A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: count(): Parameter must be an array or an object that implements Countable

Filename: core/Front_Controller.php

Line Number: 144

Backtrace:

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/private_html/application_ramazan/core/Front_Controller.php
Line: 144
Function: _error_handler

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/private_html/application_ramazan/modules/frontend/controllers/Home.php
Line: 9
Function: __construct

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/public_html/index.php
Line: 333
Function: require_once

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: count(): Parameter must be an array or an object that implements Countable

Filename: controllers/Home.php

Line Number: 58

Backtrace:

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/private_html/application_ramazan/modules/frontend/controllers/Home.php
Line: 58
Function: _error_handler

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/public_html/index.php
Line: 333
Function: require_once

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: count(): Parameter must be an array or an object that implements Countable

Filename: libraries/Database_lib.php

Line Number: 1215

Backtrace:

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/private_html/application_ramazan/libraries/Database_lib.php
Line: 1215
Function: _error_handler

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/private_html/application_ramazan/helpers/custom_helper.php
Line: 2402
Function: post_author_data

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/private_html/application_ramazan/helpers/custom_helper.php
Line: 2455
Function: get_post_authors

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/private_html/application_ramazan/modules/frontend/controllers/Home.php
Line: 126
Function: get_post_authors_list_pic

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/public_html/index.php
Line: 333
Function: require_once

انبیائے کرامؑ اورصحابۂ کرامؓ کے کردارو کارناموں پر مبنی فلمیں اور ڈرامے - Geo Ramadan - Islamic Q&A
وَبِصَوْمِ غَدٍ نَّوَيْتُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ.
I Intend to keep the fast for month of Ramadan

انبیائے کرامؑ اورصحابۂ کرامؓ کے کردارو کارناموں پر مبنی فلمیں اور ڈرامے

Islamic Q&A

مفتی منیب الرحمٰن 

سوال:چند دنوں سے ہمارے علاقے میں کیبلز کے ذریعے کچھ فلمیں چلائی جارہی ہیں ، جن میں مختلف اشخاص کی صورت میں مُقدّس ہستیوں انبیائے کرام علیہم السلام وصحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا کردار فرضی طور پر اداکیاجارہاہے اور اِن اشخاص کو ان مُقدّس ہستیوں کے نام سے موسوم کیا جارہا ہے ،جیسے قصۂ یوسف علیہ السلام میں ایک نوجوان کو حضرت یوسف اور ایک بوڑھے شخص کو حضرت یعقوب اور دیگر لوگوں کو برادرانِ یوسف کا کردار کرتے ہوئے دکھایا گیاہے ۔اسلامی جنگی واقعات میں کچھ اشخاص کو مختلف صحابۂ کرام ؓکے نام سے پکاراگیاہے ۔ازروئے شرع کیایہ درست ہے ؟اِن مُقدس ہستیوں کے کردار کو اداکرنے کے لئے فرضی طور پر کسی شخص کو اُس نام سے پکارنا توہین کے زمرے میں آتاہے ،ایسی فلمیں بنانے اور دیکھنے کا کیاحکم ہے ؟، (غلام نبی سکندری ،اوستہ محمد ،بلوچستان)

جواب:انبیائے کرام علیہم السلام اور اُمَمِ سابقہ کے اَحوال ،تعلیمِ اُمّت اور درسِ عبرت کے لیے بیان کرنا مستحسن بھی ہے اور شریعت کا مطلوب بھی ۔ قرآن مجید نے اُمَمِ سابقہ کی بداعمالیوں کے نتیجے میں اُن پر عذابِ الٰہی نازل ہونے اور اُن کے صفحۂ ہستی سے مٹائے جانے کو’’ آیتِ الٰہی‘‘ سے تعبیر کیا ہے، تا کہ ہر دور کے لوگ اُن کے عروج وزوال کے اسباب کامطالعہ کرکے عبرت اورسبق حاصل کریں،اسباب ِ زوال سے اجتناب کریں اور اسباب ِ عروج کو اختیار کریں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:ترجمہ:’’ اور اللہ تعالیٰ کی (قدرت کی )کتنی ہی نشانیاں ہیں ،جن (کے پاس) سے یہ منہ موڑ کر گزر جاتے ہیں (یعنی اُن کے آثار کو دیکھ کر سبق حاصل نہیں کرتے )، (سورۂ یوسف:105)‘‘۔اِسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ترجمہ:’’ کتنے ہی باغات اور چشمے اور (ہری بھری )کھیتیاں اور عِزُّوشرف کے مقامات(خوش رنگ عمارتیں) اورنعمتیں ہیں ،جن میں وہ محوِ عیش تھے ، (اپنے پیچھے) چھوڑ گئے ، اِسی طرح ہوا اورہم نے ان سب چیزوں کا دوسروں کووارث بنادیا، توپھراُن پر نہ آسمان رویا اورنہ زمین اورنہ ہی کوئی اُن کی راہ دیکھنے والارہا،(سورۃ الدخان:25تا29)‘‘۔ لیکن انبیائے کرام ورُسُلِ عُظام علیہم السلام کی سوانح کو تمثیلی انداز میںیعنی Movie بناکرپیش کرنا کئی وجوہ سے خلافِ ادب بھی ہے اور حرام بھی ہے ۔ ان موویز میں ایسے اداکاروں کو میک اَپ کرکے انبیائےکرام ؑکے نام پر پیش کیاجاتاہے ،جو غیرمسلم ہوتے ہیں اور اگر مسلمان بھی ہوں تو فاسق وفاجر ہوتے ہیں۔

پھر ان موویز کو افسانوی رنگ دینے اورپُر کشش بنانے کے لیے ان میں کئی اضافات کئے جاتے ہیں اور انبیائے کرام علیہم السلام کی طرف کسی ایسی بات کی نسبت کرنا جو اُنہوں نے کہی نہ ہو ، حرام ہے۔اور جب تک اس میں اضافات شامل نہ کئے جائیں ،کہانی میں افسانوی رنگ نہیں آتا، اس لئے ناظرین کو ٹیلی ویژن اسکرین کے ساتھ جوڑے رکھنے کے لئے کہانی کو مصنوعی طریقے سے مربوط کیاجاتاہے ،جبکہ قرآن کا انداز بیان مختلف ہے ،قرآن مجید میں کسی بھی نبی یا رسول کی سوانح ترتیب کے ساتھ نہیں بیان کی گئی بلکہ جہاں اُس سے جس قدر ہدایت اور عبرت مقصود ہوتی ہے ،اسے بیان کردیاجاتاہے ۔انبیائے کرام علیہم السلام کی حُرمت ہرمسلمان کے دل پر نقش ہوتی ہے اور ان موویز یا ڈراموں کی وجہ سے ابتذال (Vulgarity,Indecorum) کی صورت بن جاتی ہے ۔

اس لیے اس طرح کی موویز کو نہ دکھایا جائے ،جہاں اسے روکا جاسکتاہو، روکا جائے اور دیکھنے سے اجتناب کیاجائے کیونکہ لہو ولعب کا نظارہ کرنا بھی اُس کی حوصلہ افزائی ہے ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :(1)ترجمہ:’’ ان لوگوں کو چھوڑ دو ،جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشابنارکھا ہے اوردنیا کی زندگی نے انہیں فریب میں مبتلا کررکھا ہے ،(سورۃ الانعام:70)‘‘،یہی مضمون سورۂ اعراف :51میں بھی ہے۔(2)ترجمہ:’’ اورکچھ لوگ ایسے ہیں جو بیہودہ باتوں کو اختیار کرتے ہیں تاکہ ( جہالت کے سبب)لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے گمراہ کردیں ،(سورۃلقمان:6 ) ‘‘ ۔

مزید مضمون :