رمضان المبارک میں تلاوت قرآن کا اہتمام اور اس کے تقاضے

رمضان المبارک میں تلاوت قرآن کا اہتمام اور اس کے تقاضے

مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ

اللہ تعالیٰ نے اپنے ہر ہر نبی و رسول پر عبادت کا جو جو طریقہ نازل فرمایا تھا، ’’نماز‘‘ اس کی مکمل صورت ہے۔ راہِ خدا میں خرچ کرنے کا جو جو طریقہ ہر دور اور ہر زمانے میں رائج تھا، ’’زکوٰۃ‘‘ اس کی کامل تصویر ہے۔

ہر نبی کی شریعت میں روزے کا جو حکم نازل ہوا تھا، ’’ماہِ رمضان‘‘ اس کی انتہا ہے، اور اپنے بندوں سے خطاب کا جوجو اسلوب خالق کائنات کا تھا، ’’قرآن کریم‘‘ اسے دوام عطا کرتا ہے۔ تمام انبیاء و رسل کی شریعتیں ’’دین ِ اسلام‘‘ پر منتج ہوتی ہیں اور نبوت و رسالت کے تمام دریا خاتم النبیین حضور اکرم ﷺ کی ’’ختم نبوت‘‘ کے سمندر میں سما جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری دین اسلام اپنے آخری پیغمبر نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کو اپنی آخری کتاب ’’قرآن کریم‘‘ کے ذریعے عطا فرمایا ہے۔ قرآن کریم ماہِ رمضان المبارک میں نازل ہوا، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’مہینہ رمضان کا ہے جس میں نازل ہوا قرآن، ہدایت ہے واسطے لوگوں کے اور دلیلیں روشن راہ پانے کی اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی۔‘‘(سورۃ البقرہ: ۱۸۵)اور شبِ قدر میں نزولِ قرآن کے بارے میں ارشاد الٰہی ہے: ’’اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ۔‘‘ ’’ہم نے اس کو اتارا شبِ قدر میں۔‘‘(سورۃالقدر:۱)

ان دونوں آیات کریمہ سے نزول قرآن کا مہینہ بھی متعین ہو جاتا ہے اور شب بھی، چنانچہ نزول قرآن کا مہینہ رمضان ہے اور نزول قرآن کی شب لیلۃ القدر ہے۔حضرت واثلہ ابن اسقعؓ کی روایت میں ہے: ’’نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحائف رمضان کی پہلی تاریخ کو نازل ہوئے، زبور اٹھارہ رمضان کو نازل ہوئی، اور قرآن کریم چوبیس رمضان کو نازل ہوا ہے۔‘‘ حضرت جابرؓ سے ابو یعلیٰ اور ابن مردویہ نے یہ نقل کیا ہے کہ: ’’زبور رمضان کی بارہ تاریخ کو، تو رات چھ رمضان کو، اور انجیل اٹھارہ رمضان کو نازل کی گئی ہے۔‘‘۔

نیز حضرت ابن عباسؓ کا قول یہ ہے: ’’لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر لیلۃ القدر میں پورا قرآن نازل کیا گیا اور وہاں سے وقتاً فوقتاً تئیس برس میں موقع بموقع تھوڑا تھوڑا نازل ہوتا رہا۔‘‘۔ حضرت ابن عباسؓ کا ایک قول یہ ہے کہ: ’’آسمانِ دنیا پر بیت المعمور میں قرآن شریف رکھ دیا گیا تھا اور لوحِ محفوظ سے بیت المعمور میں اتارا جانا رمضان میں ہوا، پھر وہاں سے تھوڑا تھوڑا نازل ہوتا رہا، یہاں تک کہ تئیس سال میں پورا ہوا۔‘‘

حضرت مجاہدؒ ، ضحاکؒ اور حسن بن فضلؒ نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ:’’شہر رمضان وہ ہے جس کے روزوں کی فرضیت کے بارے میں قرآن نازل ہوا، جیسے کہا کرتے ہیں کہ یہ آیت نماز کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور یہ آیت زکوٰۃ کے بارہ میں نازل ہوئی ہے۔‘‘ (کشف الرحمٰن از سحبان الہند مولانا احمد سعید دھلویؒ)

مندرجہ بالا تصریحات سے ماہِ رمضان میں نزول قرآن کا مسئلہ واضح ہوگیا۔ لہٰذا جب ’’رمضان، ماہِ قرآن‘‘ ہے تو اب اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس مبارک مہینے میں تلاوتِ قرآن کا بہ کثرت اہتمام کیا جائے۔ قرآن کریم پڑھنا اور سننا یوں بھی بہت اونچا عمل ہے ، چنانچہ مختلف روایات میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں حضرات سے الگ الگ مواقع پر فرمایا کہـ: ’’مجھے اللہ تعالیٰ نےحکم فرمایا ہے کہ میں تم سے قرآن سنوں۔‘‘

چنانچہ دونوں احباب نے تقاضائے خداوندی اور رضائے پیغمبری سے تلاوتِ قرآن کریم فرمائی تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔ جب کہ ماہِ رمضان میں اس عمل کی اہمیت یوں بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ نزولِ قرآن کی یاد تازہ کرنے کا مہینہ ہے، چنانچہ آپ ﷺ بھی اس مہینے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرمایا کرتے تھے اور ایک دوسرے کو قرآن کریم سنتے سناتے تھے۔ ہمارے اکابر میں سے امام ابو حنیفہؒ رمضان میں اکسٹھ قرآن کریم مکمل فرماتے تھے، ایک قرآن دن میں، ایک رات میں ، اور ایک تراویح میں پڑھتے تھے۔ امام شافعیؒ اور امام بخاریؒ کا بھی یہی معمول نقل کیا گیا ہے۔

ہمارے شیخ المشائخ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنیؒ تیس قرآن کریم مکمل فرماتے تھے، یعنی روز ایک قرآن کریم مکمل پڑھتے تھے۔ عوام الناس کو بھی روزانہ تلاوتِ قرآن کی عادت ڈال لینی چاہئے، رمضان میں کم از کم ایک سیپارہ تو روزانہ ضرور پڑھ لے، یہ کم از کم درجہ ہے، ورنہ جتنا زیادہ ہمت عطا ہو اتنا ہی زیادہ پڑھنے کا اہتمام ہونا چاہئے۔ ایک مسلمان کو جوں ہی ذرا سی فرصت ملے فوراًـ تلاوت قرآن میں مشغول ہو جائے۔

رمضان المبارک میں قرآن کریم کی تلاوت سننے کا ایک اہم ذریعہ ’’نمازِ تراویح‘‘ بھی ہے، جس میں مکمل قرآن کریم پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ حضرت شاہ عبدالقادر محدث دھلویؒ لکھتے ہیں:’’اس سے معلوم ہوا کہ رمضان کا مہینہ اسی سے ٹھہرا کہ اس میں اترا قرآن، پس قرآن کی خدمت اس مہینے میں اول ہونی چاہئے۔

اسی سبب سے رسولِ خداﷺ نے تقید کیا تراویح کا، اور آپ نے چند روز جماعت کروا کر پھر نہ کروائی کہ قرآن میں اشارات ہیں صریح فرض نہ ہوجائے۔ ‘‘ یعنی تراویح اس لئے فرض نہیں کی گئی کہ قرآن کریم میں اس کی صراحت نہیں، البتہ یہ نماز باعث اجر و ثواب ضرور ہے، چنانچہ حدیث نبوی ؐہےکہ ـ: ’’جو شخص رمضان کی راتوں میں قیام کرے، ایمان و یقین کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے یہاں سے ثواب کی امید و یقین رکھتے ہوئے اس کے گزشتہ گناہ معاف ہوجائیں گے۔‘‘

یہاں ’’رمضان کی راتوں میں قیام‘‘ سے مراد تراویح ہی ہے۔ آپ ﷺ نے اس کی تاکید اس لئے نہیں فرمائی کہ کہیں یہ فرض نہ ہوجائے، البتہ اپنے عمل سے چند روز ادا فرماکر اس پر اپنی ’’سنت‘‘ ہونے کی مہر ضرور لگادی۔ آپﷺ کے بعد صحابہ کرامؓ نے آپﷺ کی منشا کو سمجھتے ہوئے اس کے سنت موکدہ ہونے پر اجماع و اتفاق کرلیا اور امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ نے مسجد میں ایک امام کے پیچھے پورے رمضان تراویح پڑھنے کے لئے امت کو کھڑا کردیا۔

امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ جب کوفہ آئے اور ادھر سے رمضان شروع ہوگیا تو مسجدوں میں تراویح کی جماعتوں کو دیکھ کر ارشاد فرمایا: ’’عمرؓ! اللہ تعالیٰ آپ کی قبر کو اس طرح منور کرے، جس طرح کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کو منور کردیا۔‘‘ (معارفِ نبوی، ج:۲، ص:۳۲۴)

غرض یہ کہ نماز تراویح ماہِ رمضان میں اہتمام قرآن کی ایک احسن صورت ہے، اس کے علاوہ بھی تلاوت قرآن کریم کا اہتمام ہم سب کو کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس رمضان سمیت زندگی کے ہر رمضان کی قدر دانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور قرآن کریم کے ساتھ ہمارے تعلق کو مضبوط تر فرما دے۔( آمین)

Share This:

اسلامی مضامین

  • 21  مارچ ،  2026

’’عیدالفطر‘‘ اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے اجر اور مزدوری وصول کرنے کادن ہے۔

  • 20  مارچ ،  2026

رمضان کا مبارک مہینہ اپنی تمام تر برکتوں، رحمتوں، مغفرتوں، فضیلتوں سعادتوں کے ساتھ آج اختتام پذیر ہو رہا ہے۔

  • 19  مارچ ،  2026

ماہِ صیام جس کا گیارہ مہینے سے انتظار تھا، وہ آیا اور ہوا کے ایک خوشگوار جھونکے کی مانند ہمیں ہر نعمتِ خداوندی سے سرفراز...

  • 18  مارچ ،  2026

’’رمضان المبارک‘‘ نیکیوں کا موسم بہار، ایک عظیم ماہِ مبارک ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔

  • 17  مارچ ،  2026

اس ایک رات میں عبادت کا اجر و ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت و ریاضت سے بڑھ کر ہے۔

  • 16  مارچ ،  2026

رمضان کے قیمتی اوقات میں سے ایک وقت ہے لیلۃ القدر، مرتبے والی اور عظمت والی رات۔

  • 16  مارچ ،  2026

قرآن اللہ کا آخری کلام ہے۔ اللہ نے انسانوں کو جو علم دینا تھا، وہ قرآن کے اندر آخری مرتبہ مکمل شکل میں دے دیا گیا۔

  • 15  مارچ ،  2026

احادیثِ مبارکہ کے مطابق ماہِ رمضان کو بنیادی طور پر تین عشروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

  • 14  مارچ ،  2026

رمضان کریم، ماہِ صیام رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا ماہِ مبارک، اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں سمیت ہم سے رخصت ہونے کو...

  • 13  مارچ ،  2026

بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں اس ماہِ مبارک میں طاعت و عبادت کا موقع نصیب ہوا۔

  • 12  مارچ ،  2026

احادیثِ نبویﷺ میں اس پر بے شمار اجر وثواب کی نوید بیان کی گئی ہے

  • 11  مارچ ،  2026

حضرت علی ؓ امت کی تاسیسی شخصیات اور درخشاں و تابندہ ہستیوں میں سے ایک ہیں۔

  • 11  مارچ ،  2026

شیرِیزداں، شاہِ مرداں، سیّدنا علی مرتضیٰؓ نے عہدِ نبویؐ کے غزوات اور جنگی معرکوں میں جرأت و شجاعت کی تاریخ رقم کی۔

  • 10  مارچ ،  2026

الحمد للہ، اب ہم ماہ ِرمضان کے آخری عشرے میں داخل ہورہے ہیں، یہ وہ عشرہ ہے جس کی طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش کا حکم ہے۔

  • 09  مارچ ،  2026

ڈاکٹر حافظ محمد ثانینبیِ رحمت، محسنِ انسانیت،سرورِ کائنات، ختمی مرتبت، حضرت محمد ﷺ کی نمایاں ترین خصوصیت، آپ ﷺ کی’’...

  • 08  مارچ ،  2026

اور قومِ ثمود کو اللہ نے یوں نیست و نابود کردیا کہ گویا وہاں وہ کبھی آباد ہی نہ تھے۔ ۔

  • 07  مارچ ،  2026

یوم الفرقان، غزوۂ بدر اسلامی تاریخ کا عظیم اور تاریخ ساز معرکہ ہے۔

  • 07  مارچ ،  2026

یہ معرکہ مشر کین مکّہ کی عبرت ناک شکست اور اہل ایمان کی فتح مبین پر ختم ہوا۔

  • 07  مارچ ،  2026

آنحضرت ﷺ کی دیگر ازواجِ مطہراتؓ میں ان ساری باتوں کا پورا پورا جواب ہمیں حضرت عائشہ صدیقہ ؓہی کی زندگی میں نظر آتا ہے۔

  • 07  مارچ ،  2026

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جیسے ہی میں نے ہوش سنبھال کر والد کو دیکھا، انہیں مسلمان پایا۔