زکوٰۃ کی فرضیت اور اہمیت قران و سنت کی روشنی میں

زکوٰۃ کی فرضیت اور اہمیت قران و سنت کی روشنی میں

ڈاکٹر نعمان نعیم

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اکثر مقامات پر صلوٰۃ کے ساتھ زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم فرمایا ہے۔ ’’زکوٰۃ‘‘ارکانِ اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ دولت صرف چند ہاتھوں تک محدود ہو کر نہ رہ جائے، بلکہ مستحقین اور ضرورت مند لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھائیں۔

اسلام نے جہاں زکوٰۃ کے فضائل، فوائد، شرائط، نصاب، اَقسام، اَحکام اور مسائل کو ذکر کیا ہے، وہاں پر اس فریضے کو چھوڑنے، اس میں غفلت سے کام لینے والے کے بارے میں وعیدیں بھی بیان فرمائی ہیں۔

قرآن وسنت میں زکوٰۃ کی فرضیت اور فضیلت واہمیت پوری وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔ زکوٰۃ ادا کرنے والے کے لیے رب ذوالجلال نے کیا انعامات مقرر کیے ہیں، اس سلسلے میں قرآن و سنت کی تعلیمات ملاحظہ فرمائیں۔

ارشادِ ربانی ہے: زکوٰۃ کی ادائیگی کی وجہ سے اللہ مال کو بڑھاتا ہے۔(سورۃ البقرہ:۲۶۷)

٭… زکوٰۃکی وجہ سے ملنے والا اجر کبھی ختم ہونے والا نہیں، ہمیشہ باقی رہے گا۔ (سورۃ الفاطر:۲۹،۳۰)

٭… اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسے افراد (زکوٰۃ ادا کرنے والوں) کا مقدر بن جاتی ہے۔ (سورۃ الاعراف:۱۵۶)

حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جب تم نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دی تو تمہارے اوپر جو تمہارے مال کا فرض حق تھا ،وہ ادا کر دیا۔(سنن ابن ماجہ، :1788)

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے، ایک شخص نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ اس شخص کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دی ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کے مال کا شر(نقصان دہ پہلو)ختم ہو گیا۔ (المعجم الاوسط للطبرانی،:1579)

٭… کامیاب ہونے والوں کی جو صفات قرآن ِ پاک میں گنوائی گئیں ہیں، ان میں ایک صفت زکوٰۃ کی ادائیگی بھی ہے۔

٭… زکوٰۃ ادا کرنا ایمان کی دلیل اور علامت ہے۔(سنن ابن ماجہ، کتاب الطھارۃ، رقم الحدیث:۲۸۰)

ایک حدیث شریف میں جنت کے داخلے کے پانچ اعمال گنوائے گئے ہیں، جن میں سے ایک زکوٰۃ کی ادائیگی بھی ہے۔ (سنن ابو داوٴد، کتاب الصلاۃ)

٭…انسان کے مال کی پاکی کا ذریعہ زکوٰۃ ہے۔ (مسند احمد:)

٭… یہ انسان کے گناہوں کی معافی کا بھی ذریعہ ہے۔(مجمع الزوائد، کتاب الزکوٰۃ)

زکوٰۃ کی ادائیگی پر جہاں من جانب اللہ انعامات و فوائد ہیں، وہاں اس فریضے کی ادائیگی میں غفلت برتنے والے کے لیے قرآن ِ پاک اور احادیث ِ مبارکہ میں وعیدیں بھی وارد ہوئی ہیں ، اور دنیا و آخرت میں ایسے شخص کے اوپر آنے والے وبال کا ذکر بکثرت کیا گیا ہے، ذیل میں ان میں سے کچھ ذکر کیے جاتے ہیں:

٭… جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اُن کے مال کو جہنم کی آگ میں گرم کر کے اِس سے اُن کی پیشانیوں، پہلوؤں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔(سورۃ التوبہ:۳۴،۳۵)

٭… ایسے شخص کے مال کو طوق بنا کر اُس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔(سورۂ آل عمران:۱۸۰)

٭… ایسا مال آخرت میں اُس کے کسی کام نہ آ سکے گا۔ (سورۃ البقرہ:۲۵۴)

٭… زکوٰۃ کا ادا نہ کرنا جہنم والے اعمال کا ذریعہ بنتا ہے۔

٭… ایسے شخص کا مال قیامت کے دن ایسے زہریلے ناگ کی شکل میں آئے گا، جس کے سر کے بال جھڑ چکے ہوں گے، اور اس کی آنکھوں کے اوپر دو سفید نقطے ہوں گے، پھر وہ سانپ اُس کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا، پھر وہ اس کی دونوں باچھیں پکڑے گا(اور کاٹے گا) اور کہے گا کہ میں تیرا ما ل ہوں، میں تیرا جمع کیاہوا خزانہ ہوں۔(صحیح بخاری )

٭… مرتے وقت ایسا شخص زکوٰۃ ادا کرنے کی تمنا کرے گا، لیکن اس کے لیے سوائے حسرت کے اور کچھ نہ ہو گا۔(سورۃ المنافقون:۱۰)

٭… ایسے شخص کے لیے آگ کی چٹانیں بچھائی جائیں گی، اور اُن سے ایسے شخص کے پہلو، پیشانی اور سینے کو داغا جائے گا۔(صحیح مسلم )

٭… جب کوئی قوم زکوٰۃ روک لیتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو قحط سالی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ (المعجم الاوسط للطبرانی)

شریعت نے زکوٰۃ کو مال کا میل قرار دیا ہے اور خود نبی اکرم ﷺ اوران کی آل کو اس سے دور رکھا ہے۔ صاف اور واضح الفاظ میں یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ غیر مستحق زکوٰۃ لے گا تو زکوٰۃ کا مال اصل مال کو بھی تباہ کردے گا۔

اگر کسی کے پاس سونا، چاندی، مالِ تجارت، نقد رقوم ہوں اور ان تمام کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس سے زائد کی مالیت تک پہنچ جاتی ہے تو اس شخص کے لیے زکوٰۃ کا لینا ناجائز ہے۔

لہٰذا گھروں میں کام کرنے والی ماسیوں اور ملازمین کو بے دھڑک بغیر تحقیق زکوٰۃ دینے والوں کو اپنی زکوٰۃ کی ادائیگی یا عدم ادائیگی کے بارے میں ضرور غور وفکر کرنا چاہیے، نیز زکوٰۃ ادا کرنے والے کے دروازے پرآنے والے ہر کس وناکس کو بغیر تحقیق کہ آیا وہ مسلمان بھی ہے یا نہیں، مستحق ہے یا نہیں، سید (ہاشمی) تو نہیں زکوٰۃ کی رقم یا اشیاء بانٹ دینا بھی لمحۂ فکریہ ہے۔اسی طرح غریب علاقوں میں مندرجہ بالا امور کی تحقیق کیے بغیر زکوٰۃ بانٹنے والوں کو بھی علماء سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔

علمائے کرام نے زکوٰۃ لینے والوں کی چند صفات بھی بیان کی ہیں جو درج ذیل ہیں:

٭… متقی پرہیزگار ہو یعنی دنیا سے بے رغبت اور آخرت کے کاموں میں مشغول ہو۔

٭…اہلِ علم ہو۔ علم(دین)میں مشغولیت عبادتوں میں اعلیٰ اور اشرف ترین عبادت ہے۔

٭…موحد ہو، ایسے شخص کی نگاہ اسباب پر نہیں، مسبب الاسباب پر ہوتی ہے۔

٭…اپنی ضرورتوں کو لوگوں سے چھپاتا ہو۔ اپنی قلتِ معاش اور آمدنی کی کمی کارونا ہر کس وناکس کے سامنے نہ روتا رہتا ہو۔ درحقیقت ایسا شخص ایسا ضرورت مند ہے جو ظاہر میں غنی ہے، حقیقت میں مستحق ہے۔

٭…ایسا بیمار یا معذور ہو کہ کمائی سے عاجز ہو۔٭…غریب رشتے دار ہو کہ اس میں صلۂ رحمی کا بھی ثواب ہے۔

’’زکوٰۃ‘‘ لغت میں پاک ہونے اور بڑھنے کو کہتے ہیں۔ شرعاً زکوٰۃ کے معنی ’’صاحبِ نصاب شخص کا شرائط پوری کرلینے کے بعد اپنے مخصوص مال کا کسی مخصوص شخص کو مالک بنا دینا ہے‘‘۔صاحبِ نصاب اس شخص کو کہتے ہیں جس کے پاس اپنے اور اپنے زیرِ کفالت افراد پر ان کی ضروریات پرخرچ کرنے اور اگر اس پر ذاتی طور پر کسی کا قرضہ ہو تو اسے شمار کرلینے کے بعد ضرورت سے زائد اتنی رقم مکمل طور پر اس کی ملکیت(اس کے قبضے میں ہو جسے وہ جس طرح چاہے استعمال کر سکتا ہو) میں سال کے شروع میںاور اس کے اختتام پر ہو کہ اس رقم سے ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس سے زائد خریدی جاسکتی ہو۔

مثلاً کسی مسلمان کے پاس زندگی میں پہلی مرتبہ اتنی رقم کسی سال کے یکم رمضان میں (یا کسی بھی مہینے کی کسی بھی تاریخ میں)جمع ہوجائے جو نہ فوری طور پر کسی ضرورت کی ہو اور نہ ہی اس پر کسی کا قرضہ ہو، پھر ایک سال مکمل ہونے کے بعد پھر اگلے سال کے یکم رمضان کو اسی طرح کی بچت اس مقدار یا اس سے زائد کی ہو تو ایسا شخص شرعاً صاحبِ نصاب کہلاتا ہے۔

زکوٰۃ ادا کرنے والے کی شرائط:۔1:۔ مسلمان ہونا(مرد ہو یا عورت)۔2:۔ آزاد ہونا(غلام پر زکوٰۃ فرض نہیں)۔3:۔ عاقل (عقلمند )ہونا (مجنون اورپاگل پر زکوٰۃ فرض نہیں)۔4:۔ بالغ ہونا(نابالغ پر زکوٰۃ فرض نہیں)۔5:۔ مال کا مکمل طور پر ملکیت اور قبضے میں ہونا۔

زکوۃ کس کو دے سکتے ہیں: ہر ایسے مسلمان کو جس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے بقدر سونا، نقد رقم، مال تجارت یا روز مرہ کی استعمال سے زائد اشیاء نہ ہوں وہ زکوٰۃ اور صدقات واجبہ کا مستحق ہے۔ جسے زکوٰۃ کی رقم دیں، اسے بتانا ضروری نہیں۔ اسے صرف یہ کہہ کر دے سکتے ہیں کہ یہ آپ کے لیے کچھ پیسے ہیں، اپنی ضروریات میں استعمال کریں۔

زکوٰۃ کا بہترین مصرف: مستحق رشتے دار ہیں، اس میں دہرا ثواب ہے۔ دینی مدارس ہیں کہ اس میں بھی دگنا ثواب ہے اشاعت وتحفظ دین اور ادائیگی زکوٰۃ۔

غرض ہر صاحب نصاب کی ذمہ داری ہے کہ وہ خوش دلی سے سال بہ سال اپنی زکوٰۃادا کرے، زکوٰۃ ادا کرنے میں ٹال مٹول نہ کرے، اپنے مستحق رشتے داروں سے تعاون کا آغاز کرے اور اچھے سے اچھا مال راہ ِخدامیں صرف کرے۔

شہرت و ریا کاری اور احسان جتانے کے ذریعے اپنی اس عبادت کو باطل نہ کرے، بلکہ لینے والے کو اپنا محسن سمجھے اور نبی پاک ﷺ کا یہ فرمان ملحوظ خاطر رکھے: صدقہ دیا کرو !ایک ایسا زمانہ بھی تم پر آنے والا ہے جب ایک شخص اپنے مال کا صدقہ لے کر نکلے گا اور کوئی اسے قبو ل کرنے والا نہیں پائے گا۔ (جس کے پاس صدقہ لے کر جائے گا) وہ یہ جواب دے گاکہ اگرتم کل اسے لائے ہو تے تو میں اسے قبول کرلیتا، آج تو مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔(صحیح بخاری)

Share This:

اسلامی مضامین

  • 21  مارچ ،  2026

’’عیدالفطر‘‘ اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے اجر اور مزدوری وصول کرنے کادن ہے۔

  • 20  مارچ ،  2026

رمضان کا مبارک مہینہ اپنی تمام تر برکتوں، رحمتوں، مغفرتوں، فضیلتوں سعادتوں کے ساتھ آج اختتام پذیر ہو رہا ہے۔

  • 19  مارچ ،  2026

ماہِ صیام جس کا گیارہ مہینے سے انتظار تھا، وہ آیا اور ہوا کے ایک خوشگوار جھونکے کی مانند ہمیں ہر نعمتِ خداوندی سے سرفراز...

  • 18  مارچ ،  2026

’’رمضان المبارک‘‘ نیکیوں کا موسم بہار، ایک عظیم ماہِ مبارک ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔

  • 17  مارچ ،  2026

اس ایک رات میں عبادت کا اجر و ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت و ریاضت سے بڑھ کر ہے۔

  • 16  مارچ ،  2026

رمضان کے قیمتی اوقات میں سے ایک وقت ہے لیلۃ القدر، مرتبے والی اور عظمت والی رات۔

  • 16  مارچ ،  2026

قرآن اللہ کا آخری کلام ہے۔ اللہ نے انسانوں کو جو علم دینا تھا، وہ قرآن کے اندر آخری مرتبہ مکمل شکل میں دے دیا گیا۔

  • 15  مارچ ،  2026

احادیثِ مبارکہ کے مطابق ماہِ رمضان کو بنیادی طور پر تین عشروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

  • 14  مارچ ،  2026

رمضان کریم، ماہِ صیام رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا ماہِ مبارک، اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں سمیت ہم سے رخصت ہونے کو...

  • 13  مارچ ،  2026

بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں اس ماہِ مبارک میں طاعت و عبادت کا موقع نصیب ہوا۔

  • 12  مارچ ،  2026

احادیثِ نبویﷺ میں اس پر بے شمار اجر وثواب کی نوید بیان کی گئی ہے

  • 11  مارچ ،  2026

حضرت علی ؓ امت کی تاسیسی شخصیات اور درخشاں و تابندہ ہستیوں میں سے ایک ہیں۔

  • 11  مارچ ،  2026

شیرِیزداں، شاہِ مرداں، سیّدنا علی مرتضیٰؓ نے عہدِ نبویؐ کے غزوات اور جنگی معرکوں میں جرأت و شجاعت کی تاریخ رقم کی۔

  • 10  مارچ ،  2026

الحمد للہ، اب ہم ماہ ِرمضان کے آخری عشرے میں داخل ہورہے ہیں، یہ وہ عشرہ ہے جس کی طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش کا حکم ہے۔

  • 09  مارچ ،  2026

ڈاکٹر حافظ محمد ثانینبیِ رحمت، محسنِ انسانیت،سرورِ کائنات، ختمی مرتبت، حضرت محمد ﷺ کی نمایاں ترین خصوصیت، آپ ﷺ کی’’...

  • 08  مارچ ،  2026

اور قومِ ثمود کو اللہ نے یوں نیست و نابود کردیا کہ گویا وہاں وہ کبھی آباد ہی نہ تھے۔ ۔

  • 07  مارچ ،  2026

یوم الفرقان، غزوۂ بدر اسلامی تاریخ کا عظیم اور تاریخ ساز معرکہ ہے۔

  • 07  مارچ ،  2026

یہ معرکہ مشر کین مکّہ کی عبرت ناک شکست اور اہل ایمان کی فتح مبین پر ختم ہوا۔

  • 07  مارچ ،  2026

آنحضرت ﷺ کی دیگر ازواجِ مطہراتؓ میں ان ساری باتوں کا پورا پورا جواب ہمیں حضرت عائشہ صدیقہ ؓہی کی زندگی میں نظر آتا ہے۔

  • 07  مارچ ،  2026

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جیسے ہی میں نے ہوش سنبھال کر والد کو دیکھا، انہیں مسلمان پایا۔