چند روزہ تراویح پڑھ کر بقیہ چھوڑ دینے کا حکم

چند روزہ تراویح پڑھ کر بقیہ چھوڑ دینے کا حکم…!

سوال:۔ اگر کوئی شخص رات کے اوقات میں اپنی کاروباری مصروفیت کی وجہ سے یا ملازمت کی وجہ سے روزانہ لمبی تراویح نہ پڑھ سکتا ہو اور وہ پانچ چھ روزہ ختم کرلے تو کیا یہ کافی ہے؟

جواب۔ تراویح میں ایک سنت تو یہ ہے کہ تراویح میں پورا قرآن پڑھا جائے یا سنا جائے اور دوسری سنت یہ ہے کہ پورے رمضان تراویح پڑھی جائے، اگر کوئی شخص چند روزہ تراویح پڑھ کر باقی رمضان تراویح نہ پڑھے تو دوسری سنت کا تارک ہو گا، اس لیےایسا شخص جو چند روزہ ختم قرآن کرچکا ہو اور بقیہ ایّام لمبی تراویح نہ پڑھ سکتا ہو، اسے اجازت ہے کہ وہ رمضان کے بقیہ ایّام میں مختصر تراویح پڑھ لے۔

Share This:

شرعی مسائل کا حل

  • 21  مارچ ،  2026

عیدالفطر کی نماز کی دوسری رکعت میں تین تکبیرات کہنے کے بعد چوتھی تکبیر پر رکوع میں جانا ہوتا ہے۔

  • 20  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا تفصیلی جواب۔۔۔

  • 19  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب۔۔۔

  • 18  مارچ ،  2026

سونے کے زیورات میں موجود کھوٹ اور پالش زکوٰۃ کے حساب میں کل وزن میں شامل کی جائے گی؟

  • 17  مارچ ،  2026

بچوں کا ایک اسپتال ہے، جس میں باقاعدہ زکوٰۃ، صدقات کے علیحدہ علیحدہ اکاؤنٹ ہیں۔

  • 16  مارچ ،  2026

مفتی منیب الرحمٰن کا جواب۔۔۔

  • 14  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا تفصیلی جواب۔۔۔

  • 13  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب ۔۔۔

  • 12  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کوق جواب۔۔۔

  • 11  مارچ ،  2026

شرعی مسائل کا حل۔۔۔

  • 10  مارچ ،  2026

مفتی منیب الرحمٰن کا شعری جواب ۔۔۔۔

  • 09  مارچ ،  2026

مفتی منیب الرحمٰن کا جواب۔۔۔

  • 08  مارچ ،  2026

نماز میں خیالات سے بچنے کے لیے ان باتوں کا اہتمام کیجیے۔۔۔

  • 07  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا مفصل جواب۔

  • 06  مارچ ،  2026

زکوٰۃ سے متعلق مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب...

  • 06  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب

  • 05  مارچ ،  2026

میں نے اپنا مکان فروخت کردیا ہے اور مکان کی رقم رمضان سے 15دن پہلے ملی ہے۔

  • 04  مارچ ،  2026

رمضان کے مسائل سے متعلق مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب۔

  • 04  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا جواب۔

  • 03  مارچ ،  2026

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوری کا شرعی جواب۔