ماہِ رمضان: صحت مند افراد کے ساتھ مریضوں کیلئے بھی نعمتِ عظمیٰ
- 18 مارچ ، 2026
- Web Desk
- صیام و صحت
ڈاکٹر زاہدہ ثقلین، لودھراں
ربِّ کائنات کی نوعِ انسانی سے بے پناہ محبّت میں کوئی شبہ نہیں۔ یہ اللہ ربّ العزّت ہی کی مہربانی ہے کہ اُس نے اگر ہماری روح کی درستی کے لیے ہدایات دیں، تو ہماری جسمانی ضروریات کا بھی بَھرپور خیال رکھا، جس کی ایک بڑی واضح مثال ماہِ صیام ہے۔ یہ مبارک مہینہ جہاں اپنی قدر و منزلت میں باقی گیارہ مہینوں سے افضل ہے، وہیں اس ماہ کے لیے ہمارے معمولات بھی عام دِنوں کی نسبت یک سر مختلف ہیں، جن میں ہمارے لیے خیر اور بھلائی کے بے شمار خزانے چُھپے ہوئے ہیں۔
روزہ، سن2ہجری میں فرض ہوا اور قرآن ِپاک میں اس کی فرضیت کی غرض و غایت یہ بتائی گئی،’’تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو‘‘۔ بنیادی طور پر رمضان المبارک ہمیں اس بات کی دعوت دیتا اور یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبّت ہمارے دِلوں میں گھر کرے اور ہمارے اندر یہ ڈر پیدا ہو کہ وہ مہربان ہستی ہم سے ناراض نہ ہو جائے۔ گرچہ دین کے دیگر معاملات کی طرح روزوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے نرمی کا معاملہ فرمایا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو، تو وہ دوسرے دِنوں میں گنتی پوری کرلے‘‘(سورۃ البقرہ)۔ لیکن، ماہِ صیام سے متعلق بعض احکامات کے بارے میں جاننا انتہائی ضروری ہے، جیسا کہ اگر کوئی فرد کسی ایسے مرض میں مبتلا ہو، جس سے صحت یابی کی اُمید ہو، تو بعد میں روزے رکھ کر گنتی پوری کی جاسکتی ہے۔یہ عمل قضا کہلا تا ہے۔
حاملہ اور دودھ پلانے والی مائیں بھی قضا روزے رکھ سکتی ہیں، لیکن اگر کوئی انتہائی ضعیف ہے یا کسی دائمی مرض میں مبتلا ہےاور یہ امکان ہے کہ رمضان کے بعد بھی مذکورہ فرد کے لیے روزے رکھنا ممکن نہیں ہوگا، تو بہتر ہے کہ فدیہ ادا کردیا جائے۔
ماہِ رمضان میں فجر سے مغرب تک بغیرکچھ کھائے پیے رہنے سے صحت میں جو بہتری آتی ہے، وہ اب متعدّد تحقیقات سے بھی ثابت ہوچُکی ہے۔ اس ضمن میں قومی ادارۂ صحت نے ایک رپورٹ مرتّب کی ، جس کے مطابق روزہ ذیابطیس، بلڈپریشر اور موٹاپا کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے، تو اس کے ذریعے دماغی افعال کی کارکردگی بھی بہتر ہوتی ہے۔
عموماً رمضان المبارک میں افطار میں کھجور کا استعمال کیا جاتا ہے،جو نہ صرف توانائی اور طاقت کا منبع ہے، بلکہ مختلف اقسام کے کیمیائی مرکبات مثلاً پوٹاشیم، میگنیشیم، وٹامنز اور جسمانی ضرورت کے مطابق فائبر بھی فراہم کرتی ہے۔ اس طرح ایک ماہ تک مسلسل روزے رکھنے اور صحت کے بنیادی اصولوں پر عمل کے نتیجے میں جسم کی فربہی میں خاصی کمی لائی جاسکتی ہے۔
ماہرینِ امراضِ قلب کے مطابق روزہ نہ صرف خون میں موجود کولیسٹرول کی مقدار نارمل رکھتا ہے، بلکہ خون کی شریانوں کو اپنےافعال زیادہ بہترطریقے سے انجام دینے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف امراض مثلاً دِل کے دورے، اسٹروک یا فالج کےخطرات کم ہو جاتے ہیں۔
اگرچہ شریعتِ اسلامی میں سفر کے دوران یا بیماری کی صُورت میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، تاہم مرض کی نوعیت اور روزے سے مریض پر ممکنہ اثرات پیشِ نظر رکھتے ہوئے مریض اور معالج کےباہم مشورے سے روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ کیا جانا چاہیے۔ مگر اس ضمن میں چند امور لازماً پیشِ نظر رہیں۔ مثلاً:
٭ ایسی معمولی نوعیت کی بیماری، جس سے مریض کی جان کو کوئی خطرہ لاحق ہو اور نہ ہی زیادہ تکلیف محسوس ہو ، تواس صُورت میں روزے رکھا جاسکتا ہے۔
٭ اگر مرض ایسا ہے، جس میں دوالینے کے اوقات تبدیل کرکے، دوا صُبح و شام (سحر و افطار کے وقت) لی جاسکتی ہو اور اس سے مریض کی صحت پر کوئی مضر اثرات بھی مرتّب نہ ہوتے ہوں تو ایسی صُورت میں روزہ رکھا جاسکتا ہے۔
٭ایسے مریض جو رُوبصحت ہوں، لیکن روزہ رکھنے سے صحت بگڑنے کا اندیشہ ہو، تو انہیں مکمل صحت یاب ہونے تک روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔
ماہِ صیام میں روزے سے متعلق چند عمومی طبّی مسائل زیرِ بحث رہتے ہیں، تو اس ضمن میں کچھ اہم باتیں سوال وجواب کی صُورت بھی پیشِ خدمت ہیں۔
س: انجیکشن لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
ج: شدید بیماری کی صُورت میں خواہ جِلد(Subdermal)، گوشت (Intramuscular) یارگ (Intravenous) میں انجکیشن لگوایا جائے، روزہ نہیں ٹوٹتا، لیکن بھوک، پیاس مٹانے یا جسم کو تقویت پہنچانے کے لیے روزے کی حالت میں انجیکشن لگوانا روزے کی روح کے خلاف ہے۔مثلاً وٹامن ڈی کا انجیکشن۔ البتہ دافع درد (Analgesic)، جراثیم کُش(Antibiotic) اور حفاظتی ٹیکے (Vaccination) وغیرہ لگوائےجا سکتے ہیں۔
س: کیا دورانِ روزہ آنکھ، ناک اور کان میں دوا ڈال سکتے ہیں؟
ج: فقہاءکی عمومی رائے کے مطابق روزے دار کے آنکھ میں دوا ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، البتہ ناک اور کان میں دوا ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، کیوں کہ ناک کے ذریعے دوا گلے میں جا سکتی ہے، جب کہ کان کے بارے میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ کان کا پردہ، کان کے بیرونی اور اندرونی حصّے کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے، لہٰذا کان کے پردے میں سوراخ کی صُورت میں دوا گلے تک پہنچنے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔ اور غالباً اسی وجہ سے فقہا کی رائے یہی ہے کہ کان میں دوا ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
س: روزے کی حالت میں دانت نکلوایا جاسکتا ہے؟
ج: دورانِ روزہ دانت نکلوانا روزے کو فاسد کرنے کا سبب نہیں، مگر اس عمل کے دوران یہ امکان موجود ہوتا ہے کہ کہیں پانی، دوا یا خون وغیرہ حلق میں نہ چلاجائے، لہٰذا بہتر یہی ہے کہ افطار کے بعد دانت نکلوایا جائے یا دانت کی فِلنگ، اسکیلنگ وغیرہ کروانی ہو، تو کروائی جائے۔
س: کیا زبان کے نیچے گولی رکھنے(Sublingual) سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
ج: جی ہاں، زبان کے نیچے گولی رکھنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، لیکن ایمرجینسی کی صُورت میں ( مثلاً اگر کوئی فرد عارضۂ قلب کا شکار ہے) روزہ کھول کر زبان کے نیچے گولی رکھی جاسکتی ہے۔ تاہم، مکمل صحت یاب ہونے کے بعد روزے کی قضا روزے لازماً کی جائے۔
س: اِن ہیلر پمپ کا استعمال روزہ ٹوٹنے کی وجہ بن سکتا ہے؟
ج: اس ضمن میں فقہاء کی عمومی رائے یہی ہے کہ روزے کی حالت میں اِن ہیلر کا استعمال درست نہیں، مگر کچھ فقہاء اس کے حق میں بھی رائے دیتے ہیں۔
س: کیا روزے کی حالت میں کوئی آپریشن کروایا جاسکتا ہے؟
ج: طبّی اعتبار سےآپریشنز دو اقسام کے ہوتےہیں۔ آپریشن کی ایک قسم ایمرجینسی اور دوسری اختیاری(Elective)کہلاتی ہے (یعنی جو پہلے سے پلان کی گئی ہو)۔ اس ضمن میں فقہا ءکا کہنا ہے کہ ہنگامی صُورتِ حال میں روزے دار کاآپریشن کیا جاسکتا ہے۔ تاہم، آپریشن کے دوران روزہ نہ رکھنے کی صُورت میں قضا لازم ہوگی۔ البتہ الیکٹیو سرجری ماہِ صیام کے بعد کروائیں۔
جب کہ بعض معمولی نوعیت کے آپریشنز (مثلاً آنکھ کا، کسی معمولی زخم یا پھوڑے وغیرہ کا)، جن میں مکمل طور پربے ہوش نہیں کیا جاتا، بلکہ محض متاثرہ جگہ کو سُن کیا جاتا ہے۔ ایسی سرجریز روزے کے دوران کروانے میں کوئی حرج نہیں۔ یاد رہے، مقعد یاVagina کے اندرونی حصّے کا معائنہ کروانے سے روزہ فاسد ہو جائے گا۔
س: اگر دورانِ روزہ قے ہوجائے؟
ج: اگر جان بوجھ کر قے کی جائے، تو روزہ فاسد ہوجاتا ہے، بصورتِ دیگر روزہ نہیں ٹوٹتا۔ یہی معاملہ بے ہوشی کا ہے۔ اگر کوئی شخص نقاہت یا کسی بیماری کی وجہ سے بے ہوش ہوجائے ،تو روزہ نہیں ٹوٹتا، البتہ اگر کسی کو دوا دے کر بے ہوش کیا جائے(جیسے آپریشن کے لیے) ،تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
س: حاملہ خواتین یا دودھ پلانے والی مائیں ماہِ صیام سے مستفیض ہوسکتی ہیں ؟
ج: حاملہ اور دودھ پلانے والی مائیں اگر سمجھیں کہ روزہ رکھنے سے وہ یا ان کا بچّہ کسی طبّی مسئلے سے دوچار نہیں ہو گا ، تو روزے رکھ سکتی ہیں، لیکن کسی بھی قسم کے طبّی مسائل کے امکانات پائے جائیں، تو بہتر ہوگا کہ قضا روزے رکھ لیے جائیں۔ اگر کوئی حاملہ روزے سے ہو اور دردِزہ شروع ہوجائے، تو صرف درد ہونے، خون یا پانی کے اخراج سے روزہ نہیں ٹوٹے گا (اِلّا یہ کہ اندرونی معائنہ کیا جائے)۔
اسی طرح اگر کسی کی ماہ واری ڈسٹرب ہے، ایّام بڑھ جاتے ہیں، تو یاد رہے، شریعت میں ایّام کی زیادہ سے زیادہ مدّت دس دِن ہے، اس کے بعد غسل کرکے نماز بھی پڑھی جاسکتی ہے اور روزے بھی رکھے جاسکتے ہیں۔
دیکھا گیا ہے کہ بعض خواتین معلومات نہ ہونے کے سبب پورا پورا مہینہ روزے نہیں رکھتیں، جو درست نہیں۔ ایسے معاملات میں فقہاء سے مشورہ ضروری ہے، محض اپنی معلومات پر بھروسا کر کے رمضان کے قیمتی روز و شب گنوا دینا قطعاً عقل مندی نہیں ۔
س: عطیۂ خون سے متعلق کیا حکم ہے؟
ج: فقہاء کی رائے کے مطابق بلڈ ٹیسٹ کروانے یا کسی مریض کو خون دینے کی صُورت میں روزہ نہیں ٹوٹتا، مگر بہتر یہی ہے کہ یہ دونوں کام افطار کے بعد کیے جائیں کہ دونوں صُورتوں میں کم زوری کا احتمال ہو سکتا ہو۔
س: دائمی امراض میں مبتلا مریض روزہ رکھ سکتے ہیں؟
ج: معدے، گُردے، جگر، دِل، تنفّس کے امراض، ڈیپریشن، ذیابطیس یا دیگر دائمی امراض میں مبتلا مریض اپنے معالج سے مشورہ کریں۔ اگر معالج اجازت دے، تو رمضان المبارک کے روزے ضرور رکھیں۔ بصورتِ دیگر قضا کر لیں یا پھر فدیہ ادا کردیں۔
س: کسی تمباکو نوش کا دھواں روزے دار کے روزے پر اثر انداز ہوتا ہے؟
ج: اکثر افراد اس تذبذب کاشکار رہتے ہیں کہ اگر روزے کی حالت میں کسی تمباکو نوش کے ساتھ ہوں، تو کیا تمباکو کا دھواں اُن کے روزے پر بھی اثر انداز ہو گا؟ تو حقیقتاً کسی بھی عمل میں نیّت بہت اہم ہے۔ اگر جان بوجھ کر دھواں اندرلے لیا جائے، تو روزہ ٹوٹ جائے گا، لیکن کسی ایسے ماحول میں مجبوراً رہنے کی صُورت میں اگر سانس یا منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوجائے ،تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
بلاشبہ ماہِ رمضان انسان کی روحانی و جسمانی صحت کے لیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک بیش قیمت انعام ہے۔ روزہ رکھنے سے ہم جہاں ربّ کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کرتے ہیں، وہیں بعض بُری عادات سے بھی باآسانی چھٹکارا پا یاجاسکتا ہے۔
مثال کے طور پر اس مبارک مہینے میں تمباکو نوشی جیسی خطرناک علّت سے ہمیشہ کے لیے نجات حاصل کی جاسکتی ہے، کیوں کہ ویسے ترکِ تمباکو نوشی اس قدرآسان نہیں، اس کے لیے قوّتِ ارادی کا مضبوط ہونا از حد ضروری ہے، مگر چوں کہ تمباکو نوش روزے کی حالت میں دِن بَھر اس علّت سے دُور رہتے ہیں، تو اگر افطار کے بعد بھی ذرا سی ہمّت کرلی جائے، تو اس مکروہ عادت سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
علاوہ ازیں، معالجین کو بھی چاہیے، بالخصوص اس ماہ ِمبارک میں تمباکو نوش افراد کو اس علّت کو ترک کرنے کی ترغیب دیں اور ان کی حوصلہ افزائی بھی کریں۔ تمباکونوشی سے چھٹکارا جہاں جسم کو صحت مند، تازہ دَم اور توانا رکھے گا، وہیں روزہ مرّہ ادویہ کے استعمال اور معاشی دباؤ میں بھی کمی آئے گی۔
دینِ اسلام میں ہر معاملے میں رہنمائی موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم روزے کی اہمیت سمجھیں اوراس بابرکت مہینے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں۔ خود بھی اللہ کا قرب تلاش کریں اور اپنے پیاروں کو بھی جنّت کی راہ پر چلنے میں مدد دیں۔ (مضمون نگار، معروف کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ ہیں اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال، لودھراں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ نیز، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن خواتین ونگ کی مرکزی ایگزیکٹیو کاؤنسل کی رُکن ہیں )
صیام و صحت
دن میں تین بار کھانا، صحت کیلئے مفید یا نقصان دہ؟
- 20 مارچ ، 2026
اکثر لوگ دن میں تین بار کھانا کھاتے ہیں اور یہ ان کی روزمرہ زندگی کا عمومی جزو بن چکا ہے۔
روزہ کے صحت پر مثبت اثرات پر طبی سائنس کیا کہتی ہے؟
- 19 مارچ ، 2026
نئی تحقیق میں ماہرین نے روزے کے کچھ حیرت انگیز فوائد کا اعتراف کیا ہے۔
ماہِ رمضان کے دوران جسم میں پانی کی کمی دور کرنا
- 17 مارچ ، 2026
ناریل کا پانی ایک بہترین مشروب ہے، جو ذائقہ میں لذیذ ہونے کے ساتھ توانائی بحال کرتا ہے۔
سحری میں توانائی بڑھانے والی غذاؤں کا استعمال
- 16 مارچ ، 2026
سحری کے وقت لی گئی غذاؤں کی بدولت انسان کا جسم پورا دن متحرک رہتا ہے۔
رمضان میں ایسی عادات اپنائیں جو بعد میں بھی کام آئیں
- 14 مارچ ، 2026
رمضان بلاشبہ ہر بار کی طرح رحمتوں اور برکتوں سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ بابرکت مہینہ ایک بہترین روٹین بھی ساتھ لاتا ہے اور...
صحت بخش سحری ضروری
- 13 مارچ ، 2026
یہاں چند ایسی غذائیں بتائی جا رہی ہیں کہ جن سے آپ کی سحری صحت بخش ہو سکتی ہے۔
رمضان میں ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ضروری مشورے
- 12 مارچ ، 2026
رمضان کے روزے رکھنا نہ رکھنا، خالصتاً ایک مسلمان کا ذاتی فعل ہے۔
روزہ رکھنے کیلئے معالج سے مشورہ ضرور کریں
- 11 مارچ ، 2026
دوحہ، قطر کے حمد میڈیکل کارپوریشن میں انٹرنل میڈیسن کے چیئرمین پروفیسر عبدالبادی ابو سمرہ نے ذیابیطس کے مریضوں کو مشورہ...
رمضان میں صحت مند رہنے کے گُر
- 10 مارچ ، 2026
صحت کے حوالے سے روزے کے بے شمار فوائد ہیں، جن میں سب سے بڑی نعمت ہیومن گروتھ ہارمونز میں اضافہ اور جین کی تبدیلی ہے جس سے...
سحری میں کھائے کون سے کھانے آپ کا روزہ مشکل بنا سکتے ہیں؟
- 09 مارچ ، 2026
اچھے روزے کی شروعات یقینی طور پر اچھی سحری سے ہوتی ہے۔
دودھ اور کھجور کا ایک ساتھ استعمال
- 07 مارچ ، 2026
دُودھ کے ساتھ کھجور کا استعمال ہمیں صحت مند اور قوی رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سحری میں توانائی بڑھانے والی کون سی غذائیں ہوتی ہیں؟
- 06 مارچ ، 2026
ماہ رمضان کے مقدس مہینے میں روزے داروں کو متوازن غذا کھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
رمضان میں ذیابیطس کے مریضوں کیلئے ضروری مشورے
- 06 مارچ ، 2026
ٹائپ وَن ذیابیطس کے شکار افراد کو عموماً روزہ نہ رکھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
روزے کے طبی پہلو اور صحت پر اُس کے پڑنے والے اثرات
- 05 مارچ ، 2026
روح روزہ و رمضان تو یہ ہے کہ انسان کھانوں سے دل کو ہٹائے اور روح اور جسم کی ساری توانائیاں عبادات پر صرف کرے۔
رمضان المبارک میں رکھیں اپنے معدے کا خیال
- 04 مارچ ، 2026
عموماً رمضان المبارک میں زیادہ تر افراد پیٹ کے عوارض سے متاثر ہوتے ہیں، جس کی ایک وجہ بسیار خوری ہے۔
کیا ذیابطیس کے مریض روزہ رکھ سکتے ہیں؟ اہم نکات اور غلط فہمیاں
- 03 مارچ ، 2026
ذیابطیس کے مریض ڈاکٹر کی رہنمائی میں بہت اچھی طرح اور خطرات سے بچتے ہوئے روزہ رکھتے ہیں۔
رمضان المبارک: نئی نسل کیلئے تعمیر شخصیت کا عملی نصاب
- 02 مارچ ، 2026
نوجوانوں کیلئے رمضان ایک ایسا سنہری موقع ہے، جس میں وہ اپنی جسمانی صحت متوازن، نفسیاتی قوّت مضبوط اور روحانیت بلند کر...
کیا ذیابیطس کے مریض افطار میں کھجور کھا سکتے ہیں؟
- 28 فروری ، 2026
ماہ رمضان کے دوران بیشتر افراد کھجور سے روزہ افطار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
رمضان المبارک اور ذیابطیس کے مریض
- 27 فروری ، 2026
کچھ امراض ایسے ہوتے ہیں جو پوری زندگی انسان کے ساتھ چلتے رہتے ہیں جن میں سے ذیابطیس بھی ایسا ہی مرض ہے۔
رمضان کے بعد بھی سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں
- 26 فروری ، 2026
روزے داروں میں ایسے افراد بھی شامل ہوتے ہیں جو تمباکونوشی کے عادی ہیں۔