رمضان المبارک اور ذیابطیس کے مریض

رمضان المبارک اور ذیابطیس کے مریض

سفر اور مرض عموماً عارضی ہوتے ہیں۔ مگر کچھ امراض ایسے ہوتے ہیں جو پوری زندگی انسان کے ساتھ چلتے رہتے ہیں۔ ذیابطیس بھی ایسا ہی مرض ہے، مگر اچھی منصوبہ بندی اور حکمتِ عملی اپنا کر ذیابطیس یا شوگر کے مرض کے ساتھ عمومی زندگی گزاری جا سکتی ہے اور معالج کی ہدایات کی روشنی میں روزہ بھی رکھا جا سکتا ہے۔ ذیابطیس کے مریض ماہِ رمضان کیسے گزاریں اس بارے میں گفتگو سے قبل ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ذیابطیس کا مرض ہوتا کیا ہے اور اس کی وجہ سے انسان کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ذیابطیس ایک دائمی نوعیت کا مرض ہوتا ہے، جس میں خون کے اندر شکر یا گلوکوز کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ذیابطیس کا مرض جسم کے دوسرے حصوں کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتا ہے جن میں دل، خون کی نالیاں، آنکھیں، گردے اور اعصاب شامل ہیں۔ ہمارے وجود کی بقاء کے لیے گلوکوز کی موجودگی لازمی ہے۔

اس سے ہمارے جسم کی نشوونما ہوتی ہے، ہمیں ضرورت کے مطابق توانائی حاصل ہوتی ہے اور زندگی کا سفر آگے بڑھتا ہے۔ ذیابطیس کے مرض میں انسان کو بہت سی شکایات اور علامات لاحق ہو سکتی ہیں مثلاًپیشاب کی زیادتی (خصوصاً رات کے وقت)، پیاس کی شدت، وزن میں کمی، نظر کے مسائل، بھوک کی زیادتی، شدید تھکاوٹ، زخموں کا ٹھیک نہ ہونا، خشک جلد، ہاتھ اور پاؤں کا سُن ہو جانا یا ان میں سوئیاں چبھنے کا احساس ہونا، بار بار جراثیم کا حملہ اور قوت مدافعت میں کمی۔

ذیابطیس کا مرض اس وقت ایک عالمگیر مسئلہ بن چکا ہے اور اس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس مرض کا ہدف دنیا کے تمام ممالک ہیں۔ اس حوالے سے غریب اور امیر کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔اعدادوشمار کے مطابق اس وقت دنیا میں ذیابطیس کے 550 ملین کے قریب مریض پائے جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اب سے 20 سال بعد یہ تعداد بڑھ کر 780 ملین تک پہنچ جائے گی۔

ذیابطیس کے سب سے زیادہ مریض چین میں موجود ہیں۔ ان کی تعداد 140 ملین کے لگ بھگ ہے۔ بھارت میں یہ تعداد تقریبا 74.2 ملین ہے۔ پاکستان اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ پاکستان میں 33 ملین سے زیادہ لوگ ذیابطیس کے مرض میں مبتلا ہیں۔ مجموعی طور پر پاکستان کی 31 فی صد آبادی ذیابطیس کا شکار ہے۔ تناسب کے اعتبار سے پوری دنیا میں پاکستان پہلے نمبر پر ہے جہاں ہر تیسرا فرد ذیابطیس کا مریض ہے۔عمومی طور پر ذیابطیس کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔

٭ ٹائپ 1 ذیابطیس ٭ ٹائپ 2 ذیابطیس

ان دونوں اقسام کا فرق ہمیں معلوم ہونا چاہیے ،کیوںکہ اسی بنیاد پر یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ ذیابطیس کے مریض کو روزہ رکھنا چاہیے یا نہیں۔ ٹائپ 2 ذیابطیس میں لبلبہ (Pancreas )انسولین بنانا ترک کر دیتا ہے یا بہت کم انسولین بناتا ہے۔ انسولین ایک ہارمون کا نام ہے، جس کی پیداوار لبلبے کے مخصوص خلیات (Beta cells) میں ہوتی ہے۔ انسولین کے ذریعے خوراک میں گلوکوز کی مقدار کو قابو میں رکھا جاتا ہے۔ انسولین کے زیر اثر گلوکوز جسم کے مختلف خلیات میں داخل ہو کر توانائی فراہم کرنے کا کام کرتا ہے۔

ٹائپ 2 ذیابطیس میں لبلبہ انسولین بناتا ہے، مگر کم مقدار میں۔ دوسری طرف انسانی جسم کے خلیات میں مدافعت پیدا ہو جاتی ہے اور ان پر انسولین کے اثرات ختم ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں خون کے اندر گلوکوز کی مقدار مسلسل بڑھتی رہتی ہے۔ ٹائپ 1 ذیابطیس کا علاج صرف انسولین کے ذریعے ہوتا ہے اور انسولین انجکشن یا پمپ کے ذریعے زیرِ جلد فراہم کی جاتی ہے۔ ٹائپ 2 ذیابطیس کا علاج منہ کے راستے دی جانے والی ادویہ سے کیا جاتا ہے جبکہ ورزش اور غذا کی طرف خصوصی توجہ درکار ہوتی ہے۔ بعض صورتوں میں ٹائپ 2 ذیابطیس کے مریضوں کو دیگر ادویہ کے ساتھ انجکشن کے ذریعے انسولین بھی فراہم کی جاتی ہے۔

ٹائپ 1 ذیابطیس کے مریضوں کو ڈاکٹر روزہ رکھنے کی اجازت نہیں دیتے، کیوں کہ ان مریضوں کو کئی مرتبہ انسولین کے انجکشن لینے پڑتے ہیں اور عموماً کھانے سے قبل لینے ہو تے ہیں۔ یہ مریض انجکشن کے بعد کچھ نہیں کھائیں گے تو شدید نقاہت اور کمزوری کا شکار ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا ان مریضوں کو روزہ نہیں رکھنا چاہیے ۔ ٹائپ 2 ذیابطیس کے مریض ڈاکٹر کے مشورے سے روزہ رکھ سکتے ہیں، مگر دواؤں کی مقدار اور اوقات میں تبدیلی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

ذیابطیس کے صرف ان مریضوں کو روزہ رکھنا چاہیے جن کا مرض قابو میں ہو اور خون میں گلوکوز کی مقدار غیر متوازن نہ ہو۔ یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران خون میں گلوکوز کی شدید کمی تو واقع نہیں ہوئی ہے۔

گلوکوز کی اچانک کمی کا معاملہ بے حد اہم ہوتا ہے اور اس کی علامات سے مریضوں کو واقف ہونا چاہیے۔ یہ علامات ہیں ٭ غیر معمولی نقاہت اور کمزوری ٭ بھوک کا شدید احساس اور میٹھا کھانے کی خواہش۔ ٭دل کی دھڑکن کا بڑھ جانا ٭ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جانا ٭ ٹھنڈے پسینے آنا ٭ذہنی کیفیت میں تبدیلی ٭غشی طاری ہونا۔ ان علامات والے مریضوں کو روزہ توڑ دینا چاہیے اور فوری طور پر کوئی میٹھی چیز کھا کر قریبی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

روزہ رکھنے والے ذیابطیس کے مریضوں کو خون میں گلوکوز کی مقدار پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگر گلوکوز کی مقدار 70mg/100ml سے کم ہو تو روزہ توڑ دینا چاہیے۔ گلوکوز کی مقدار 70 اور 90 ملی گرام کے درمیان ہونے کی صورت میں ایک گھنٹے کے اندر دوبارہ معائنےکی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر خون میں گلوکوز کی مقدار 300 ملی گرام سے بڑھ جائے تو روزہ توڑ دینا چاہیے۔ ہمارے جسم کا نظام کچھ اس طرح ہے کہ سحری کے اٹھ گھنٹے بعد گلوکوز کی مقدار کو حدود میں رکھنے کے لیے ذخیرہ شدہ توانائی کا استعمال شروع ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں گلوکوز کی کمی یا زیادتی واقع ہو سکتی ہے۔ اسی طرح پانی کی شدید کمی بھی ہو سکتی ہے۔

ذیابطیس کے مریضوں کے لیے ضروری ہے کہ سحر اور افطار کے اوقات میں پانی کا زیادہ استعمال کریں، مگر میٹھے مشروبات سے گریز فرمائیں۔ ویسے تو ذیابطیس کے مریضوں کو پورے سال ہی غذا کا خیال رکھنا ہوتا ہے، مگر روزوں کے دوران خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ ضرورت سے زائد یا غیر صحت بخش غذائیں کھانے سے وزن بڑھنے اور خون میں گلوکوز کی مقدار غیر متوازن ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ انہیں ایسے کاربوہائیڈریٹس یا نشاستے استعمال کرنے چاہئیں جن میں فائبر (ریشہ) زیادہ ہو۔

مثلاً چکی کے موٹے آٹے کی روٹی اور گہرے رنگ والی ڈبل روٹی، جو کا دلیہ بھی صحت بخش ہوتا ہے۔ دالیں، پھلیاں، سبزیاں اور پھل بھی زیادہ استعمال کرنے چاہئیں۔ لحمیات یا پروٹین کے لیے مچھلی، مرغی اور انڈے کھانے چاہئیں۔ افطار کے وقت زیادہ میٹھی اور چکنائی والی اشیاء سے گریز کرنا چاہیے ۔ ہم سب کی خواہش ہوتی ہے کہ کھجور سے روزہ افطار کیا جائے مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کھجور میں مٹھاس زیادہ ہوتی ہے اس لیے دو تین کھجوروں پر قناعت کرنی چاہیے۔

ذیابطیس کے مریضوں کے لیے کچھ اہم ہدایات ذیل میں موجود ہیں جو اس ماہ مبارک میں پیشِ نظر رکھنی چاہئیں۔

٭روزے کے دوران خون میں گلوکوز کی مقدار کا معائنہ کرتے رہیں خصوصا ان اوقات میں: سورج نکلنے سے قبل، سورج نکلنے کے دو گھنٹے بعد، ظہر کے وقت، سورج ڈوبنے سے قبل اور رات کے وقت سونے سے قبل۔ٹائپ 1 ذیابطیس کے مریضوں کو روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔ وہ مریض جو روزہ رکھنے کے شدید خواہش مند ہوں انہیں ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ اگر ان کی انسولین کے اوقات اس طرح متعین کیے جا سکتے ہوں کہ روزے کے دوران خون میں گلوکوز کی مقدار غیر متوازن نہ ہو تو ایسی صورت میں وہ روزہ رکھ سکتے ہیں۔

٭ماہِ مبارک میں مناسب آرام بھی ضروری ہے۔ رات کی نیند کم ہونے سے خون میں گلوکوز کی مقدار غیر متوازن ہو سکتی ہے۔

٭اگر جسم میں پانی کی شدید کمی یا Dehydration ہو تو روزہ توڑ دینا چاہیے۔

٭ٹائپ 2 ذیابطیس کے بہت سے مریض انسولین استعمال کرتے ہیں۔ انہیں اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر کے انسولین کی مقدار اور اوقات کا دوبارہ تعین کرنا چاہیے۔

٭شدید جسمانی مشقت کرنے والے ذیابطیس کے مریضوں کو روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔

٭ذیابطیس کی مریضہ اگر حاملہ ہو تو اسے روزہ رکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔

٭ذیابطیس کے کئی مریض دیگر جسمانی عوارض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ مثلاً دل، خون کی نالیوں اور گردے کے امراض۔ ایسے مریضوں کے لیے روزہ رکھنا مناسب نہیں ہوگا۔

Share This:

صیام و صحت

  • 20  مارچ ،  2026

اکثر لوگ دن میں تین بار کھانا کھاتے ہیں اور یہ ان کی روزمرہ زندگی کا عمومی جزو بن چکا ہے۔

  • 19  مارچ ،  2026

نئی تحقیق میں ماہرین نے روزے کے کچھ حیرت انگیز فوائد کا اعتراف کیا ہے۔

  • 18  مارچ ،  2026

رمضان میں فجر سے مغرب تک بغیرکچھ کھائے پیے رہنے سے صحت میں جو بہتری آتی ہے، وہ اب متعدّد تحقیقات سے بھی ثابت ہوچُکی ہے۔

  • 17  مارچ ،  2026

ناریل کا پانی ایک بہترین مشروب ہے، جو ذائقہ میں لذیذ ہونے کے ساتھ توانائی بحال کرتا ہے۔

  • 16  مارچ ،  2026

سحری کے وقت لی گئی غذاؤں کی بدولت انسان کا جسم پورا دن متحرک رہتا ہے۔

  • 14  مارچ ،  2026

رمضان بلاشبہ ہر بار کی طرح رحمتوں اور برکتوں سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ بابرکت مہینہ ایک بہترین روٹین بھی ساتھ لاتا ہے اور...

  • 13  مارچ ،  2026

یہاں چند ایسی غذائیں بتائی جا رہی ہیں کہ جن سے آپ کی سحری صحت بخش ہو سکتی ہے۔

  • 12  مارچ ،  2026

رمضان کے روزے رکھنا نہ رکھنا، خالصتاً ایک مسلمان کا ذاتی فعل ہے۔

  • 11  مارچ ،  2026

دوحہ، قطر کے حمد میڈیکل کارپوریشن میں انٹرنل میڈیسن کے چیئرمین پروفیسر عبدالبادی ابو سمرہ نے ذیابیطس کے مریضوں کو مشورہ...

  • 10  مارچ ،  2026

صحت کے حوالے سے روزے کے بے شمار فوائد ہیں، جن میں سب سے بڑی نعمت ہیومن گروتھ ہارمونز میں اضافہ اور جین کی تبدیلی ہے جس سے...

  • 09  مارچ ،  2026

اچھے روزے کی شروعات یقینی طور پر اچھی سحری سے ہوتی ہے۔

  • 07  مارچ ،  2026

دُودھ کے ساتھ کھجور کا استعمال ہمیں صحت مند اور قوی رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

  • 06  مارچ ،  2026

ماہ رمضان کے مقدس مہینے میں روزے داروں کو متوازن غذا کھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

  • 06  مارچ ،  2026

ٹائپ وَن ذیابیطس کے شکار افراد کو عموماً روزہ نہ رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

  • 05  مارچ ،  2026

روح روزہ و رمضان تو یہ ہے کہ انسان کھانوں سے دل کو ہٹائے اور روح اور جسم کی ساری توانائیاں عبادات پر صرف کرے۔

  • 04  مارچ ،  2026

عموماً رمضان المبارک میں زیادہ تر افراد پیٹ کے عوارض سے متاثر ہوتے ہیں، جس کی ایک وجہ بسیار خوری ہے۔

  • 03  مارچ ،  2026

ذیابطیس کے مریض ڈاکٹر کی رہنمائی میں بہت اچھی طرح اور خطرات سے بچتے ہوئے روزہ رکھتے ہیں۔

  • 02  مارچ ،  2026

نوجوانوں کیلئے رمضان ایک ایسا سنہری موقع ہے، جس میں وہ اپنی جسمانی صحت متوازن، نفسیاتی قوّت مضبوط اور روحانیت بلند کر...

  • 28  فروری ،  2026

ماہ رمضان کے دوران بیشتر افراد کھجور سے روزہ افطار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

  • 26  فروری ،  2026

روزے داروں میں ایسے افراد بھی شامل ہوتے ہیں جو تمباکونوشی کے عادی ہیں۔