قرآنی آیات کی پوسٹیں بنا کر لوگوں کو ارسال کرنا کیا جائز ہے؟

قرآنی آیات کی پوسٹیں بنا کر لوگوں کو ارسال کرنا کیا جائز ہے؟

سوال: قرآن شریف کی تلاوت کرنا زیادہ افضل ہے یا قرآن شریف کی آیات کی پوسٹس بنا کر مختلف گروپس میں اس نیت سے شیئرکرنا کہ لوگ اللّٰہ کا پیغام پڑھیں اور ہدایت پائیں؟

جواب: ہر مسلمان کے دل میں دین کی حفاظت کے ساتھ اس کی نشرو اشاعت کا جذبہ بھی ہونا چاہیے، اس لیے تبلیغ اور نصیحت کی غرض سے قرآنی آیات، احادیثِ مبارکہ، بزرگوں کے اقوال اور دینی پیغامات بھیجنا فی نفسہ جائز ہے، تاہم اس میں دو باتوں کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے:

1.کوئی بھی پوسٹ ہو، ضروری ہے کہ وہ معتبر اور مستند ہو، کیوں کہ شعوری یا لاشعوری طورپر بعض لوگ دینی جذبے سے غیر مستند معلومات بھی پھیلاتے ہیں، اس لیے تحقیق کے بغیر نہ خود پوسٹیں بنا کر شیئرکی جائیں اور نہ ہی دوسروں کی پوسٹوں کو آگے شیئر کیا جائے۔

2.قرآنِ مجید کی آیات کو اس کے رسم الخط(رسم عثمانی ) میں لکھاجائے، کیوں کہ خط اور قرآنی رسم الخط میں بڑا فرق ہے۔ قرآنِ کریم کی کتابت رسم عثمانی میں کرنا واجب ہے، لہٰذا کسی اور رسم الخط میں قرآنی آیت لکھ کر پیغام بھیجنا جائز نہیں ہے، البتہ مستندترجمہ لکھ کر بھیجا جاسکتا ہے۔

اگر پیغام ہرطرح سے مستند ہو، پھر بھی دین کی نشرواشاعت اور تبلیغ و دعوت کے سلسلے میں حکمت کے اصولوں سے کام لینا ضروری ہے۔ کون سا پیغام وقت کی ضرورت ہے، کس شکل میں مناسب ہے، کن لوگوں کے لیے مناسب ہے اور کس وقت مناسب ہے ، کس قدر مناسب ہے اور کس لب ولہجے اور اسلوب وانداز میں وہ زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے، ان اصولوں کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے، یہ اصول بھی دینی دعوت کا حصہ ہیں اور قرآن وسنت سے ثابت ہیں۔

اس کے برعکس مشاہدہ یہ ہے کہ لوگ جذبہ تو رکھتے ہیں، لیکن اصولوں کو نظر انداز کرجاتے ہیں، جس سے بجائے فائدے کے نقصان ہوتا ہے۔ رہا دین کی نشرواشاعت تو دینی معلومات و شرعی رہنمائی کے لیے کثیر تعداد میں مستند شرعی کتب، قرآنِ کریم کی تفاسیر، نیز اہلِ علم موجود ہیں اور معمولی کوشش سے لوگ دینی معلومات کا حصول کرسکتے ہیں، اس لیے آپ کے لیے مناسب یہی ہے، خود قرآنِ کریم کی تلاوت کریں، کیوں کہ تلاوت خود قرآنِ کریم کا حق ہے اور اس کے بے شمار فضائل ہیں اور اس کا ثواب یقینی ہے۔

Share This:

شرعی مسائل کا حل

  • 07  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا مفصل جواب۔

  • 06  مارچ ،  2026

زکوٰۃ سے متعلق مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب...

  • 06  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب

  • 05  مارچ ،  2026

میں نے اپنا مکان فروخت کردیا ہے اور مکان کی رقم رمضان سے 15دن پہلے ملی ہے۔

  • 04  مارچ ،  2026

رمضان کے مسائل سے متعلق مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب۔

  • 04  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب۔

  • 03  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا شرعی جواب۔

  • 03  مارچ ،  2026

روزے کے مسائل سے متعلق مفتی منیب الرحمٰن کا جواب۔

  • 02  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا مسئلہ سے متعلق جواب۔

  • 02  مارچ ،  2026

سونے کے زیورات میں موجود کھوٹ اور پالش زکوٰۃ کے حساب میں کل وزن میں شامل کی جائے گی؟

  • 28  فروری ،  2026

روزے کے مسائل سے متعلق مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب۔

  • 28  فروری ،  2026

مفتی منیب الرحمٰن کا جواب۔

  • 27  فروری ،  2026

روزے کے مسائل سے متعلق مفتی منیب الرحمٰن کا جواب۔

  • 27  فروری ،  2026

مولانا سید سلیمان یوسف بنوری کا جواب۔

  • 26  فروری ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب

  • 26  فروری ،  2026

روزے سے متعلق مسائل پر مفتی منیب الرحمٰن کا جواب

  • 25  فروری ،  2026

روزے کی حالت میں احتلام ہو جانے سے کیا روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

  • 25  فروری ،  2026

ازروئے شرع اس پر کفارہ لازم آئے گا یا صرف ایک دن کا قضا روزہ رکھنا ہوگا؟ مفتی منیب کا جواب

  • 24  فروری ،  2026

مولانا سید سلیمان یوسف بنوری کا جواب

  • 24  فروری ،  2026

مولانا سید سلیمان یوسف بنوری کا جواب۔