رمضان المبارک کا آخری عشرہ

رمضان المبارک کا آخری عشرہ

مولانا محمد قاسم رفیع

رمضان المبارک کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا دوزخ سے آزادی کا عشرہ کہلاتا ہے۔ اس ماہ مبارک کا آغاز ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں، باتوفیق بندے اس میں سے اپنا حصہ پاتے ہیں۔ پھر درمیانی عشرہ میں اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا دریا جوش مارتا ہے اور کتنے ہی بندگانِ خدا اس میں غوطہ زن ہوجاتے ہیں۔ جب آخری عشرہ آتا ہے تو اب اللہ تعالیٰ کے سب سے بڑے عذاب اور اس کی ناراضی کے مظہر ’’جہنم کی آگ‘‘ سے آزادی کے پروانے جاری ہونا شروع ہوتے ہیں، یہاں بھی بہتوں کو یہ پروانے ملتے ہیں اور یوں ماہِ رمضان رحمتوں، مغفرتوں اور جہنم سے آزادی کے پروانوں کو تقسیم کرتاہم سے رخصت ہوجاتا ہے۔

رمضان کا آخری عشرہ خصوصی اہمیت و توجہ کا حامل ہے، خصوصاً ان لوگوں کے لئے جو پہلے دو عشرے اپنی غفلتوں کی نذر کرچکے اور اس ماہِ مبارک کو کماحقہ وصول نہ کرسکے۔ ان کے لئے اب آخری موقع ہے کہ اس آخری عشرہ کو اپنے لئے قیمتی بنالیں اور پورا رمضان ضائع کرکے اس بددعا کا مصداق نہ ٹھہریں: ’’ہلاک و برباد ہوجائے وہ شخص جو یہ مہینہ پائے اور اپنی بخشش کا سامان نہ کرسکے۔‘‘

علاوہ ازیں جن احباب نے رمضان کے پہلے دو عشروں کو عبادتوں اور ریاضتوں سے مزین رکھا، ان کے لئے یہ آخری عشرہ پورے رمضان کا خلاصہ، نتیجہ اور ثمرہ ہے۔ جیسے درخت سے قیمتی ‘ درخت کا پھل ہوتا ہے، ایسے ہی اعمال سے زیادہ قیمت اعمال کے ثمرہ کی ہوتی ہے۔ ارشاد نبوی ہے: ’’انّما العبرۃ بالخواتیم‘‘یعنی اصل اعتبار تو خاتمہ کا ہوتا ہے۔ سو جنہوں نے پہلے دو عشروں میں اعمال صالحہ کی عمارت تیار کی ہے، اب وقت آگیا ہے کہ آخری عشرہ میں اس عمارت کی تزئین و آرائش کرلی جائے۔ خدانخواستہ آخری عشرہ میں عید کی خریداری کے نام پر بازاروں میں مشغول ہوکر یہ وقت ضائع نہ ہوجائے۔

عشرہ اخیرہ کو قیمتی بنانے والے امتیازی اعمال دو ہیں:...اعتکاف اورشبِ قدر میں عبادت۔ اعتکاف کے بارے میں ارشاد الٰہی ہے: ترجمہ: ’’اور حکم کیا ہم نے ابراہیم ؑاور اسماعیل ؑ کو یہ کہ خوب پاک رکھو میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف بیٹھنے والوں کے لئے اور رکوع و سجدہ کرنے والوں کے لئے۔‘‘(سورۃ البقرۃ:۱۲۵)

مسجد اللہ کا گھر ہے اور سب سے افضل مسجد ’’مسجد الحرام‘‘ ہے، چنانچہ مسجد الحرام میں اعتکاف کرنا سب سے افضل ہے، اس کے بعد مسجد نبوی شریف میں اور تیسرے نمبر پر مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) میں۔ اس کے بعد تمام مساجد برابر ہیں، البتہ جس مسجد میں نماز پنجگانہ ہوتی ہو، وہاں اعتکاف کرنا افضل ہے۔ نیز جس مسجد میں اہل اللہ کے مواعظ و دروس ہوتے ہوںاور ان کے دم سے وہاں اصلاح و ارشاد کا سلسلہ قائم ہو تو اس مسجد میں اس نیت کے ساتھ کہ مجھے فائدہ پہنچے گا، اعتکاف کرنا بلاشبہ افضل و بہتر ہے۔ البتہ خواتین کے لئے اپنے گھر کے کسی مخصوص کمرے کے ایک گوشے میں معتکف ہونا اچھی بات ہے۔

اعتکاف نام ہے خانۂ خدا میں عبادت کی نیت کے ساتھ ٹھہرنے کا۔ یہاں اعتکاف کی شرعی تعریف بیان کرنا مقصود نہیں، اس کے لئے مسائل کی کتابیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ اعتکاف میں بندہ خود کو اللہ کے گھر میں لاکر ڈال دیتا ہے اور بزبان حال یوں گویا ہوتا ہے کہ: ’’یا اللہ! تیری رضا کے لئے دن بھر بھوکا پیاسا رہتا ہوں، تیرے حکم پر رکوع و سجود بجالاتا ہوں، تیرے ارشاد کے موافق زکوٰۃ و فطرانہ ادا کرتا ہوں، تیری کتاب قرآن کریم کی تلاوت کر کے تجھ سے ہم کلام ہوتا ہوں، تیرا ذکر کرکے اپنے دل کو تیرے لئے صاف کرتا ہوں، تیرے محبوب پیغمبر آنحضرت ﷺکی بارگاہ میں درود شریف کا ہدیہ پیش کرکے تیری رحمت کا سوالی بنتا ہوں، اب میں تیرے گھر میں آپڑا ہوں اور تیری رحمت و مغفرت، تیری رضا و رضوان، تیری جنت کا طالب ہوں، تیرے غیظ و غضب سے خائف، تیرے عذاب و ناراضی سے ڈرا ہوا اور تیری جہنم سے چھٹکارے کا طلبگار ہوں، اب تیرے گھر سے تجھے مناکر ہی اٹھوں گا۔ ‘‘

من نہ گویم کہ طاعتم بپذیر

قلم عفو برگناہ ہم کش

یعنی: خدایا! میں یہ نہیں کہتا کہ آپ میری عبادت قبول کرلیں، بلکہ میری تو یہ التجا ہے کہ میرے گناہوں کے دفتر پر معافی کا قلم کھینچ دیں۔

عشرہ اخیرہ میں دوسری اہم و امتیازی خصوصیت شبِ قدر ہے۔ قرآن کریم میں پوری ایک سورت ’’سورۃ القدر‘‘ اس کی شان میں اتاری گئی ہے۔ یہ شب ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ گویا پچھلی امتیں جو زیادہ عمر والی ہوتی تھیں اور اس بناء پر زیادہ عبادتیں کرنے کے مواقع پالیتی تھیں، اس امت کی کم عمری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تھوڑے عمل پر زیادہ اجر و ثواب کی بشارت دے دی ہے اور یوں ہمیں کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ اجر و ثواب سمیٹ لینے کے مواقع میسر ہیں۔ اس لئے اس رات کی بے قدری بالکل نہیں کرنی چاہئے ۔ یہ رات تو ہے ہی قدر والی، اس کی قدر کرکے ہم اپنی قدر بڑھاسکتے ہیں اور اس شب کی بے قدری خدانخواستہ میزانِ اعمال میں ہمارے اعمال کی بے قدری کا باعث ہوسکتی ہے۔

یوں تو رمضان کی پہلی رات ہی سے شبِ قدر کی تلاش شروع کردینی چاہئے، اگرچہ مختلف احادیث کی بناء پر شب قدر کا آخری عشرہ میں ہونا زیادہ متوقع ہے، لیکن شروع رمضان ہی سے ہر رات کی قدر اور اس میں حسبِ توفیق عبادت الٰہی میں مشغول رہنا، دراصل ہمیں شب قدر کی برکات کے حصول کے لئے مستعد و تیار رکھنے کا ذریعہ ہے، اس طرح ہماری ہر رات شبِ قدر بن سکتی ہے۔ جیسے ایک اللہ والے نے فرمایا:

اے دوست چہ پرسی کہ شب قدر کیستی

ہر شب، شبِ قدر است گر قدر بدانی

یعنی : میرے دوست! تم مجھ سے پوچھتے ہو کہ شبِ قدر کب ہوگی؟ اگر تم قدر دان بنو تو ہر رات شبِ قدر ہوسکتی ہے۔

فقیہ امت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو اس بات کے قائل ہیں کہ جو شخص تمام سال ہر رات میں جاگا کرے ،وہ شب قدر کو پاسکتا ہے، یعنی شب قدر سال میں کسی نہ کسی رات آسکتی ہے۔ آپؓ کے اس ارشاد سے مقصود یہ ہے کہ لوگ صرف ایک ہی رات پر تکیہ کرکے نہ بیٹھ جائیں ، بلکہ زندگی کی ہر رات کو قیمتی بنائیں، ورنہ ظاہر ہے کہ احادیث نبویہ شب قدر کے رمضان کے آخری عشرہ میں ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ اسی لئے رسول اللہﷺ شب قدر کی تلاش میں خود بھی ہمیشہ اعتکاف میں بیٹھے اور آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات امہات المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہن کا بھی تاحیات یہی معمول رہا۔

آنحضرت ﷺ نے امت کو شب قدر کی تلاش میں رمضان کے آخری عشرہ کے اعتکاف کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اس کا وقت غروب آفتاب سے شروع ہوکر صبح صادق تک رہتا ہے۔ اس شب میں عبادت کرنے والے سے فرشتے مصافحہ کرتے اور اسے سلام کہتے ہیں اور اس کی دعائوں پر آمین کہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ام المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے استفسار پر انہیں شب قدر کی یہ دعا تعلیم فرمائی ہے: ’’اَللّٰہُمَّ اَنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ‘‘ (یااللہ! آپ بہت معاف کرنے والے اور معاف کرنے کو پسند فرماتے ہیں، یااللہ! مجھے بھی معاف کردیجئے)۔

رمضان کے آخری عشرہ کا اختتام لیلۃ الجائزہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ انعام والی رات ہے۔ پورا مہینہ اہل ایمان روزے، تراویح، تلاوت، دعا اور دیگر عبادات کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ خوش ہوکر اس رات میں انہیں نوازتا ہے۔ حضرت ابو امامہ ، حضرت ابودرداء اور حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے مروی ہے کہ عیدین (عیدالفطر اور عیدالاضحی) کی راتوں میں عبادت کرنے والے کا دل اس دن مردہ نہیں ہوگا جس دن لوگوں کے دل مردہ ہوجائیں گے۔ اس کی تشریح میں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی نوراللہ مرقدہ لکھتے ہیں: ’’یعنی فتنہ و فساد کے وقت جب لوگوں کے قلوب پر مردنی چھا جاتی ہے، ان کا دل زندہ رہے گا اور ممکن ہے کہ صور پھونکے جانے کا دن مراد ہو کہ ان کی روح بے ہوش نہ ہوگی۔‘‘ (فضائل رمضان)

عیدین کی رات ان راتوں میں سے ہے جس میں مانگی جانے والی دعائیں رد نہیں ہوتیں۔ اس لئے ہمیں اس رات بازاروں میں گھومنے پھرنے اور فضولیات میں ضائع کرنے کی بجائے عبادت پر زور دینا چاہئے۔ عید کی خریداری رمضان سے پہلے کرلینا اچھی بات ہے ، تاکہ رمضان کی قیمتی راتیں اور عید کی اہم رات خریداری کے نام پر نہ گزر جائیں۔

اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ جہاں راتوں کو جاگ کر عبادت کرنے کی فضیلت مذکور ہے، وہاں اس سے مراد پوری رات جاگنا نہیں ہے، بلکہ طبیعت کی چستی اور نشاط کے ساتھ جس قدر جاگنا ممکن ہو، جاگ کر عبادت کرلی جائے۔ طبیعت پر بوجھ نہیں بنانا چاہئے۔ ایک حدیث میں تو عشاء کی نماز باجماعت اور فجر کی نماز باجماعت ادا کرنے پر پوری رات کی عبادت کا ثواب لکھا جانا بھی وارد ہوا ہے۔ لہٰذا نفل عبادت کے لئے رات بھر جاگ کر فرض سے غافل ہو جانا بڑے گھاٹے کا سودا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کے گزرتے دنوں اور آنے والی راتوں کی قدر دانی نصیب فرمائے۔( آمین)

Share This:

اسلامی مضامین

  • 13  اپریل ،  2024

مفتی محمد راشد ڈسکویآج کل ہر طرف مہنگائی کے از حد بڑھ جانے کے سبب ہر بندہ ہی پریشان نظر آتا ہے، کسی بھی مجلس میں شرکت کی...

  • 13  اپریل ،  2024

مولانا نعمان نعیمرسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے ایک بالشت برابر زمین بھی ظلماً لی ، قیامت کے دن اُسے سات زمینوں...

  • 12  اپریل ،  2024

حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن...

  • 11  اپریل ،  2024

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:یہ بیچارے غلام اور ملازم...

  • 10  اپریل ،  2024

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص لوگوں کے احسان کا شکریہ...

  • 10  اپریل ،  2024

ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم.حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے۔ انہوں نے فرمایا :دعا آسمان اور زمین کے...

  • 09  اپریل ،  2024

حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب شب قدر آتی ہے تو جبرئیل علیہ...

  • 09  اپریل ،  2024

ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلمحضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہٗ کا بیان ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے...

  • 09  اپریل ،  2024

ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلمحضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہٗ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ...

  • 08  اپریل ،  2024

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوریآپ کے مسائل اور اُن کا حلسوال: ہمارا گاڑیوں کی خریدوفروخت کا کاروبار ہے۔ ایک اور شخص ب نئی...

  • 08  اپریل ،  2024

ماہ شوال کے چھ روزے، جو شوال کی دُوسری تاریخ سے شروع ہوتے ہیں، مستحب ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:...

  • 08  اپریل ،  2024

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوری...

  • 08  اپریل ،  2024

ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلمجناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے، جو شخص عید کے دن تین سو مرتبہ سبحان...

  • 07  اپریل ،  2024

مفتی محمد مصطفیٰحضرت سہل بن سعدؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا :’’میری امت کے لوگ بھلائی پر رہیں گے، جب تک وہ روزہ...

  • 07  اپریل ،  2024

ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلمحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو...

  • 07  اپریل ،  2024

ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلمحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:...

  • 07  اپریل ،  2024

مولانا نعمان نعیم’’زکوٰۃ‘‘ اسلام کےبنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔ قرآن وسنت میں زکوٰۃ کی فرضیت اور فضیلت و...

  • 06  اپریل ،  2024

سید صفدر حسینامام موسیٰ کاظمؒ، حضرت امام جعفر صادقؒ کے صاحبزادے ہیں۔ آپ کی والدہ ماجدہ حمیدہ بربریہ اندلسیہ تھیں۔ آپ...

  • 06  اپریل ،  2024

مولانا اطہرحسینیو ں تو اس کارخانۂ عالم کی سب ہی چیزیں قدرت کی کرشمہ سازیوں اور گلکاریوں کے ناطق مجسمے، اسرارورموز کے...

  • 06  اپریل ،  2024

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکیہ کا سہارا لگائے بیٹھے...