رمضان المبارک کے انوار و ثمرات اور انسانی زندگی پر ’’روزہ‘‘ کے اثرات
- 10 مارچ ، 2025
- Web Desk
- اسلامی مضامین
تاریخی طور پر روزہ ہر امت کے لئے فرض تھا۔ البتہ اس کی صورت و کیفیت اور احکام و پابندیاں جداگانہ تھیں۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم ؑ پر ہر مہینے کی 15,14,13کو روزہ فرض تھا۔ حضرت نوح ؑ ہمیشہ روزے دار رہتے، حضرت داؤد ؑ ایک دن روزہ رکھتے، ایک دن افطار فرماتے، یہودیوں پر عاشورہ اور ہر سنیچر کے علاوہ چند دن اور بھی روزے فرض تھے۔
حضرت عیسٰی ؑ ایک دن روزہ رکھتے اور دو دن افطار کرتے تھے۔ نصاریٰ یا عیسائیوں پر دراصل رمضان کے روزے فرض تھے، لیکن جب اُنہیں سخت گرمی اور شدید سردی کے روزوں میں دقت محسوس ہوئی تو انہوں نے احکام الہٰیہ میں تحریف و تنسیخ کر کے یہ فیصلہ کیا کہ وہ موسم ربیع یعنی موسم بہار میں تیس کے بجائے پچاس روزے رکھیں گے۔
مسلمانوں کے لئے قرآن حکیم میں روزے کا حکم ان الفاظ میں نازل ہوا ’’اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کئے جاتے ہیں، جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے، تاکہ تم متقی بن جاؤ‘‘۔ (سورۃالبقرہ183:) آیات کا مفہوم یہی ہے کہ روزے داری کے حکم کو تم سختی ہر گز نہیں سمجھنا۔
اس سے تمہاری مشکلات حل ہوں گی، اللہ کا ارادہ و مقصد تمہیں تکلیف میں ڈالنے کا نہیں ، تم روزوں کی گنتی پوری کرو اور حکم خداوندی کی پابندی کرو ،اللہ کا نام بلند کرو، جب تم اس کی محبت کا شکر بجالاؤ گے تو وہ نعمت زیادہ کر دے گا۔
روزوں کے ذریعے اللہ کی ذات سے مومن کی ایک روحانی نسبت پیدا ہوجاتی ہے، روزے داری سے روح پاک ہوجائے گی، نفس کا تزکیہ ہو جائے، جسم گناہوں سے طاہر ہوجائے گا۔ معاشرت اور تمدن کی اصلاح ہوجائے گی اور پھر اس کے بعد جب بندہ اللہ کو پکارے گا تو وہ پکا ریقینا ًسنی جائے گی اور مستجاب ہوگی۔
سورۃ البقرہ کی آیاتِ صوم میں اللہ تعالیٰ نے روزے داری کے تین مقاصد بیان فرمائے ہیں۔ پہلا یہ کہ تم متقی یعنی اللہ کا حکم ماننے والے، اس کے حکم کی خلاف ورزی سے بچنے والے اور اس کے حکم کی حفاظت کرنے والے بن جاؤ، تمہارے اندر بدی کی قوتیں کمزور اور نابود ہوجائیں اور نیکی کی طاقتیں نشوونما پا کر پروان چڑھیں گی۔ کیونکہ انسان کی ہر ایک قوت و صلاحیت اپنے کمال تک پہنچنے کے لئے اس بات کی محتاج ہے کہ اُسے نشوونما دی جائے۔ روزے میں اللہ تعالیٰ کے حکم اطاعت و فرماں برداری کے لئے حلال چیزوں کو بھی ترک کردیا جاتا ہے۔
اس سے مومن بحیثیت انسان اپنے نفس پر حاکم بن کر اسے اعلیٰ سے اعلیٰ مقام پر پہنچا سکتا ہے۔ اسلام نے ہر چیز کو ایک قاعدے اور ضابطے کے ماتحت رکھا ہے، وقت پر کھانا کھانا عین اسلام کے مطابق ہے ۔ روزے میں اس ضابطے کو توڑنا یا اس کی نفی کرنا مقصد نہیں، بلکہ انسان کے اندر یہ قوت پیدا کرنا مقصد ہے کہ ان خواہشات حیوانی کو توڑا جائے جو کھانے پینے نفس کی خواہش پوری کرنے کی طرف راغب کرنے سے تعلق رکھتی ہیں۔
یہ انسان کے قبضۂ قدرت میں ہو اور ایسا نہ ہو کہ انسان ان کا محکوم اور غلام ہو کر رہ جائے۔ روزے نے حیوانی خواہشات پر قابو پانے کی عملی راہ بتائی ہے اور اس طرح انسان کو تقویٰ (یعنی ہر مضر اور نقصان دینے والی عادت، چیز یا طاقت سے محفوظ کردینے) کی راہ دکھائی ہے۔
دوسرا یہ کہ تم اللہ کے شکر گزار بندے بن جاؤ ۔ شکر کے معنی ہیں اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا صحیح اور درست استعمال، مطلب یہ کہ اللہ کی دی ہوئی طاقتیں، اس کے عطا کردہ اعضاء و جوارح اس کی بخشش کی ہوئی وہ تمام چیزیں جو ہمارے لئے بنائی گئی ہیں، اُس کا حکم آجانے پر اس کے منشا کے مطابق استعمال ہوں۔
تیسرا یہ کہ انسان خطروں، بدیوں اور آزمائشوں سے بچ کر اور اللہ کی نعمتوں کا صحیح استعمال کرکے اپنی منزل مقصود پالیتا ہے۔ روزے دار اگر تقویٰ، شکر گزاری اور رشد، تینوں نعمتوں کو حاصل کرلے تو یہ انسانی زندگی کی معراج ہے۔ متعدد احادیث مبارکہ میں روزے کی حقیقت اور فضائل تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔
جن کا مجموعی مفہوم بھی وہی ہے جو قرآنی آیات کی وضاحت میں ہم نے اوپر بیان کیا۔ سب سے اہم بات جو رسول اللہ ﷺ نے روزے کے اوصاف اور فوائد میں بیان فرمائی وہ یہ کہ ’’روزہ ڈھال ہے‘‘ ڈھال کے ذریعے انسان دشمن کے وار سے بچتا ہے۔ اسی طرح روزے دار شیطان اور نفس کے وار سے بچ جاتا ہے۔
ان روایات میں روزے میں جھوٹ، غیبت گالی، بدنظری ۔ ایذارسانی سے بچنے یا انہیں ترک کر دینے کا حکم بھی ہے۔ یعنی روزے کی تکمیل کے لئے جہاں کھانا پینا ترک کر دینے کا حکم ہے، وہاں ان برائیوں سے بچنے کا بھی حکم ہے، جو انسان کی اخلاقی اور اجتماعی زندگی اثر ڈالتی ہیں۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے ’’جس شخص نے جھوٹ بو لنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑا تو اللہ تعالیٰ کو اس کا کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی پروا نہیں ‘‘۔ یعنی روزے سے قربِ الہٰی اور حصولِ رضائے الہٰی کا جو نتیجہ انسانی شخصیت پر مرتب ہونا چاہئے ،وہ نہیں ہوتا۔
روزہ ایک اجتماعی فریضہ ہے اور پوری امت پابند ہے کہ خلقِ خدا کی محبت اور اپنی اصلاح و پاکیزگی کے لئے سال میں پورا مہینہ ایک نظام اور پابندی کے ساتھ روزے رکھے۔ اس نظام کے عملی نتائج بڑے حیرت انگیز ہو سکتے ہیں اور جب تک مسلمانوں میں ملی نظام قائم رہا، دنیانے ان نتائج کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
قرآنی احکام اور ارشاداتِ نبوی ﷺ کو سامنے رکھیں تو رمضان المبارک میں امت کو اجتماعی صورت میں روحانی اور جسمانی لحاظ سے پاک کرنے اور غلبۂ دین حق کی جدوجہد کی تیاری کے لئے مستعد رکھنے کی ساری صورتیں موجود ہیں۔
اسلامی مضامین
’’عیدالفطر‘‘ اعمال کے جائزے اور عزمِ نو کا دن
- 21 مارچ ، 2026
’’عیدالفطر‘‘ اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے اجر اور مزدوری وصول کرنے کادن ہے۔
رمضان کے بعد زندگی کے شب و روز کیسے گزاریں؟
- 20 مارچ ، 2026
رمضان کا مبارک مہینہ اپنی تمام تر برکتوں، رحمتوں، مغفرتوں، فضیلتوں سعادتوں کے ساتھ آج اختتام پذیر ہو رہا ہے۔
ماہِ رمضان کے بعد معمولاتِ زندگی اور ہماری ذمہ داریاں
- 19 مارچ ، 2026
ماہِ صیام جس کا گیارہ مہینے سے انتظار تھا، وہ آیا اور ہوا کے ایک خوشگوار جھونکے کی مانند ہمیں ہر نعمتِ خداوندی سے سرفراز...
رمضان المبارک جہنم سے نجات کا مہینہ
- 18 مارچ ، 2026
’’رمضان المبارک‘‘ نیکیوں کا موسم بہار، ایک عظیم ماہِ مبارک ہم پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔
’’لیلۃُ القَدر‘‘ ربِّ ذُوالجلال کے حضور توبہ ومُناجات اور دعاؤں کی قبولیت کے مقدّس و بابرکت لمحات
- 17 مارچ ، 2026
اس ایک رات میں عبادت کا اجر و ثواب ایک ہزار مہینے کی عبادت و ریاضت سے بڑھ کر ہے۔
شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر
- 16 مارچ ، 2026
رمضان کے قیمتی اوقات میں سے ایک وقت ہے لیلۃ القدر، مرتبے والی اور عظمت والی رات۔
قرآنِ حکیم اور ہماری زندگی
- 16 مارچ ، 2026
قرآن اللہ کا آخری کلام ہے۔ اللہ نے انسانوں کو جو علم دینا تھا، وہ قرآن کے اندر آخری مرتبہ مکمل شکل میں دے دیا گیا۔
عشرہ نجات کی پرنور، بیش قیمت ساعات اور ہماری غلط ترجیحات
- 15 مارچ ، 2026
احادیثِ مبارکہ کے مطابق ماہِ رمضان کو بنیادی طور پر تین عشروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
الوداع ماہ رمضان الوداع
- 14 مارچ ، 2026
رمضان کریم، ماہِ صیام رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا ماہِ مبارک، اپنی تمام تر رحمتوں اور برکتوں سمیت ہم سے رخصت ہونے کو...
رمضان المبارک کے آخری ایام کی قدر کریں
- 13 مارچ ، 2026
بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں اس ماہِ مبارک میں طاعت و عبادت کا موقع نصیب ہوا۔
اعتکاف کے فضائل و احکام
- 12 مارچ ، 2026
احادیثِ نبویﷺ میں اس پر بے شمار اجر وثواب کی نوید بیان کی گئی ہے
سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ: وفاداری و جاں نثاری کا بے مثال نمونہ
- 11 مارچ ، 2026
حضرت علی ؓ امت کی تاسیسی شخصیات اور درخشاں و تابندہ ہستیوں میں سے ایک ہیں۔
حضرت علی ابن ابی طالب ؓ: سیرت و کردار کا روشن اور تاریخ سازباب
- 11 مارچ ، 2026
شیرِیزداں، شاہِ مرداں، سیّدنا علی مرتضیٰؓ نے عہدِ نبویؐ کے غزوات اور جنگی معرکوں میں جرأت و شجاعت کی تاریخ رقم کی۔
اعتکاف: ماہِ صیام کی ایک باعث اجر و فضیلت عبادت
- 10 مارچ ، 2026
الحمد للہ، اب ہم ماہ ِرمضان کے آخری عشرے میں داخل ہورہے ہیں، یہ وہ عشرہ ہے جس کی طاق راتوں میں شب قدر کی تلاش کا حکم ہے۔
حُسنِ سلوک، عفوودرگزر، بُردباری و رواداری کا تاریخ ساز مظہر ’’واقعہ فتحِ مکّہ‘‘
- 09 مارچ ، 2026
ڈاکٹر حافظ محمد ثانینبیِ رحمت، محسنِ انسانیت،سرورِ کائنات، ختمی مرتبت، حضرت محمد ﷺ کی نمایاں ترین خصوصیت، آپ ﷺ کی’’...
قصہ قومِ ثمود اور حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا
- 08 مارچ ، 2026
اور قومِ ثمود کو اللہ نے یوں نیست و نابود کردیا کہ گویا وہاں وہ کبھی آباد ہی نہ تھے۔ ۔
’’غزوہ بدر‘‘ رسولﷺ کی عسکری و دفاعی حکمتِ عملی کا عظیم مظہر
- 07 مارچ ، 2026
یوم الفرقان، غزوۂ بدر اسلامی تاریخ کا عظیم اور تاریخ ساز معرکہ ہے۔
’’یوم الفرقان‘‘ جب اسلام غالب اور کفر مغلوب ہوا
- 07 مارچ ، 2026
یہ معرکہ مشر کین مکّہ کی عبرت ناک شکست اور اہل ایمان کی فتح مبین پر ختم ہوا۔
کاشانہ نبوت کی ملکہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
- 07 مارچ ، 2026
آنحضرت ﷺ کی دیگر ازواجِ مطہراتؓ میں ان ساری باتوں کا پورا پورا جواب ہمیں حضرت عائشہ صدیقہ ؓہی کی زندگی میں نظر آتا ہے۔
’’حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ‘‘ سیرت و کردار کا بے مثال اور تاریخ سازباب
- 07 مارچ ، 2026
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جیسے ہی میں نے ہوش سنبھال کر والد کو دیکھا، انہیں مسلمان پایا۔