کا سینہ سپر ہو کر سامنا کیا، یہ چیز آپؓ کو دیگر ازواجِ مطہرات ؓ سے ایک ممتاز مقام پر فائز کر دیتی ہے۔
پیارے آقا ﷺ کے اعلانِ نبوت کے ساتویں سال جب کفارِ مکہ نے بنی ہاشم کا مقاطعہ (بائیکاٹ) کیا، ان سے کھانے پینے کی چیزیں روک دیں، میل جول، سلام کلام وغیرہ ختم کر دیا اور بنی ہاشم شعب ابی طالب میں محصور ہوگئے تو وہاں غلہ وغیرہ اشیائے خورونوش پہنچانے میں حضرت خدیجہؓ کے عزیز و اقارب نے بہت اہم کردار ادا کیا۔
نبوت کے دسویں سال رمضان المبارک کے مہینے میں جبکہ ابوطالب کو وفات پائے چندروز ہی ہوئے تھے کہ دس رمضان المبارک کو آپؓ نے وصال فرمایا، بوقت وفات آپؓ کی عمر مبارک 65 برس تھی۔ حضرت اُم ایمن اور رسول کریم ﷺ کی چچی حضرت اُم فضلؓ نے آپؓ کو غسل دیا۔ آپؓ کو مکہ مکرمہ میں واقع جحون کے مقام پر دفن کیا گیا۔ حضور رحمت عالم، نور مجسم ﷺ خود بہ نفس نفیس آپؓ کی قبر میں اُترے اور اپنے مقدس ہاتھوں سے دفن فرمایا۔
چونکہ حضرت سیدنا خدیجۃ الکبریٰؓ اور ابوطالب نے زندگی کے ہر ہر موڑ پر رسول اللہ ﷺ کی نصرت و اعانت (مدد) کی تھی اور ہر طرح کے مشکل و کٹھن حالات میں آپ ﷺ کا ساتھ دیا تھا، لہٰذا چند روز کے فاصلے پر یکے بعد دیگرے ان کا انتقال کر جانا آپ ﷺ کےلئے بہت ہی جاں گداز اور روح فرسا حادثہ تھا، یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے اس سال کو غم و اَلم کا سال قرار دیا۔ چنانچہ روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے اسے عام الحزن (غم کا سال) کا نام دیا۔
اسلامی مضامین
’’عیدالفطر‘‘ اعمال کے جائزے اور عزمِ نو کا دن
- 21 مارچ ، 2026
’’عیدالفطر‘‘ اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے اجر اور مزدوری وصول کرنے کادن ہے۔
رمضان کے بعد زندگی کے شب و روز کیسے گزاریں؟
- 20 مارچ ، 2026
رمضان کا مبارک مہینہ اپنی تمام تر برکتوں، رحمتوں، مغفرتوں، فضیلتوں سعادتوں کے ساتھ آج اختتام پذیر ہو رہا ہے۔
ماہِ رمضان کے بعد معمولاتِ زندگی اور ہماری ذمہ داریاں
- 19 مارچ ، 2026
ماہِ صیام جس کا گیارہ مہینے سے انتظار تھا، وہ آیا اور ہوا کے ایک خوشگوار جھونکے کی مانند ہمیں ہر نعمتِ خداوندی سے سرفراز...
رمضان المبارک جہنم سے نجات کا مہینہ
- 18 مارچ ، 2026
’’رمضان المبارک‘‘ نیکیوں کا موسم بہار، ایک عظیم ماہِ مبارک ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔
’’لیلۃُ القَدر‘‘ ربِّ ذُوالجلال کے حضور توبہ ومُناجات اور دعاؤں کی قبولیت کے مقدّس و بابرکت لمحات
- 17 مارچ ، 2026
اس ایک رات میں عبادت کا اجر و ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت و ریاضت سے بڑھ کر ہے۔
شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر
- 16 مارچ ، 2026
رمضان کے قیمتی اوقات میں سے ایک وقت ہے لیلۃ القدر، مرتبے والی اور عظمت والی رات۔
قرآنِ حکیم اور ہماری زندگی
- 16 مارچ ، 2026
قرآن اللہ کا آخری کلام ہے۔ اللہ نے انسانوں کو جو علم دینا تھا، وہ قرآن کے اندر آخری مرتبہ مکمل شکل میں دے دیا گیا۔
عشرہ نجات کی پرنور، بیش قیمت ساعات اور ہماری غلط ترجیحات
- 15 مارچ ، 2026
احادیثِ مبارکہ کے مطابق ماہِ رمضان کو بنیادی طور پر تین عشروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
الوداع ماہ رمضان الوداع
- 14 مارچ ، 2026
رمضان کریم، ماہِ صیام رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا ماہِ مبارک، اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں سمیت ہم سے رخصت ہونے کو...
رمضان المبارک کے آخری ایام کی قدر کریں
- 13 مارچ ، 2026
بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں اس ماہِ مبارک میں طاعت و عبادت کا موقع نصیب ہوا۔
اعتکاف کے فضائل و احکام
- 12 مارچ ، 2026
احادیثِ نبویﷺ میں اس پر بے شمار اجر وثواب کی نوید بیان کی گئی ہے
سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ: وفاداری و جاں نثاری کا بے مثال نمونہ
- 11 مارچ ، 2026
حضرت علی ؓ امت کی تاسیسی شخصیات اور درخشاں و تابندہ ہستیوں میں سے ایک ہیں۔
حضرت علی ابن ابی طالب ؓ: سیرت و کردار کا روشن اور تاریخ سازباب
- 11 مارچ ، 2026
شیرِیزداں، شاہِ مرداں، سیّدنا علی مرتضیٰؓ نے عہدِ نبویؐ کے غزوات اور جنگی معرکوں میں جرأت و شجاعت کی تاریخ رقم کی۔
اعتکاف: ماہِ صیام کی ایک باعث اجر و فضیلت عبادت
- 10 مارچ ، 2026
الحمد للہ، اب ہم ماہ ِرمضان کے آخری عشرے میں داخل ہورہے ہیں، یہ وہ عشرہ ہے جس کی طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش کا حکم ہے۔
حُسنِ سلوک، عفوودرگزر، بُردباری و رواداری کا تاریخ ساز مظہر ’’واقعہ فتحِ مکّہ‘‘
- 09 مارچ ، 2026
ڈاکٹر حافظ محمد ثانینبیِ رحمت، محسنِ انسانیت،سرورِ کائنات، ختمی مرتبت، حضرت محمد ﷺ کی نمایاں ترین خصوصیت، آپ ﷺ کی’’...
قصہ قومِ ثمود اور حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا
- 08 مارچ ، 2026
اور قومِ ثمود کو اللہ نے یوں نیست و نابود کردیا کہ گویا وہاں وہ کبھی آباد ہی نہ تھے۔ ۔
’’غزوہ بدر‘‘ رسولﷺ کی عسکری و دفاعی حکمتِ عملی کا عظیم مظہر
- 07 مارچ ، 2026
یوم الفرقان، غزوۂ بدر اسلامی تاریخ کا عظیم اور تاریخ ساز معرکہ ہے۔
’’یوم الفرقان‘‘ جب اسلام غالب اور کفر مغلوب ہوا
- 07 مارچ ، 2026
یہ معرکہ مشر کین مکّہ کی عبرت ناک شکست اور اہل ایمان کی فتح مبین پر ختم ہوا۔
کاشانہ نبوت کی ملکہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
- 07 مارچ ، 2026
آنحضرت ﷺ کی دیگر ازواجِ مطہراتؓ میں ان ساری باتوں کا پورا پورا جواب ہمیں حضرت عائشہ صدیقہ ؓہی کی زندگی میں نظر آتا ہے۔
’’حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ‘‘ سیرت و کردار کا بے مثال اور تاریخ سازباب
- 07 مارچ ، 2026
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جیسے ہی میں نے ہوش سنبھال کر والد کو دیکھا، انہیں مسلمان پایا۔