حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓقریش کے خاندان بنو تیم سے تعلق رکھتی تھیں۔ آپ بعثت ِنبوی ؐ کے چار سال بعد ماہ شوال میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد، نبی کریمﷺ کے جاں نثار رفیق، افضل البشر بعدالانبیاء، خلیفۃ الرسول ؐ سیّدنا ابوبکر صدیقؓ اور والدہ سیّدہ زینب ام رومان تھیں۔ سیّدہ عائشہ صدیقہؓ کا نسب والد کی جانب سے سات، والدہ کی جانب سے گیارہ اور دادا دادی کی طرف سے چھ واسطوں سے رسول اللہﷺ کے سلسلۂ نسب سے مل جاتا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہؓ آقائے دوجہاں، سیّد المرسلین،امام الانبیاء رحمۃ للعالمین،خاتم النبیین، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ازواج مطہراتؓ میں اپنے حسنِ اخلاق اور علم و فضل کے سبب خاص فضیلت اور منفرد مقام رکھتی ہیں۔

خلیفۂ اول ،سیّدنا صدیق اکبر ؓ کا درِاقدس وہ سعادت مند کا شانہ تھا، جہاں خورشید اسلام کی شعاعیں سب سے پہلے ضو فگن ہوئیں، اسی بِناء پر سیّدہ عائشہ صدیقہؓ کا شمار اُن برگزیدہ ہستیوں میں ہوتا ہے، جن کے کانوں نے کبھی کفرو شرک کی آواز نہیں سُنی۔ خود حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جیسے ہی میں نے ہوش سنبھال کر والد کو دیکھا، انہیں مسلمان پایا۔ حضرت عائشہ ؓنہایت ذہین، بے حد فیاض، قوتِ حافظہ میں لاجواب، نہایت شیریں کلام اور فصیح اللسان تھیں۔

قرآن ،تفسیر،حدیث ،فقہ ،غرض کتاب و سنّت کےجملہ علوم ومسائل میں آپؓ کے گہرے شغف، معیارِ فکرو نظر، اور بلند علمی مقام کے اعتبار سے اربابِ سیرت نے اُم المومنین حضرت عائشہ ؓ کو جلیل القدرعالمہ و فاضلہ خاتو ن کے مرتبے پر فائزکیا ہے۔ رسول اکرم ﷺ کو حضرت عائشہؓ سے نکاح کی بشارت خواب میں ہو چکی تھی۔

چناں چہ شوال تین قبل ہجرت، مارچ619ء، 10 نبویؐ میں 500درہم مہرکے عوض آپﷺ کا نکاح حضرت عائشہ ؓ سے ہوا۔ رخصتی چار برس بعد شوال ہی کے مہینے مطابق ایک ہجری /اپریل623ء میں ہوئی۔ شوال ایک ہجری سے یہ مبارک دور شروع ہوا اور 12ربیع الاول سن11ہجری آپﷺ کے وصال تک محیط رہا۔ نبی کریمﷺ اور حضرت عائشہؓ کی یہ پُرخلوص رفاقت زندگی کے عمومی مقاصد اور اساسِ دین کی تعمیر میں بہت اہمیت کی حامل اور ملّت اسلامیہ کے لیے مثالی زندگی کا نہایت اعلیٰ دستورالعمل ہے۔

ام المومنین حضرت عائشہؓ مکارم اخلاق کی پیکر تھیں۔ آپ کی مبارک زندگی عفت و حیا، علمی کمال، اور فراست و فقاہت کے محاسن سے مزین تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ مزاج شناسِ رسول تھیں۔ انہیں آپ ﷺ سے والہانہ محبت تھی۔ غرض آپ میں وہ تمام خوبیاں تھیں، جو ایک مثالی بیوی میں ہونی چاہییں۔ آپ کو بلند سیرت، علمی فضیلت اور فضائل و مناقب کی نسبت سے خواتینِ اسلام میں نہایت بلند اور منفرد مقام حاصل ہے۔

قرآن کریم کی پہلی حافظہ کا اعزاز ہونے کے ساتھ ساتھ جمع قرآن کے سلسلے میں بھی فوقیت حاصل ہے۔ محدثین میں بھی حضرت عائشہ صدیقہؓ کا علمی مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ بعض مورخین کا قول ہے کہ احکام شرعیہ کا ایک چوتھائی حصّہ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے منقول ہے۔

رحمۃ للعالمینﷺ نے فرمایا: ’’مردوں میں تو بہت سے لوگ کامل ہوئے، لیکن عورتوں میں کوئی کامل نہ گزرا، سوائے مریم بنتِ عمران اور آسیہ زوجہ فرعون، اور عائشہ ؓ کے، اور حضرت عائشہؓ کو تمام عورتوں پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسے ثرید (عربوں کا مرغوب ترین کھانا جو روٹی کو شوربے میں بھگو کر تیار کیا جاتا تھا) کو تمام کھانوں پرحاصل ہے۔ (صحیح بخاری)

حضرت عائشہؓ کا شمار مجتہدین صحابہؓ میں ہوتا ہے۔ جس میں ان کا مرتبہ اتنا بلند ہے کہ ان کا نام حضرت عمر ؓ،حضرت علیؓ، حضرت عبداللہ مسعودؓ اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے ساتھ لیا جاسکتا ہے۔ خطابت کے اعتبار سے بھی حضرت عمر فاروق ؓ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سواآپ تمام صحابہؓاور صحابیاتؓ میں ممتاز تھیں۔ علمی کمالات،دینی خدمات اور سرور کائناتﷺ کی تعلیمات و ارشادات کی نشر و اشاعت کے اعتبار سے آپ کا کوئی حریف نہیں ہوسکتا۔ اگر آپ کو ’’محسنۂ امّت‘‘ کہا جائے، تو اس میں مطلق کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔

حضرت عائشہ ؓ کے تلامذہ کی تعداد دو سو کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے، جن میں متعدد اکابر صحابہؓ کے علاوہ تابعین کی ایک بڑی جماعت شامل ہے۔صدیقۂ کائناتؓ کو عبادت الٰہی سے بے انتہا شغف تھا۔نہایت متقّی اور حد درجہ خوف خدا رکھتی تھیں۔ ازواجِ رسول ؐ میں حضرت عائشہؓ وہ واحد خوش نصیب زوجۂ رسول ؐ ہیں، جنہیں رب کائنات نے آسمان سے سلام بھیجا۔ نبی کریمﷺ نے سیّدہ عائشہؓ سے فرمایا کہ جبرائیلؑ آئے ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں، آپ نے جواب میں کہا کہ ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو۔

حضرت عائشہ ؓ حق و باطل کے معرکوں یعنی جہاد میں باقاعدہ حصّہ لیتیں۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اُمّ المومنین حضرت عائشہ ؓ اور اُم سلیمؓ کو دیکھا کہ غزوۂ اُحد میں کندھوں پر مشکیزے لادے ہوئے زخمیوں کو پانی پلا رہی ہیں۔(صحیح بخاری)غزوۂ بدر کے تاریخی معرکے میں پرچمِ رسول ؐ (اسلامی پرچم) حضرت عائشہ صدیقہؓ کی اوڑھنی سے بنایا گیا تھا۔

حضرت عائشہ ؓ کی حیاتِ مبارکہ میں چار واقعات نہایت اہم ہیں، افک، ایلاء، تحریم اور تخییر (جن کا ذکرکتب سیرت اور کتب تاریخ میں تفصیلاً موجود ہے) جس کے نتائج مشیتِ خداوندی سے اسلامی ضابطے و قوانین کی صورت میں امّت کے لیے دائمی خیرکی صورت میں سامنے آئے۔ ایک سفر میں حضرت عائشہؓ کا ہارگم ہو جانے پر آیاتِ تیمم نازل ہوئیں۔

اس موقع پر حضرت اسید بن حضیر ؓ جوکہ ایک جلیل القدر صحابی تھے، انہوں نے فرطِ مسرت سے فرمایا ’’اے عائشہ ؓ، اللہ آپ کو جزائے خیر دے، اللہ کی قسم، جب کوئی بات آپ کو پیش آئی، اللہ نے آپ کے لیے اس سے نکلنے کا راستہ مہیّا فرمایا اور مسلمانوں کے لیے اس میں برکت پیدا کردی۔ اے آل ابوبکر ؓ، یہ تمہاری پہلی برکت نہیں ہے، بلکہ اس سے پہلے بھی تمہاری وجہ سے برکتیں نازل ہوچکی ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری)

اُم المومنین حضرت عائشہؓ کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ منافقین کی طرف سے واقعۂ افک میں لگائے گئے بہتانِ پر اللہ تعالیٰ نے خود آپ کی پاکی بیان کی۔ آپ کی عصمت و پاکیزگی کی شہادت سورۂ نور میں نازل فرما کر بدخواہوں کو ان کے انجام سے باخبر کیا اور حضرت عائشہ ؓ کی شانِ معصومیت کو آیاتِ مقدسہ کے ذریعے بیان فرمایا۔

بقول حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ’’آپ کی شان میں قرآنی آیات نازل ہوئیں جو ہر محراب و منبر میں شب و روز تلاوت کی جاتی ہیں۔‘‘ یہ آیات مبارکہ تا قیامت آپ ؓ کی طہارت، عفت، پاک دامنی اور پاکیزگی کی گواہی دیتی رہیں گی۔

وصالِ نبویؐ کے بعد تقریباً 48سال تک حیات رہیں اور یوں نصف صدی تک روز و شب عالم اسلام کو انوار الٰہی اور اسوۂ حسنہ سے منورکرنے کے بعد یہ محسنۂ امت اور خورشیدِ تاباں 17رمضان المبارک 58 ہجری،13جون 678ء کو اپنے رب کے حضور پہنچ گئیں۔ نماز جنازہ میں صحابہؓ کی اتنی بڑی تعداد تھی،جو اس سے پہلے رات کے وقت کبھی نہ دیکھی گئی۔ نمازِ جنازہ حضرت ابو ہریرہؓ نے پڑھائی،آپ کے بھتیجوں اور بھانجوں نے لحد میں اتارا اور حسبِ وصیت جنّت البقیع میں محو استراحت ہوئیں۔

Share This:

اسلامی مضامین

  • 07  مارچ ،  2026

یوم الفرقان، غزوۂ بدر اسلامی تاریخ کا عظیم اور تاریخ ساز معرکہ ہے۔

  • 07  مارچ ،  2026

یہ معرکہ مشر کین مکّہ کی عبرت ناک شکست اور اہل ایمان کی فتح مبین پر ختم ہوا۔

  • 07  مارچ ،  2026

آنحضرت ﷺ کی دیگر ازواجِ مطہراتؓ میں ان ساری باتوں کا پورا پورا جواب ہمیں حضرت عائشہ صدیقہ ؓہی کی زندگی میں نظر آتا ہے۔

  • 07  مارچ ،  2026

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جیسے ہی میں نے ہوش سنبھال کر والد کو دیکھا، انہیں مسلمان پایا۔

  • 06  مارچ ،  2026

’’نمازِتراویح‘‘ نبی کریم ﷺ کی سنّت ہے اور احادیث مبارکہ میں اس کی فضیلت آئی ہے۔

  • 05  مارچ ،  2026

اسلام دین رحمت، نظام فطرت اور مذہب انسانیت ہے، اس کی تعلیمات بنی نوع آدم کی فلاح اور نجات کی حقیقی ضامن ہیں۔

  • 04  مارچ ،  2026

ڈاکٹرمحمد نجیب قاسمی سنبھلیحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: بہت سے روزہ رکھنے والے...

  • 03  مارچ ،  2026

اس مہینے کے انتظار میں ایک سال قبل سے ہی جنت کو آنے والے رمضان کے استقبال میں سجانا شروع کردیا جاتا ہے۔

  • 02  مارچ ،  2026

نیکیوں کا موسمِ بہار، رحمت، مغفرت اور جہنّم سے نجات کا مہینہ ’’رمضان المبارک‘‘ ہم پر سایہ فگن ہے۔

  • 28  فروری ،  2026

زواج مطہراتؓ کے حجرات درحقیقت علوم اسلامی کی ترویج و اشاعت کی جامعات اور علوم نبویؐ کی درس گاہیں تھیں۔

  • 28  فروری ،  2026

غازی محمد بن قاسمؒ نے باب الاسلام سندھ کی دھرتی پر قدم رکھا اور مختصر عرصے میں اپنی جرأت وفراست ، رواداری، حسنِ سلوک اور...

  • 28  فروری ،  2026

امّ المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قبیلہ قریش کی ایک بہت ہی باہمت، بلند حوصلہ اور زیرک خاتون تھیں۔

  • 28  فروری ،  2026

اسلامی تاریخ کا ایک روشن اور قابل فخر کردار

  • 27  فروری ،  2026

’’رمضان‘‘ نزولِ قرآن کا مہینہ ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس ماہِ مبارک میں تلاوتِ قرآن کا بہ کثرت اہتمام کیا جائے۔

  • 26  فروری ،  2026

ہر سال کی طرح اس سال بھی ہم اس مبارک مہینے کی مسعود ساعتوں میں سانس لے رہے ہیں۔

  • 26  فروری ،  2026

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اکثر مقامات پر صلوٰۃ کے ساتھ زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم فرمایا ہے۔

  • 25  فروری ،  2026

رمضان المبارک صرف روزہ اور تراویح کا نام نہیں بلکہ عقیدہ، عبادت، معاملات، معاش اور طرزِ زندگی کو درست کرنے کا مہینہ ہے۔

  • 24  فروری ،  2026

اس ماہ میں ہمیں قرآنِ مجید عطا کیا گیا، جو ہدایت، رحمت، فرقان، نور اور شفا ہے۔

  • 23  فروری ،  2026

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی فضا پُرنور ہو جاتی ہے، ہر سُوانوار کی بارش ہونے لگتی ہے اور اللہ کے پسندیدہ بندے اپنے...

  • 22  فروری ،  2026

اسلامی عبادات میں ’’روزہ‘‘ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے تیسرا اہم ترین رکن ہے۔