صبر اور عفو و درگزر

صبر اور عفو و درگزر

ڈاکٹر سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’جنہوں نے اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیا تو ان پر کوئی الزام نہیں۔ الزام تو ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم اور زمین میں بغیر کسی حق کے سرکشی کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ہے اور جس نے صبر کیا اور معاف کردیا تو بے شک، ایسا کرنا بلند ہمت کاموں میں سے ہے‘‘(سورۂ شوریٰ،:۴۱ تا ۴۳)

چنانچہ جب آپ پر کوئی اذیت کسی کی طرف سے آئے تو آپ کے لیے دو راستے ہیں، ایک یہ کہ آپ اس آدمی سے انصاف کے مطابق بدلہ لے لیں اور دوسرا راستہ یہ ہے کہ آپ اسے معاف کردیں اور اس کی اذیت پر صبر کریں۔ قرآن مجید کے نزدیک یہی دوسرا راستہ بہتر اور پسندیدہ ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صبر سے مراد یہ ہے کہ آپ دوسروں کی ان خطاؤں سے درگزر کریں، جو آپ کے لیے باعث اذیت و نقصان ہیں۔ اگر آپ نے صبر کیا تو معاف کرنا ہوگا۔ ورنہ آپ کاصبر بے معنی ہو کررہ جائے گا۔

قرآن مجید کے نزدیک عفو و درگزر تقویٰ اور للہیت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اس لیے کہ تقویٰ انسان کے خدا سے ایک تعلق کا نام ہے اور یہ تعلق اگر صحیح بنیادوں پر استوار ہو تو آدمی میں ایسی بصیرت پیدا کردیتا ہے کہ اس کے اندر ایک ہمت ، شفقت اور دانائی پیدا ہو جاتی ہے، جو اس کے اندر معاف کردینے کا حوصلہ پیداکردیتی ہے۔ سورہ شوریٰ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’’اور جو بڑی بڑی حق تلفیوں اور کھلی ہوئی بے حیائی سے بچتے ہیں اور وہ جب غصہ میں آتے ہیں تو معاف کر دیتے ہیں‘‘یعنی یہ لوگ ایسے ہیں کہ بڑے جرائم سے بچتے ہیں، یعنی ان کا تقویٰ ان کو بڑی بڑی حق تلفیوں اور کھلی ہوئی بے حیائی سے روکتا ہےاور اسی طرح ان کا یہ تقویٰ غصے کے وقت ان کے ہاتھ اور زبان کو روکے رکھتا ہے۔

سرکار دوعالمﷺ نے فرمایا: بے شک، اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا ہے درگزر کرنےکو پسند کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:' درگزرکرنے کو لازم پکڑو اور نیکی کا حکم دواور جاہلوں سے اعراض کرو۔(سورۃالاعراف)جب کہ سورۂ آل عمران میں فرمایا گیا:' اہل ایمان غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے اچھے اخلاق والوں کو دوست رکھتا ہے۔ مزید فرمایا: اور تمہارا معاف کردینا تقویٰ سے بہت نزدیک ہے۔ (سورۃ البقرہ)

ایک مقام پرفرمایا گیا (ترجمہ)اگر تم کسی نیکی کو علانیہ کرو یا پوشیدہ یا کسی برائی سے درگزر کرو ،پس یقیناً اللہ تعالیٰ مکمل معاف کرنے والا اور مکمل قدرت رکھنے والا ہے۔(سورۃ النساء) معاف کرنا اور درگزر کرنا چاہیے ،کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے قصور معاف فرما دے، اللہ معاف فرمانے والا مہربان ہے۔

رسول اکرم ﷺنے لوگوں سے درگزر کرنے ، غصے کی حالت میں اپنے آپ پر کنٹرول رکھنے اور غصہ پی جانےکا حکم دیا ہے، کیونکہ ایسا کام جہاد بالنفس اور اعلیٰ عبادت میں داخل ہے۔ چنانچہ آپﷺ نے فرمایا: کسی کو پچھاڑنے والے طاقت ور نہیں، بلکہ طاقت ور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر کنٹرول رکھے۔ دوسری حدیث میں فرمایا: سب سے زیادہ اجر والا گھونٹ اللہ تعالیٰ کے ہاں غصے کا گھونٹ ہے جسے بندہ اللہ کی رضا چاہتے ہوئے پی جاتا ہے۔

سنن ابوداؤد میں حدیث ہے:' جو شخص غصے کو طاقت رکھنے کے باوجود روک لیتا اور پی لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن لوگوں کے سامنے بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ جس حور کو وہ چاہے پسند کرلے۔ 'آپﷺ کا فرمان ہے کہ: اللہ تعالیٰ صدقہ کے ذریعے مال میں کمی نہیں کرتا، درگزر کرنے کی وجہ سے بندے کی عزت میں ہی اضافہ فرماتا ہے اور جو کوئی اللہ کے لیے فروتنی (تواضع وانکساری) اختیار کرے گا ،اللہ تعالیٰ اسے بلندی عطا فرمائے گا۔

درگزر کرنا اور معاف کرنا درحقیقت بندگی کا شیوہ ہے،جب کہ لوگوں پر ظلم کرنا ،ناانصافی کرنا ایسے کام ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔ لہٰذا صبر کرنا اور عفوودرگزر کا راستہ اپنانا باعث اجر و ثواب عمل اور اللہ کی رضا کا سبب ہے۔

Share This:

اسلامی مضامین

  • 13  اپریل ،  2024

مفتی محمد راشد ڈسکویآج کل ہر طرف مہنگائی کے از حد بڑھ جانے کے سبب ہر بندہ ہی پریشان نظر آتا ہے، کسی بھی مجلس میں شرکت کی...

  • 13  اپریل ،  2024

مولانا نعمان نعیمرسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے ایک بالشت برابر زمین بھی ظلماً لی ، قیامت کے دن اُسے سات زمینوں...

  • 12  اپریل ،  2024

حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن...

  • 11  اپریل ،  2024

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:یہ بیچارے غلام اور ملازم...

  • 10  اپریل ،  2024

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص لوگوں کے احسان کا شکریہ...

  • 10  اپریل ،  2024

ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم.حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے۔ انہوں نے فرمایا :دعا آسمان اور زمین کے...

  • 09  اپریل ،  2024

حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب شب قدر آتی ہے تو جبرئیل علیہ...

  • 09  اپریل ،  2024

ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلمحضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہٗ کا بیان ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے...

  • 09  اپریل ،  2024

ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلمحضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہٗ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ...

  • 08  اپریل ،  2024

مولانا سیّد سلیمان یوسف بنوریآپ کے مسائل اور اُن کا حلسوال: ہمارا گاڑیوں کی خریدوفروخت کا کاروبار ہے۔ ایک اور شخص ب نئی...

  • 08  اپریل ،  2024

ماہ شوال کے چھ روزے، جو شوال کی دُوسری تاریخ سے شروع ہوتے ہیں، مستحب ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:...

  • 08  اپریل ،  2024

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوری...

  • 08  اپریل ،  2024

ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلمجناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے، جو شخص عید کے دن تین سو مرتبہ سبحان...

  • 07  اپریل ،  2024

مفتی محمد مصطفیٰحضرت سہل بن سعدؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا :’’میری امت کے لوگ بھلائی پر رہیں گے، جب تک وہ روزہ...

  • 07  اپریل ،  2024

ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلمحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو...

  • 07  اپریل ،  2024

ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلمحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:...

  • 07  اپریل ،  2024

مولانا نعمان نعیم’’زکوٰۃ‘‘ اسلام کےبنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔ قرآن وسنت میں زکوٰۃ کی فرضیت اور فضیلت و...

  • 06  اپریل ،  2024

سید صفدر حسینامام موسیٰ کاظمؒ، حضرت امام جعفر صادقؒ کے صاحبزادے ہیں۔ آپ کی والدہ ماجدہ حمیدہ بربریہ اندلسیہ تھیں۔ آپ...

  • 06  اپریل ،  2024

مولانا اطہرحسینیو ں تو اس کارخانۂ عالم کی سب ہی چیزیں قدرت کی کرشمہ سازیوں اور گلکاریوں کے ناطق مجسمے، اسرارورموز کے...

  • 06  اپریل ،  2024

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکیہ کا سہارا لگائے بیٹھے...