بچوں کو روزہ کس عمر میں رکھوانا چاہئے؟

بچوں کو کس عمر میں روزہ رکھوانا چاہئے؟

سوال: بچوں کو کس عمر میں روزہ رکھوانا چاہئے ؟

جواب: فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق اگر علاماتِ بلوغ ظاہر ہوجائیں تو اس پر بلوغت کا حکم لگایا جائے گا اور اُس پر احکامِ شرعیہ فرض ہوجائیں گے، اگر علامات ظاہر نہ ہوں تو پندرہ سال پورے ہونے پر بالغ تصور کیاجائے گا۔

علامہ علاؤالدین حصکفی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’اور جب بچہ روزہ رکھنے کے قابل ہوجائے اور جب د س سال کا ہوجائے تو صحیح ترین قول کے مطابق اسے سرزنش کرکے روزہ رکھوایا جائے، جیسا کہ نماز کے بارے میں حکم ہے ‘‘۔

اس کی شرح میں علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ بعض فقہاء نے بچے کے روزہ رکھنے کے قابل ہونے کی عمر سات سال بتائی ہے، (وہ لکھتے ہیں) ہمارے زمانے کا مشاہدہ یہ ہے کہ اتنی عمر میں بچہ روزہ رکھنے کے قابل نہیں ہوتا اور اس کا مدار ہر ایک کی جسمانی صلاحیت، صحت اور موسم (گرمایا سرما) پر ہے اور ظاہر یہ ہے کہ جتنے دن آسانی سے وہ روزہ رکھ سکے، اسے کہا جائے، پورے مہینے کے روزے رکھوانا ضروری نہیں ہے، (مزید لکھتے ہیں) اگر نابالغ بچہ روزہ رکھنے کے بعد بغیر عذر کے توڑ دے تو اس پرقضا نہیں ہے ‘‘۔(ردالمحتار علیٰ الدرالمختار ،جلد3،ص:344،داراحیاء التراث العربی ،بیروت)

شیخ الحدیث والتفسیر علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں : ’’جمہور علماء کا موقف یہ ہے کہ جن بچوں کی عمربلوغت سے کم ہو، اُن پر روزہ رکھنا واجب نہیں ہے، متقدمین کی ایک جماعت نے مستحب قرار دیا ہے۔ ابن سیرین اور زہری کا بھی یہی قول ہے اور یہی امام شافعی کا قول ہے، اُنہوں نے کہا کہ جب بچے روزے رکھ سکیں تو ان کو مشق کرانے کے لئے ان سے روزے رکھوانے چاہئیں۔

امام شافعی ؒ کے اصحاب کے نزدیک اس کی حدنماز کی طرح سات سال اور دس سال ہے اور اسحاق کے نزدیک اس کی حد بارہ سال ہے اور امام احمد کے نزدیک ایک روایت میں اس کی حد دس سال ہے اور امام مالک کا مشہور قول یہ ہے کہ بچوں کے حق میں روزہ مشروع نہیں ہے۔

علامہ ابن بطال نے کہاہے کہ علماء کا اس پر اجماع ہے کہ عبادات اور فرائض صرف بلوغ کے وقت لازم ہوتے ہیں، مگر اکثر علماء نے برکت کے لئے بچوں کو عبادات کی مشق کرانا مستحسن قرار دیا ہے تاکہ بچے عبادات کے عادی ہوجائیں اور جب ان پر عبادت لازم ہو، تو ان کے لئے عبادت کرنا آسان ہو اور جو اُن کو عبادت کی مشق کرائے گا، اس کو اجر ملے گا، (عمدۃ القاری، جلد11، ص:98 بیروت۔نعمۃ الباری، جلد4،ص:473)

Share This:

شرعی مسائل کا حل

  • 21  مارچ ،  2026

عیدالفطر کی نماز کی دوسری رکعت میں تین تکبیرات کہنے کے بعد چوتھی تکبیر پر رکوع میں جانا ہوتا ہے۔

  • 20  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا تفصیلی جواب۔۔۔

  • 19  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب۔۔۔

  • 18  مارچ ،  2026

سونے کے زیورات میں موجود کھوٹ اور پالش زکوٰۃ کے حساب میں کل وزن میں شامل کی جائے گی؟

  • 17  مارچ ،  2026

بچوں کا ایک اسپتال ہے، جس میں باقاعدہ زکوٰۃ، صدقات کے علیحدہ علیحدہ اکاؤنٹ ہیں۔

  • 16  مارچ ،  2026

مفتی منیب الرحمٰن کا جواب۔۔۔

  • 14  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا تفصیلی جواب۔۔۔

  • 13  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب ۔۔۔

  • 12  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کوق جواب۔۔۔

  • 11  مارچ ،  2026

شرعی مسائل کا حل۔۔۔

  • 10  مارچ ،  2026

مفتی منیب الرحمٰن کا شعری جواب ۔۔۔۔

  • 09  مارچ ،  2026

مفتی منیب الرحمٰن کا جواب۔۔۔

  • 08  مارچ ،  2026

نماز میں خیالات سے بچنے کے لیے ان باتوں کا اہتمام کیجیے۔۔۔

  • 07  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا مفصل جواب۔

  • 06  مارچ ،  2026

زکوٰۃ سے متعلق مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب...

  • 06  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب

  • 05  مارچ ،  2026

میں نے اپنا مکان فروخت کردیا ہے اور مکان کی رقم رمضان سے 15دن پہلے ملی ہے۔

  • 04  مارچ ،  2026

رمضان کے مسائل سے متعلق مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب۔

  • 04  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب۔

  • 03  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا شرعی جواب۔