عید کی جماعت میں غلطیاں

عید کی جماعت میں غلطیاں

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: عیدالفطر کی نماز کی دوسری رکعت میں تین تکبیرات کہنے کے بعد چوتھی تکبیر پر رکوع میں جانا ہوتا ہے، امام صاحب کی چوتھی تکبیر کہنے پر اگلی چند صفوں کےعلاوہ تمام مقتدی رکوع میں چلے گئے، جب کہ امام صاحب نے تین تکبیریں اور کہہ دیں، اس طرح امام صاحب نے دوسری رکعت میں چھ تکبیرات کہیں، مجمع کے زیادہ ہونے کی وجہ سے پچھلی صفوں کے تمام مقتدی اس عرصے میں سجدے میں جا چکے تھے، امام صاحب ساتویں تکبیر کہنے کے بعد رکوع میں گئے، ان کے ”سمع اللہ“ کہنے پر پچھلی صفوں کو غلطی کا احساس ہوا، اور وہ سجدے سے واپس لوٹے، لیکن اس عرصے میں امام صاحب سجدے میں جاچکے تھے، اور پچھلی صفوں کے تمام لوگ امام صاحب کے ساتھ رکوع نہیں کر سکے۔

نماز ختم ہونے پر لوگوں نے امام صاحب کو غلطی کے متعلق بتایا اور یہ بھی بتایا کہ وہ سب سجدے میں جا چکے تھے، جب کہ امام نے سجدۂ سہو بھی ادا نہیں کیا، جواباً امام صاحب نے جوکہ شہر کے بڑے مفتی صاحب ہیں کہا: ”جم ِغفیر کی وجہ سے سجدۂ سہو نہیں ہو سکتا“ جو لوگ سجدے میں جاکر امام صاحب کی اقتداء سے نکل چکے تھے، ان کی نماز فاسد ہوچکی تھی، ان کے متعلق امام صاحب نے کوئی فیصلہ نہیں کیا، بلکہ یہ کہا کہ نماز سب کی ہوچکی ہے، جب کہ واجب کا لوٹانا بھی لازم ہے۔ آپ رہنمائی فرمائیں کہ اس صورت آیا نماز کا لوٹانا لازم ہے، یا امام صاحب کا فیصلہ درست تھا؟ اگر لوٹانا لازم ہے تو اب کس طرح لوٹائی جائے؟

جواب: اگر امام عید کی نماز میں چھ سے زائد تکبیرات کہہ دے تو نماز ہوجاتی ہے اور مجمع زیادہ ہونے کی وجہ سے سجدۂ سہو کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، چنانچہ امام صاحب کا جم غفیر کی وجہ سےسجدۂ سہو نہ کرنا درست تھا۔

جو مقتدی غلطی سے امام سے پہلے رکوع اور سجدے میں چلے گئے تھے، اس وجہ سے ان کی نماز فاسد نہیں ہوئی تھی، پھر ان میں سے جن مقتدیو ں نے سجدے سے اٹھ کر اپنا رکوع کرلیا، اور اس کے بعد امام کے ساتھ سجدے میں شریک ہوگئے، ان کی نما ز درست ہوگئی، اگرچہ وہ امام کے ساتھ رکوع نہ کر سکے ہوں۔

جن مقتدیوں نے سجدے سے اٹھنے کے بعد امام کے ساتھ بھی رکوع نہیں کیا اور اس کے بعد خود سے رکوع بھی نہیں کیا، ان کی نماز نہیں ہوئی، انہیں چاہیے تھا کہ کسی دوسری جگہ پر امام کی اقتداء میں عید کی نماز ادا کرلیتے۔

تاہم اگر انہوں نے ادا نہیں کی تواب ان پراس کی قضا نہیں ہے، کیوں کہ عید کی نماز کی قضا نہیں ہوتی۔ (الدرالمختار مع ردالمحتار :کتاب الصلاۃ، واجبات الصلاۃ، ج:1، ص:470، 471، ط:سعید۔البحرالرائق:کتاب الصلاۃ، باب العيدين، وقت صلاۃ العيد، ج:2، ص:175، ط:دار الکتاب الاسلامی)

Share This:

شرعی مسائل کا حل

  • 20  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا تفصیلی جواب۔۔۔

  • 19  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب۔۔۔

  • 18  مارچ ،  2026

سونے کے زیورات میں موجود کھوٹ اور پالش زکوٰۃ کے حساب میں کل وزن میں شامل کی جائے گی؟

  • 17  مارچ ،  2026

بچوں کا ایک اسپتال ہے، جس میں باقاعدہ زکوٰۃ، صدقات کے علیحدہ علیحدہ اکاؤنٹ ہیں۔

  • 16  مارچ ،  2026

مفتی منیب الرحمٰن کا جواب۔۔۔

  • 14  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا تفصیلی جواب۔۔۔

  • 13  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب ۔۔۔

  • 12  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کوق جواب۔۔۔

  • 11  مارچ ،  2026

شرعی مسائل کا حل۔۔۔

  • 10  مارچ ،  2026

مفتی منیب الرحمٰن کا شعری جواب ۔۔۔۔

  • 09  مارچ ،  2026

مفتی منیب الرحمٰن کا جواب۔۔۔

  • 08  مارچ ،  2026

نماز میں خیالات سے بچنے کے لیے ان باتوں کا اہتمام کیجیے۔۔۔

  • 07  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا مفصل جواب۔

  • 06  مارچ ،  2026

زکوٰۃ سے متعلق مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب...

  • 06  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب

  • 05  مارچ ،  2026

میں نے اپنا مکان فروخت کردیا ہے اور مکان کی رقم رمضان سے 15دن پہلے ملی ہے۔

  • 04  مارچ ،  2026

رمضان کے مسائل سے متعلق مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب۔

  • 04  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب۔

  • 03  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا شرعی جواب۔

  • 03  مارچ ،  2026

روزے کے مسائل سے متعلق مفتی منیب الرحمٰن کا جواب۔