’’رمضان کریم‘‘ اللہ تعالیٰ کے قُرب و رضا اور عبادات و مُناجات کا موسم بہار
- 26 فروری ، 2026
- Web Desk
- اسلامی مضامین
پروفیسر خالد اقبال جیلانی
ہر سال کی طرح اس سال بھی ہم اس مبارک مہینے کی مسعود ساعتوں میں سانس لے رہے ہیں اور یہ مبارک مہینہ دنیا کو ’’صبغت اللہ‘‘ کے رنگ میں رنگ رہا ہے۔ پوری زمین کا ماحول رحمت و نور سے منور ہے، مسجدیں رکوع و سجود کرنے والوں سے معمور ہیں۔ صبح و شام سحری و افطار کی تیاریوں سے مسحور ہیں۔ ایک قابلِ رشک نور ہر طرف جھلک رہا ہے جس کے نظاروں سے روح و نظر جھوم جھوم رہے ہیں۔
زبانیں حمد و ثناء سے تر ہیں اوردل شکرِ خدا سے لبریز، ہر طرف سے دعاؤں کی یہ صدائیں بلند ہو رہی ہیں کہ ’’اے ہمارے پروردگار ،اپنے اس رنگ و نور کے ماحول کو کبھی ختم نہ ہونے دینا، لیکن اس سب کے باوجود یہ پُر نور ساعتیں برکت کے صبح و شام ، رحمت کے دن اور مغفرت کی راتیں قانونِ فطرت کے مطابق یا حکم الہٰی کے ماتحت 29یا 30رمضان کو عید کا چاند نظر آتے ہی آئندہ ایک سال تک کے لئے ہم سے رخصت ہو جائیں گی اور نیکیوں سے تہی خزاں کا دور دورہ ہوگا۔
کاش کہ مسلمان بحیثیت امت اس عظیم و مقدس مہینے کی روح اور اس کے حقیقی مقاصد و غرض و غایت کو اس کے رخصت ہونے سے پہلے سمجھ پائیں۔ زمینی حقائق پرنظر ڈالیں تو یہاں اذانوں کی پُر کیف اور کانوں میں توحید کے نغموں کا رس گھولتی صدائیں تو ہیں، لیکن قلوب پر اس کا اثر نظر نہیں آتا، مساجد میں تراویح کے اجتماعات میں قرآن کی تلاوت کا لحن و ترنم تو ہے، مگر اس کے زیر اثر ہمارے کردار و عمل میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی، ہر شخص روزے دار تو ہے مگر اپنی سوچ و فکر اور کردار و عمل میں ’’روز جیسا‘‘ ہی ہے ہمارا روزہ ہمارے نفس، قلب، روح اور ضمیر کوگناہ اور برائی سے نہیں روک پا رہا۔
ہم میں سے کسی کا یہ ساٹھواں رمضان ہوگا تو کسی کا سترواں، کوئی اپنی زندگی میں یہ پچاسواں رمضان دیکھ رہا ہوگا تو کوئی یہ کہتا ملے گا میں چالیس سال سے رمضان کے روزے رکھ رہا ہوں۔ لیکن عمر رفتہ کا مشاہدہ یہی ہے کہ اس مہینے کے انسانی زندگی اور قلب و روح پر جو انمٹ نقوش مرتب ہونے چائیں ،وہ اس چالیسویں، سترواں رمضان گزارنے کے بعد نظر نہیں آتے اور روزہ جو معاشرتی تبدیلی پیدا کرتا ہے۔
وہ دائمی ہونے کے بجائے عارضی ہی ثابت ہوتی ہے اور ہمارا معاشرہ بس ظاہری حدود و قیود کے ساتھ ایک وقتی اور ’’رمضانی‘‘ معاشرہ ہی رہتا ہے اور ان عارضی اثرات میں بھی ہر سال زوال پذیری کارجحان نمایاں اور سال بہ سال فزوں تر ہے۔
ہم صرف موجودہ رمضان کے گزشتہ گیارہ دنوں کا جائزہ لیں تو ہمیں ہر طرف معاشرتی اور اخلاقی برائیاں عروج پر نظر آئیں گی۔ ذخیرہ اندوزی تو رمضان سے دو تین مہینے پہلے ہی شروع ہوچکی تھی، اس کے ساتھ مصنوعی اور ہماری اپنی پیدا کردہ مہنگائی اور منافع خوری کے باعث کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جس کے باعث غریب ایک کجھور تک سے محروم اور پانی کے گھونٹ سے روزہ رکھنے اور افطار کرنے پر مجبور ہے۔
یہ سب اس وجہ سے ہے کہ ہماری تمام عبادتیں نماز ہو یا روزہ ، حج ہو یا عمرہ ، محض رسمی ادائیگی کا مظہر بن گئی ہیں۔ جب عبادات صرف روایات تک محدود ہو جائیں تو پھر انسانی معاشرے کی یہی تصویر ابھرتی ہے اور کوئی بھی عبادت چاہے نماز ہو یا روزہ انسان کے اندر کوئی تبدیلی پیدا کرنے کا باعث نہیں بنتی۔
اس مہینے میں اجر و ثواب کے کئی گنا بڑھ جانے کی باتیں، اس ماہِ مبارک میں نیک کاموں کی فضیلت کا بیان، پروردگار کی رحمتوں اور مغفرتوں کے تذکرے سن سن کر آپ کو زبانی یاد گئے ہوں گے۔ اس لئے میں یہاں ان سب کا تذکرہ کئے بغیر ان اہم معمولات اور روزے میں بھوک پیاس کی تربیت سے مطلوب نتائج پر آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ جن کو اپنا معمول بنا کر ہم اس رمضان میں کچھ ایسا نیا کریں جو ہماری روحانی ترقی کے ساتھ ہماری اخلاقی اور معاشرتی اصلاح کا باعث ہو۔
سب سے پہلی بات تو یہ کہ ہم اس رمضان میں کچھ ’’نیا ‘‘ کرنے کےعزم کے ساتھ یہ ارادہ کریں کہ ہم روزے میں ہر اس برے عمل یا کام کو ترک کردیں گے جس کے کرنے سے اللہ نے منع کیا ہے اور ہر وہ نیک عمل کریں گے جس کے کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔
یاد رکھیئے رمضان ہو یا غیر رمضان روزے دار ہوں یا بے روزہ ہر حالت میں نیکی کرنے سے زیادہ افضل گناہ سے بچنا اہمیت کا حامل ہے، اسی کا نام ’’تقویٰ ‘‘ ہے اور تقوی غایتِ صوم ہے۔ اگر ہم اپنے روزوں کو نیکیاں کر کے چار چاند نہیں لگا سکتے تو کم از کم گناہ سے بچ کر اپنے روزوں کو کراہیت سے تو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
اس رمضان یہ معمول بنائیں کہ نماز کے وقت سے پہلے وضو کریں، ہر وقت با وضو رہیں ، تحیتہ الوضو ءکے دو نفل پڑھیں، اذان سے پہلے مسجد پہنچیں اور سب سے پہلے تحیتہ المسجد ادا کریں اس کے ساتھ فرض سے پہلے کی سنتیں چاہے موکدہ ہوں یا غیر موکدہ لازمی ادا کریں۔ اس مہینے تمام نمازیں تکبیر تحریمہ سے ادا کرنے کا خاص اہتمام کریں۔
فرضوں کے بعد کی تمام سنتیں اور نوافل ادا کریں۔ ان سارے کاموں میں سب سے اہم یہ بات ہے کہ نمازوں کو توجہ الیٰ اللہ، خشوع و خضوع کے ساتھ اور سمجھ کر ادا کریں۔ ہماری نمازیں اور روزہ بفرمانِ نبوی ﷺ ’’جب تم اللہ کی عبادت کرو تو ایسے کرو کہ تم اللہ کو دیکھ رہے ہو۔‘‘ کا عملی مظہر ہونی چائیں۔
اس کے ساتھ اس رمضان کو بدلا ہوا رمضان بنانے کے لئے رمضان کی ہررات میں تہجد کا خصوصی اہتمام کریں ۔ تہجد کی نماز اللہ اور بندے کے درمیان گویا ایک خفیہ میٹنگ ملاقات ہوتی ہے، اس براہ راست ملاقات کے لئے حدیث کے مطابق اللہ ہر رات کے آخری حصے میں اپنے بندوں کے انتہائی قریب آ کر پکارتا ہے کہ کون ہے جو مجھ سے مغفرت، رحمت ، رزق مانگے، میں اسے عطا کروں۔
یہ ایک ایسی خفیہ ملاقات کی دعوت ہے جو صرف بندے اور اس کے آقا و مالک کے درمیان ہوتی ہے۔ یہ سحر کے وہ پر نور لمحات ہیں جن میں بندہ اپنی اشک بار آنکھوں سے اپنے مالک کے حضور اپنی التجا اور فریادلے کر پہنچتا ہے۔ ان لمحات میں بندے اور اللہ کے درمیان کوئی اور نہیں ہوتا اللہ بندے کی درخواست براہِ راست سن کر قبول کرتا ہے اور بقولِ امام شافعیؒ ’’ تہجد کے وقت کی دعا ایسا تیر ہے کہ جس کا نشانہ خطا ہوتا ہی نہیں‘‘۔
رمضان کی ہر رات میں یہ تیر چلائیں اور خوب چلائیں۔ اس رمضان کو کچھ نیا اور بدلا ہوا بنانے کے لئے عبادت کے اس خفیہ طریقۂ ملاقات کو آزما کر دیکھئے جس میں آپ ہوںاور صرف ’’وہ اللہ ‘‘ ہو، تیسراکوئی نہ ہو۔ یقین رکھیئے کہ وہ آپ کی بات سنے گااور اس کا جواب بھی دے گا اور آپ اشاروں میں اس کے دیئے ہوئے جوابوں سے خوشی سے جھوم اٹھیں گے۔
قرآن روئے زمین پر سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے، لیکن بدقسمتی سے سب سے زیادہ بغیر سمجھے پڑھی جانے والی کتاب بھی قرآن ہی ہے۔ ہم اپنی تمام تر محنت صرف اس کی تلاوت کو مزین بنانے اس کے الفاظ کو بہترین پیرائے میں ادا کرنے پر صرف کرتے ہیں ،ہر چند کہ یہ اپنی جگہ ضروری اور مسلّم ہے۔
مگر کاش کہ ہم اس کے مفہوم کو سمجھنے پر بھی اتنی ہی تو جہ دیں سکیں۔ لہٰذا اس رمضان قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی عادت اپنائیں، اس سے ہمیں روزے کا حقیقی مقصد تقویٰ یعنی اللہ کے احکامات کا فہم و ادراک حاصل ہوگا جو رمضان کے بعد رمضان کے اثرات و ثمرات کو دوام عطا کرے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بفرمان نبوی ’’ بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جن کو دن میں بھوکا رہنے اور رات کو نماز میں کھڑا رہنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا‘‘۔ کا مصداق بننے کے بجائے ہم اس رسمی روزے سے آگے بڑھ کر اس کی حقیقی روح پر توجہ دیں، ان شاء اللہ جب ایسا ہوجائے گا تو یہ رجحان ہمارے گھروں ، محلوں اور ہماری زندگیوں کو بدل دے گا اور ہماری’’ خودی‘‘ قربت الہٰی کی ناقابلِ فراموش رفعتوں پر پہنچ جائے گی۔
اسلامی مضامین
’’عیدالفطر‘‘ اعمال کے جائزے اور عزمِ نو کا دن
- 21 مارچ ، 2026
’’عیدالفطر‘‘ اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے اجر اور مزدوری وصول کرنے کادن ہے۔
رمضان کے بعد زندگی کے شب و روز کیسے گزاریں؟
- 20 مارچ ، 2026
رمضان کا مبارک مہینہ اپنی تمام تر برکتوں، رحمتوں، مغفرتوں، فضیلتوں سعادتوں کے ساتھ آج اختتام پذیر ہو رہا ہے۔
ماہِ رمضان کے بعد معمولاتِ زندگی اور ہماری ذمہ داریاں
- 19 مارچ ، 2026
ماہِ صیام جس کا گیارہ مہینے سے انتظار تھا، وہ آیا اور ہوا کے ایک خوشگوار جھونکے کی مانند ہمیں ہر نعمتِ خداوندی سے سرفراز...
رمضان المبارک جہنم سے نجات کا مہینہ
- 18 مارچ ، 2026
’’رمضان المبارک‘‘ نیکیوں کا موسم بہار، ایک عظیم ماہِ مبارک ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔
’’لیلۃُ القَدر‘‘ ربِّ ذُوالجلال کے حضور توبہ ومُناجات اور دعاؤں کی قبولیت کے مقدّس و بابرکت لمحات
- 17 مارچ ، 2026
اس ایک رات میں عبادت کا اجر و ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت و ریاضت سے بڑھ کر ہے۔
شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر
- 16 مارچ ، 2026
رمضان کے قیمتی اوقات میں سے ایک وقت ہے لیلۃ القدر، مرتبے والی اور عظمت والی رات۔
قرآنِ حکیم اور ہماری زندگی
- 16 مارچ ، 2026
قرآن اللہ کا آخری کلام ہے۔ اللہ نے انسانوں کو جو علم دینا تھا، وہ قرآن کے اندر آخری مرتبہ مکمل شکل میں دے دیا گیا۔
عشرہ نجات کی پرنور، بیش قیمت ساعات اور ہماری غلط ترجیحات
- 15 مارچ ، 2026
احادیثِ مبارکہ کے مطابق ماہِ رمضان کو بنیادی طور پر تین عشروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
الوداع ماہ رمضان الوداع
- 14 مارچ ، 2026
رمضان کریم، ماہِ صیام رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا ماہِ مبارک، اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں سمیت ہم سے رخصت ہونے کو...
رمضان المبارک کے آخری ایام کی قدر کریں
- 13 مارچ ، 2026
بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں اس ماہِ مبارک میں طاعت و عبادت کا موقع نصیب ہوا۔
اعتکاف کے فضائل و احکام
- 12 مارچ ، 2026
احادیثِ نبویﷺ میں اس پر بے شمار اجر وثواب کی نوید بیان کی گئی ہے
سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ: وفاداری و جاں نثاری کا بے مثال نمونہ
- 11 مارچ ، 2026
حضرت علی ؓ امت کی تاسیسی شخصیات اور درخشاں و تابندہ ہستیوں میں سے ایک ہیں۔
حضرت علی ابن ابی طالب ؓ: سیرت و کردار کا روشن اور تاریخ سازباب
- 11 مارچ ، 2026
شیرِیزداں، شاہِ مرداں، سیّدنا علی مرتضیٰؓ نے عہدِ نبویؐ کے غزوات اور جنگی معرکوں میں جرأت و شجاعت کی تاریخ رقم کی۔
اعتکاف: ماہِ صیام کی ایک باعث اجر و فضیلت عبادت
- 10 مارچ ، 2026
الحمد للہ، اب ہم ماہ ِرمضان کے آخری عشرے میں داخل ہورہے ہیں، یہ وہ عشرہ ہے جس کی طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش کا حکم ہے۔
حُسنِ سلوک، عفوودرگزر، بُردباری و رواداری کا تاریخ ساز مظہر ’’واقعہ فتحِ مکّہ‘‘
- 09 مارچ ، 2026
ڈاکٹر حافظ محمد ثانینبیِ رحمت، محسنِ انسانیت،سرورِ کائنات، ختمی مرتبت، حضرت محمد ﷺ کی نمایاں ترین خصوصیت، آپ ﷺ کی’’...
قصہ قومِ ثمود اور حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا
- 08 مارچ ، 2026
اور قومِ ثمود کو اللہ نے یوں نیست و نابود کردیا کہ گویا وہاں وہ کبھی آباد ہی نہ تھے۔ ۔
’’غزوہ بدر‘‘ رسولﷺ کی عسکری و دفاعی حکمتِ عملی کا عظیم مظہر
- 07 مارچ ، 2026
یوم الفرقان، غزوۂ بدر اسلامی تاریخ کا عظیم اور تاریخ ساز معرکہ ہے۔
’’یوم الفرقان‘‘ جب اسلام غالب اور کفر مغلوب ہوا
- 07 مارچ ، 2026
یہ معرکہ مشر کین مکّہ کی عبرت ناک شکست اور اہل ایمان کی فتح مبین پر ختم ہوا۔
کاشانہ نبوت کی ملکہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
- 07 مارچ ، 2026
آنحضرت ﷺ کی دیگر ازواجِ مطہراتؓ میں ان ساری باتوں کا پورا پورا جواب ہمیں حضرت عائشہ صدیقہ ؓہی کی زندگی میں نظر آتا ہے۔
’’حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ‘‘ سیرت و کردار کا بے مثال اور تاریخ سازباب
- 07 مارچ ، 2026
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جیسے ہی میں نے ہوش سنبھال کر والد کو دیکھا، انہیں مسلمان پایا۔