وَبِصَوْمِ غَدٍ نَّوَيْتُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ.
I Intend to keep the fast for month of Ramadan

حضرت ہُود علیہ السلام

Articles

محمود میاں نجمی

بحرِعرب اور بحرِ احمر کے درمیان، عرب کے جنوب و شمال میں دونوں جانب یعنی عمان، حضرِ موت، بحرین اور مغربی یمن تک ایک وسیع صحرا ہے، جسے’’ صحرائے الاحقاف‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ نیز، اسے ’’صحرائے اعظم الدّنیا‘‘ اور’’ الربیع الخالی‘‘ بھی کہتے ہیں۔ الاحقاف، حقف کی جمع ہے، جس کے لغوی معنی’’ ریت کے بلند و بالا اور وسیع و عریض ٹیلے‘‘ کے ہیں۔ اس لق و دق، بیابان صحرا میں سفر کرنا تو دُور کی بات، اس کے اندر قدم رکھنے کا بھی تصوّر نہیں کیا جاسکتا کہ موت کی اس وحشت ناک وادی کی جانب رُخ کرنا، خودکُشی کے مترادف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی بدّوؤں سے لے کر مہم جُو سیّاحوں تک، کوئی اس صحرا کے قریب جانا پسند نہیں کرتا۔ سفید اور باریک ریت کے ہزاروں فِٹ اونچے پہاڑوں میں اگر کوئی شئے پھینکی جائے، تو وہ لمحوں میں غرق ہو جاتی ہے اور ریت کی سطح پر جنبش تک نہیں ہوتی۔ یہ صحرا اللہ بزرگ و برتر کی کُھلی نشانیوں میں سے ہے اور اہلِ دنیا کے لیے جائے عبرت بھی۔ الاحقاف نامی اس بھیانک وادی کو دیکھ کر یہ گمان بھی نہیں کیا جا سکتا کہ یہ کسی زمانے میں دنیا کا سب سے زیادہ سرسبز و شاداب علاقہ تھا، جہاں بے شمار پھلوں اور پھولوں کے وسیع باغات، ٹھنڈے پانی کے چشمے، آب شاریں اور بلند و بالا عمارتیں تھیں، جس میں دنیا کی سب سے زیادہ طاقت وَر، مال دار اور شان دار تمدّن رکھنے والی قوم’’ قومِ عاد‘‘ آباد تھی۔ یہ دنیا کے سب سے زیادہ قد آور اور زور آور انسان تھے۔ اتنے طاقت وَر لوگ اللہ نے پھر پیدا نہیں کیے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا’’ان جیسی (کوئی قوم)اور مُلکوں میں پیدا نہیں کی گئی۔‘‘ (الفجر8:) حضرِموت اور نجران کے درمیانی علاقے، الاحقاف میں’’ قومِ عاد‘‘ کے( جسے قومِ ارم‘‘ بھی کہا جاتا ہے) 13قبائل آباد تھے۔ قومِ عاد کے الاحقاف میں رہنے سے متعلق قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’ہودؑ کو یاد کرو، جب کہ اس نے اپنی قوم کو احقاف میں ڈرایا۔‘‘ (الاحقاف21:) علّامہ جلال الدّین سیوطیؒ اپنی تفسیر ’’درمنشور‘‘ میں تحریر کرتے ہیں کہ’’ قومِ عاد نہایت زور آور اور بہادر قوم تھی۔‘‘ یہ بُت پرست تھے۔ ان کے دو بُتوں کے نام حمود اور ہب بیان کیے گئے ہیں۔ ابنِ کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں تیسرے بُت کا نام،’’ صمد‘‘ بیان کیا ہے۔

نبوّت کے منصب پر

طوفانِ نوحؑ کے بعد قومِ عاد ہی وہ قوم تھی، جو سب سے پہلے کفر و شرک میں مبتلا ہوکر بُتوں کی پجاری بنی۔ اُنہیں اپنے پتھروں کے خدائوں پر بڑا گھمنڈ تھا۔ اُن کی معاشی حالت تو بہت عُمدہ تھی، لیکن جہالت، گم راہی، جھوٹ، بے حیائی، باطل اقوال اور فاسد خیالات نے اُنہیں معاشرتی طور پر تباہی کے کنارے پر پہنچا دیا تھا، چناں چہ کفر و شرک کے سمندر میں غرق، قومِ عاد کی بداعمالیاں جب اپنی آخری حدود پار کرگئیں، تو اللہ تعالیٰ نے اُن ہی میں سے اپنے ایک نیک بندے، حضرت ہودؑ کو پیغمبر بنا کر مبعوث فرمایا۔ چناں چہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے’’اور ہم نے قومِ عاد کی طرف اُن کے بھائی ہودؑ کو بھیجا۔ اُنہوں نے کہا’’ بھائیو! اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں؟‘‘، تو اُن کی قوم کے سردار جو کافر تھے، کہنے لگے ’’ تم ہمیں کم عقل نظر آتے ہو اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔‘‘ اُنہوں نے کہا’’ میری قوم! مجھ میں حماقت کی کوئی بات نہیں ہے، بلکہ مَیں ربّ العالمین کا پیغمبر ہوں۔ مَیں تمہیں اللہ کا پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہارا امانت دار، خیرخواہ ہوں۔ کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں ڈرائے۔ اور یاد تو کرو، جب اُس نے تم کو قومِ نوحؑ کے بعد سردار بنایا اور ڈیل ڈول میں تم کو پھیلائو زیادہ دیا۔ پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ نجات حاصل کرو۔‘‘ وہ کہنے لگے،’’ کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کریں اور جن کو ہمارے باپ، دادا پوجتے چلے آئے ہیں، اُن کو چھوڑ دیں؟ پس اگر تم سچّے ہو، تو ہم کو جس عذاب کی دھمکی دیتے ہو، اس کو ہمارے پاس لے آئو۔‘‘ ہودؑ نے کہا’’ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب (کا نازل ہونا) مقرّر ہوچُکا ہے۔ کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو، جو تم نے اور تمہارے باپ، دادا نے (اپنی طرف سے) رکھ لیے ہیں، جن کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی، تو تم بھی انتظار کرو، مَیں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔‘‘ پھر ہم نے ہودؑ کو اور جو لوگ اُن کے ساتھ تھے، اُن کو نجات بخشی اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا، اُن کی جڑ کاٹ دی اور وہ ایمان لانے والے تھے ہی نہیں۔‘‘ (الاعراف65-72)

قومِ عاد کے دو اہم قبائل

حضرت ہودؑ ایک طویل عرصے تک اپنی قوم کو وعظ و نصیحت کرتے رہے۔ کبھی وہ اُنہیں اللہ کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کی یاد دِلاتے، تو کبھی عذابِ الٰہی سے ڈراتے، لیکن وہ بہرے اور اندھے بنے رہے۔ تاریخی کُتب میں ہے کہ حضرت ہودؑ مسلسل پچاس برس یا اس سے بھی زیادہ درس و نصیحت میں مصروف رہے۔ قومِ عاد کے تیرہ قبائل میں سے’’ لقمان‘‘ اور’’ خلجان‘‘ نامی قبائل نہایت طاقت وَر تھے اور اُنھیں حکم ران کی حیثیت حاصل تھی۔ حضرت ہودؑ نے جب دعوتِ حق دی اور کفر و شرک چھوڑ کر ایک اللہ کی بندگی کی طرف بلایا، تو لقمان قبیلے نے سخت مزاحمت کی اور حضرت ہودؑ کے دشمن ہوگئے۔ اس کے برعکس، دوسرے قبیلے، خلجان نے حضرت ہودؑ کی باتوں پر غور و خوض کیا اور اُن میں سے اکثر جلد ہی آپؑ کی دعوت کو قبول کرکے ایمان لے آئے۔

حضرت ہودؑ کی دُعا

حضرت ہودؑ نے اپنی قوم کو راہِ حق پر گام زَن کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر قوم نے اُن کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا، تو بالآخر اُنھوں نے بارگاہِ الٰہی میں مدد کے لیے دستِ دُعا دراز کیے، جسے قرآنِ کریم نے یوں بیان کیا ’’نبیؑ نے دُعا کی کہ’’ اے پروردگار! اُنہوں نے مجھے جھوٹا کہا ہے، پر تُو میری مدد فرما۔‘‘ (المومنون39:) اللہ نے اپنے نبیؑ کی فریاد کے جواب میں فرمایا’’ (اے نبیؑ) یہ بہت جلد اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے۔‘‘ (المومنون40:)

عذابِ الٰہی کی ابتدا

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؑ کی دُعا قبول فرمائی اور قومِ عاد پر عذاب کی ابتدا ہوگئی۔ بادلوں کے فرشتے کو حکم دیا کہ اب بارش نہ برسائی جائے۔ چشموں کے فرشتے کو حکم دیا کہ ان کے ٹھنڈے، میٹھے اور شفّاف پانی سے لب ریز چشموں اور آب شاروں کو خشک کردو، چناں چہ دیکھتے ہی دیکھتے اُن کے سرسبز و شاداب کھیت و کھلیان سُوکھنے لگے اور مویشی مرنے لگے، یہاں تک کہ لوگ پینے کے پانی تک کو تَرسنے لگے۔ کثیر تعداد میں پیدا ہونے والے پھل اور اناج ناپید ہوگئے۔ پوری قوم خشک سالی کا شکار ہوکر بدحال اور پریشان ہوگئی۔ یہ سلسلہ مسلسل تین سال تک جاری رہا۔ حضرت ہودؑ سے اپنی قوم کی یہ پریشانی دیکھی نہ جاتی تھی۔ آپؑ بہت افسردہ اور پریشان رہتے اور پھر ایک دن اُنہوں نے اپنی قوم سے فرمایا ’’اے میری قوم کے لوگو! تم اپنے پالنے والے سے بخشش مانگو۔ اُس کے آگے توبہ و استغفار کرو، وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار مینہ برسائے گا اور تمہاری طاقت و قوّت میں اضافہ فرمائے گا اور (دیکھو)، گنہگار بن کر رُوگردانی نہ کرو۔‘‘ (ہود52:) قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں توبہ و استغفار کے بڑے فوائد بیان فرمائے گئے ہیں۔ ابنِ ماجہ اور ابو دائود میں حدیثِ مبارکہ ہے کہ’’ جو پابندی سے استغفار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اُس کے لیے ہر فکر سے کشادگی اور ہر تنگی سے راستہ بنا دیتا ہے اور اُسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے، جو اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی۔‘‘ بہرحال، حضرت ہودؑ کے لاکھ سمجھانے کے باوجود، اُس قوم پر کوئی اثر نہ ہو،ا بلکہ نہایت ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ہم محض تیرے کہنے پر اپنے آبائو اجداد کے اور اپنے ان معبودوں کو کیوں چھوڑ دیں؟ قرآنِ کریم نے اسے یوں بیان کیا ہے’’ اے ہودؑ! تم ہمارے پاس کوئی دلیل تو لائے نہیں اور ہم (صرف) تمہارے کہنے سے نہ اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں اور نہ تم پر ایمان لانے والے ، بلکہ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب زدہ(دیوانہ) کردیا ہے۔‘‘ (ہود53-53-)

قومِ عاد کے سردار حجازِ مقدّس میں

عذابِ الٰہی کے ابتدائی مراحل ہی میں خشک سالی نے قومِ عاد کی حالت ابتر کردی، چناں چہ اُن کے سرداروں اور دانش وَروں نے اس سے نجات پانے کے لیے مختلف تدابیر پر غور و خوض شروع کردیا۔ یہ بات بڑی حیران کُن ہے کہ پچھلی قوموں کو جب کبھی کوئی مشکل آگھیرتی، تو وہ اُس سے نجات کے لیے حجازِ مقدّس کا سفر کرتے اور بیت اللہ شریف میں جاکر اللہ کے آگے آہ و زاری کرتے۔ یعنی کافر قومیں بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتی تھیں کہ اس ارض و سما میں ایک لافانی قوّت موجود ہے، لیکن اس کے باوجود جب نبیؑ اور رسولؑ یہ بات کہتے، تو اُن کی عقل پر پردہ پڑ جاتا۔ قومِ عاد کے سرداروں نے بھی یہی فیصلہ کیا کہ قوم کے سرکردہ افراد بیت اللہ شریف جاکر اَن دیکھے خدا کے سامنے فریاد کریں۔ چناں چہ، مختلف قبائل کے سرداروں اور دیگر اہم افراد پر مشتمل 70؍افراد کا ایک وفد حجازِ مقدّس روانہ ہوا۔ اُس زمانے میں مکّہ مکّرمہ پر’’ قومِ عمالیق‘‘ کی حکم رانی تھی، جس کا سردار، معاویہ بن بکر تھا اور معاویہ کی والدہ، قومِ عاد سے تعلق رکھتی تھی۔ویسے بھی معاویہ بن بکر، قومِ عاد کی شان و شوکت سے بڑا مرعوب تھا، چناں چہ اُس نے وفد کی بڑی خاطر مدارات کی اور اُسے بڑے عزّت و احترام سے اپنے یہاں ٹھہرایا۔ طبری کی روایت ہے کہ اس وفد میں دو افراد، مرشد بن سعد اور لقمان بن لقیم، صاحبِ ایمان اور حضرت ہودؑ کے پیروکار تھے۔ غالباً اُن کا تعلق قبیلہ خلجان سے ہوگا۔ ان دونوں کے علاوہ باقی سب کافر اور بُت پرست تھے۔ معاویہ نے اُن کے اعزاز میں رقص و سرود کی محافل کا اہتمام کیا اور تقریباً ایک ماہ تک یہ لوگ اپنے آنے کا مقصد فراموش کرکے عیش و عشرت اور شراب و شباب کی محافل میں مدہوش رہے۔ جب اُن کا قیام طویل ہوگیا، تو معاویہ بن بکر کو اُن کے واپس جانے کی فکر لاحق ہوئی۔ کافی سوچ بچار کے بعد اُس نے ناچنے گانے والیوں کے ذریعے چند اشعار کی صورت میں اُنہیں اُن کے آنے کے مقصد کی یاد دہانی کروائی، جس پر وفد کو ہوش آیا۔ تاریخی کُتب میں درج ہے کہ اُس موقعے پر وفد میں شامل مرشد اور لقمان نے ایک بار پھر اُنہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ جو کچھ حضرت ہودؑ کہتے ہیں، اُس پر ایمان لے آئو، لیکن وہ نہ مانے۔

تیز آندھی کا عذاب

وفد بیت اللہ شریف گیا اور بارش کی دُعائیں مانگنی شروع کردیں۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان پر تین رنگوں کے بادل بھیج دیئے، جن میں ایک سفید تھا، دوسرا سیاہ اور تیسرا سُرخ۔ اس کے ساتھ ہی آسمانوں سے ندائے غیب آئی’’اپنے اور اپنی قوم کے لیے اِن تینوں میں سے کسی ایک کو پسند کرلو۔‘‘ چناں چہ وفد نے سوچ بچار کے بعد سیاہ بادل کو اپنے لیے پسند کرلیا، جس کے ساتھ ہی سُرخ اور سفید ٹکڑے آسمان سے غائب ہوگئے اور ابرِ سیاہ آہستہ آہستہ آسمان پر چھانے لگا۔ وہ لوگ اپنی دُعا کی قبولیت پر بڑے خوش تھے اور سمجھتے تھے کہ اب خشک سالی ختم ہوجائے گی۔ چناں چہ، پوری قوم نے خوشیاں منانی شروع کردیں، لیکن حضرت ہودؑ سمجھ گئے تھے کہ یہ عذابِ الٰہی ہے، لہٰذا اُنہوں نے ایک بار پھر اپنی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا’’ اے میری قوم! یہ اللہ کا عذاب ہے، جو تم پر نازل ہوا چاہتا ہے۔‘‘ پھر اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کا فرمان اُنہیں سُنایا’’(نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وہ (عذاب) ہے، جس کی تم جلدی کررہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے، جس میں درد ناک عذاب چلا آرہا ہے، جو اپنے ربّ کے حکم سے ہر چیز تباہ کر ڈالے گا۔‘‘ (الاحقاف24:)حدیث شریف میں آتا ہے کہ امّاں عائشہ صدیقہؓ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا’’ یارسول اللہﷺ! لوگ تو بادل دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ اب بارش ہوگی، لیکن آپﷺ کے چہرے پر اس کے برعکس تشویش کے آثار نظر آتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا، عائشہؓ! اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اس بادل میں عذاب نہیں ہوگا، جب کہ ایک قوم ہوا کے عذاب سے ہلاک کردی گئی۔ اُس قوم نے بھی بادل دیکھ کر کہا تھا کہ’’ یہ بادل ہے، جو ہم پر بارش برسائے گا۔‘‘ (بخاری) حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب تیز ہوا چلتی، تو نبی کریمﷺ یہ دُعا مانگتے’’ اے اللہ! مَیں تجھ سے اِس کی خیر کا طالب ہوں اور جو اِس میں ہے، اُس کی خیر کا اور جو تُو نے اِس میں شر رکھا ہے، تو اس سے اور اس کے شر سے مَیں آپ کی پناہ مانگتا ہوں۔‘‘(صحیح مسلم) حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ’’ جب آسمان پر بادل چھا جاتے، تو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ متغیّر ہو جاتا۔ آپﷺ پر خوف کی سی کیفیت طاری ہوجاتی، جس سے آپﷺ بے چین ہوجاتے۔ کبھی باہر نکلتے، کبھی اندر داخل ہوتے، کبھی آگے ہوتے اور کبھی پیچھے۔ پھر جب بارش برستی، تو پھر خوشی طاری ہوجاتی تھی۔‘‘ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ یہ کیفیت دیکھ کر مَیں نے خدمتِ اقدس میں سوال کیا، تو آپﷺ نے فرمایا ’’اے عائشہؓ! کہیں ایسا نہ ہوجائے، جو قومِ عاد نے کہا تھا۔ پھر اِس آیت کی تلاوت فرمائی’’جب (قومِ عاد نے) اس (عذاب) کو (بصورت بادل) اپنی بستیوں کی طرف آتے دیکھا، تو کہنے لگے’’ یہ تو بادل ہے، ہم پر بارش کرنے والا۔‘‘ (ترمذی، ابنِ ماجہ) قرآنِ کریم میں ہے کہ ’’اللہ نے تیز آندھی کا یہ عذاب سات راتوں اور آٹھ دنوں تک مسلسل جاری رکھا۔‘‘ (الحاقہ7:) آندھی نے کسی ایک کو بھی باقی نہ چھوڑا، یہ ہر ایک کے پاس پہنچ گئی۔ غاروں کے اندر، پہاڑوں کی گھاٹیوں اور چوٹیوں، گھروں، محلّات اور قلعوں کے اندر سب کو فنا کر ڈالا۔ ابنِ عُمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ وہ آندھی، جس کے ذریعے قومِ عاد ہلاک کی گئی، اللہ نے اُن پر انگوٹھی جتنی جگہ کے مثل ہوا کھولی تھی۔ پس وہ ہوا پہلے دیہات میں گئی اور وہاں کے لوگوں اور مویشیوں اور مالوں کو اٹھایا اور آسمان و زمین کے درمیان لے گئی۔‘‘ (مسلم) اللہ تعالیٰ نے اس خوف ناک آندھی سے حضرت ہودؑ اور اُن کے ساتھیوں کو محفوظ رکھا اور اُنہوں نے’’ خطیرہ‘‘ نامی ایک بستی میں پناہ لے لی، جہاں عذاب اُن تک نہیں پہنچا اور وہ امن و سکون سے رہے۔

حضرت ہودؑ کا قرآنِ کریم میں تذکرہ

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کے مختلف مقامات پر قومِ عاد پر نازل ہونے والے عذاب کا تذکرہ فرمایا ہے تاکہ کفر و شرک اور غرور و تکبّر میں مبتلا لوگوں کو تنبیہہ ہو۔ اس کے علاوہ، قرآنِ کریم کی ایک سورت کا نام حضرت ہودؑ کے نام پر’’ سورۂ ہودؑ ‘‘ ہے۔ قرآنِ پاک کے گیارھویں پارے میں موجود یہ سورۂ مبارکہ، 123 آیات اور دس رکوعات پر مشتمل ہے۔ سورۂ ہودؑ مکّی ہے۔ یہ اس دَور میں نازل ہوئی کہ جب کفّارِ مکّہ کا ظلم و ستم اپنے عروج پر تھا، چناں چہ سورۂ ہودؑ میں ان پچھلی قوموں کا تذکرہ ہے، جو اللہ کے نبیوںؑ اور رسولوںؑ کی تکذیب کرکے قہرِ الٰہی کا نشانہ بنیں اور تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لیے عبرت کا نمونہ بن گئیں۔ سورۂ ہودؑ میں سات پیغمبروں کے قصص و واقعات درج ہیں، لیکن اس سورت کو حضرت ہودؑ کے نام سے منسوب کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ہودؑ کے قصّے اور قومِ عاد پر نازل ہونے والے عذاب کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ریشِ مبارک کے کچھ بال سفید ہوگئے، تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے عرض کیا’’ یارسول اللہﷺ! آپؐ بوڑھے ہوگئے۔‘‘ تو آپﷺ نے فرمایا کہ’’ ہاں! مجھے سورۂ ہودؑ نے بوڑھا کردیا۔‘‘ بعض روایات میں سورۂ ہودؑ کے ساتھ سورۂ واقعہ، مرسلات، النبا اور سورۂ تکویر کا بھی ذکر ہے۔ (راوہ الحاکم و الترمذی)

عُمرِ مبارکہ

علّامہ طبری کی بعض روایتوں میں ہے کہ حضرت ہودؑ کی عُمر ایک سو پچاس سال تھی۔ آپؑ کو پچاس برس کی عُمر میں نبوّت عطا ہوئی، پچاس برس تک قوم کو وعظ و نصیحت کرتے رہے، قوم کی ہلاکت کے بعد مزید پچاس برس تک زندہ رہے اور اہلِ ایمان کو وعظ و درس فرماتے رہے۔

حضرت ہودؑ کا مزار

تاریخی کُتب سے پتا چلتا ہے کہ حضرت ہودؑ کا مزار، حضرِ موت کے ایک مقام پر ہے، جہاں عرب کے مختلف حصّوں سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں، اگرچہ یہ قبر تاریخی طور پر ثابت نہیں ہے۔ (واللہ اعلم)