بچوں کو روزہ کس عمر میں رکھوانا چاہئے؟
- 28 فروری ، 2026
- Web Desk
- شرعی مسائل کا حل
سوال: بچوں کو کس عمر میں روزہ رکھوانا چاہئے ؟
جواب: فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق اگر علاماتِ بلوغ ظاہر ہوجائیں تو اس پر بلوغت کا حکم لگایا جائے گا اور اُس پر احکامِ شرعیہ فرض ہوجائیں گے، اگر علامات ظاہر نہ ہوں تو پندرہ سال پورے ہونے پر بالغ تصور کیاجائے گا۔
علامہ علاؤالدین حصکفی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’اور جب بچہ روزہ رکھنے کے قابل ہوجائے اور جب د س سال کا ہوجائے تو صحیح ترین قول کے مطابق اسے سرزنش کرکے روزہ رکھوایا جائے، جیسا کہ نماز کے بارے میں حکم ہے ‘‘۔
اس کی شرح میں علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ بعض فقہاء نے بچے کے روزہ رکھنے کے قابل ہونے کی عمر سات سال بتائی ہے، (وہ لکھتے ہیں) ہمارے زمانے کا مشاہدہ یہ ہے کہ اتنی عمر میں بچہ روزہ رکھنے کے قابل نہیں ہوتا اور اس کا مدار ہر ایک کی جسمانی صلاحیت، صحت اور موسم (گرمایا سرما) پر ہے اور ظاہر یہ ہے کہ جتنے دن آسانی سے وہ روزہ رکھ سکے، اسے کہا جائے، پورے مہینے کے روزے رکھوانا ضروری نہیں ہے، (مزید لکھتے ہیں) اگر نابالغ بچہ روزہ رکھنے کے بعد بغیر عذر کے توڑ دے تو اس پرقضا نہیں ہے ‘‘۔(ردالمحتار علیٰ الدرالمختار ،جلد3،ص:344،داراحیاء التراث العربی ،بیروت)
شیخ الحدیث والتفسیر علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں : ’’جمہور علماء کا موقف یہ ہے کہ جن بچوں کی عمربلوغت سے کم ہو، اُن پر روزہ رکھنا واجب نہیں ہے، متقدمین کی ایک جماعت نے مستحب قرار دیا ہے۔ ابن سیرین اور زہری کا بھی یہی قول ہے اور یہی امام شافعی کا قول ہے، اُنہوں نے کہا کہ جب بچے روزے رکھ سکیں تو ان کو مشق کرانے کے لئے ان سے روزے رکھوانے چاہئیں۔
امام شافعی ؒ کے اصحاب کے نزدیک اس کی حدنماز کی طرح سات سال اور دس سال ہے اور اسحاق کے نزدیک اس کی حد بارہ سال ہے اور امام احمد کے نزدیک ایک روایت میں اس کی حد دس سال ہے اور امام مالک کا مشہور قول یہ ہے کہ بچوں کے حق میں روزہ مشروع نہیں ہے۔
علامہ ابن بطال نے کہاہے کہ علماء کا اس پر اجماع ہے کہ عبادات اور فرائض صرف بلوغ کے وقت لازم ہوتے ہیں، مگر اکثر علماء نے برکت کے لئے بچوں کو عبادات کی مشق کرانا مستحسن قرار دیا ہے تاکہ بچے عبادات کے عادی ہوجائیں اور جب ان پر عبادت لازم ہو، تو ان کے لئے عبادت کرنا آسان ہو اور جو اُن کو عبادت کی مشق کرائے گا، اس کو اجر ملے گا، (عمدۃ القاری، جلد11، ص:98 بیروت۔نعمۃ الباری، جلد4،ص:473)
شرعی مسائل کا حل
عید کی جماعت میں غلطیاں
- 21 مارچ ، 2026
عیدالفطر کی نماز کی دوسری رکعت میں تین تکبیرات کہنے کے بعد چوتھی تکبیر پر رکوع میں جانا ہوتا ہے۔
عید کے موقع پر مبارک باد دینے اور گلے ملنے کا کسی حدیث میں ذکر ہے؟
- 20 مارچ ، 2026
مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا تفصیلی جواب۔۔۔
سونا چاندی اور نقدی کی زکوٰۃ کے بعض احکام
- 18 مارچ ، 2026
سونے کے زیورات میں موجود کھوٹ اور پالش زکوٰۃ کے حساب میں کل وزن میں شامل کی جائے گی؟
اسپتال میں نادار بچوں کا زکوٰۃ سے علاج
- 17 مارچ ، 2026
بچوں کا ایک اسپتال ہے، جس میں باقاعدہ زکوٰۃ، صدقات کے علیحدہ علیحدہ اکاؤنٹ ہیں۔
کیا زکوٰۃ کی رقم سے مشین خرید کر ہسپتال کو دی جاسکتی ہے؟
- 16 مارچ ، 2026
مفتی منیب الرحمٰن کا جواب۔۔۔
صدقۂ فطر کس پر لازم ہے اور اس کی مقدار کیا ہے؟
- 14 مارچ ، 2026
مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا تفصیلی جواب۔۔۔
کیا اعتکاف کے دوران ضرورت کے تحت باہر نکلا جاسکتا ہے؟
- 13 مارچ ، 2026
مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب ۔۔۔
حالتِ اعتکاف میں بچوں کو قرآن کریم پڑھانا کیسا ہے؟
- 12 مارچ ، 2026
مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کوق جواب۔۔۔
کیا مسجد کا فنڈ عملے کو سہولت کیلئے فراہم کیا جاسکتا ہے؟
- 10 مارچ ، 2026
مفتی منیب الرحمٰن کا شعری جواب ۔۔۔۔
نماز میں خيالات کا آنا کیسا ہے، اکثر خيالات آتے رہتے ہیں؟
- 08 مارچ ، 2026
نماز میں خیالات سے بچنے کے لیے ان باتوں کا اہتمام کیجیے۔۔۔
سودا منسوخ ہونے کی صورت میں بیعانہ کی رقم پر زکوٰۃ کا حکم
- 07 مارچ ، 2026
مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا مفصل جواب۔
زکوٰۃ کے نصاب کی وضاحت اور واجب الادا زکوٰۃ معلوم کرنے کا طریقہ
- 06 مارچ ، 2026
مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب
کیا سال کے آخر میں حاصل ہونے والے مال پر زکوٰۃ لاگو ہوگی؟
- 05 مارچ ، 2026
میں نے اپنا مکان فروخت کردیا ہے اور مکان کی رقم رمضان سے 15دن پہلے ملی ہے۔
مرحوم والدین کی طرف سے صدقۃ الفطر ادا کرسکتے ہیں؟
- 04 مارچ ، 2026
رمضان کے مسائل سے متعلق مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب۔
کیا فطرانہ کی رقم مسجد کی تعمیر میں دے سکتے ہیں؟
- 04 مارچ ، 2026
مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب۔
عورت کو دن کے درمیان حیض ہوجائے تو روزہ قائم رہے گا؟
- 03 مارچ ، 2026
مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا شرعی جواب۔