وَبِصَوْمِ غَدٍ نَّوَيْتُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ.
I Intend to keep the fast for month of Ramadan

حضرت لوط علیہ السّلام

Articles

محمود میاں نجمی

حضرت لوط علیہ السّلام کے والد کا نام ہاران تھا، جو تارخ(آزر) کے بیٹے اور حضرت ابراہیمؑ کے سگے بھائی تھے۔ یعنی حضرت لوط علیہ السّلام، حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے بھتیجے تھے۔آپؑ، حضرت ابراہیم علیہ السّلام پر سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں شامل ہیں۔نیز، آپؑ، حضرت ابراہیم علیہ السّلام ہی کے زمانے میں اہلِ سدوم کی رہنمائی کے لیے نبوّت کے منصب پر فائز ہوئے۔ والد، ہاران کے انتقال کے بعد حضرت لوط ؑ اپنے چچا، حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ بابل میں مقیم رہے اور پھر ایک عرصے بعد سدوم نامی شہر میں آباد ہو گئے۔

دُنیا کی خُوب صُورت ترین بستیاں

سدوم کے آس پاس پانچ نہایت خُوب صُورت شہر آباد تھے، جن میں سے ہر ایک کی آبادی ایک لاکھ نفوس سے زیادہ ہی تھی۔ یہ علاقے نہایت سرسبز و شاداب اور قدرت کی فیّاضی کا حسین شاہ کار تھے۔ باغات کی کثرت تھی، تو لہلہاتے کھیت یہاں کے باسیوں کی ضروریات سے کہیں زیادہ تھے اور یہی وجہ تھی کہ قرب و جوار کی بستیوں کے باسی بھی اپنی معاشی و غذائی ضروریات کے لیے ان بستیوں کا رُخ کیا کرتے، مگریہ بات ان بستیوں کے لوگوں کو بالکل بھی پسند نہ تھی۔ اُن کے خیال میں ان کی بستیوں میں پیدا ہونے والے پَھلوں، اناج اور سبزیوں پر صرف اُن ہی کا حق ہے۔ اُن کی شدید خواہش تھی کہ دوسری بستیوں کے لوگ اُن کے علاقوں میں نہ آئیں، لیکن یہ اُنہیں منع کرنے سے بھی ڈرتے تھے۔

فعلِ بد کی ابتدا

جب کوئی قوم اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا شُکر ادا کرنے کی بجائے غرور و تکبّر اور عاداتِ بد میں مبتلا ہو جائے، تو ایسے لوگوں کے دِل و دماغ پر شیطان قابض ہو جاتا ہے اور پھر یہ ابلیس کے نقشِ قدم پر چلنے لگتے ہیں۔ ایک دن بستی کے لوگ باہر سے آنے والوں کو روکنے کے طریقۂ کار پر غور و خوض کر رہے تھے کہ ابلیس ایک بزرگ کی شکل میں اُن کی محفل میں آیا اور کہا’’ اگر تم ان سے پیچھا چُھڑانا چاہتے ہو، تو میرے کہنے پر عمل کرو۔‘‘ اجنبی بزرگ کی یہ بات سب نے نہایت توجّہ سے سُنی اور طریقہ بتانے پر اصرار کیا۔ ابلیس نے کہا کہ’’ کل بتائوں گا۔‘‘ دوسرے دن وہ ایک خُوب صُورت، نوعُمر لڑکے کے بھیس میں آیا اور اُنہیں اپنی عورتوں کی بجائے مَردوں کے ساتھ فعلِ بد کرنا سِکھایا۔اس طرح ابلیس کے کہنے پر اس بدکاری کے موجد یہی ملعون لوگ تھے۔ اُنہوں نے شیطان کی ایما پر ایک ایسا گناہ ایجاد کیا، جس کا اولادِ آدمؑ میں اِس سے پہلے کسی کو خیال تک نہیں آیا تھا۔ یہی وہ وقت تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السّلام کو نبی بنا کر اُس قوم کی اصلاح کے لیے بھیجا۔ حضرت لوطؑ نے اُن کو توحید کی دعوت دی اور بے ہودہ حرکات سے منع فرمایا۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’’اور لوطؑ کو یاد کرو، جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ’’ تم بے حیائی (کے کام) کیوں کرتے ہو؟ کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذّت (حاصل کرنے) کے لیے مَردوں کی طرف مائل ہوتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو۔‘‘ (سورۃ النمل54,55)حضرت لوط ؑ اپنی قوم کی عادتِ بد کی وجہ سے بڑے فکر مند رہتے اور دن رات اُنہیں نصیحت و تبلیغ کرتے رہتے، لیکن قوم پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا، بلکہ وہ مزید ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کے ساتھ فخریہ انداز میں یہ کام کرنے لگی۔ اس کے ساتھ ہی وہ حضرت لوط ؑ کے ساتھ بھی سخت رویّہ رکھتے اور اُن کی باتوں کا مذاق اُڑاتے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’اور قومِ لوط ؑ نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا ۔ جب اُن سے اُن کے بھائی، لوطؑ نے کہا کہ’’ تم کیوں نہیں ڈرتے، مَیں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں۔ تو اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو اور مَیں تم سے اِس (کام )کا بدلہ نہیں مانگتا، میرا بدلہ (اللہ) ربّ العالمین کے ذمّے ہے۔ کیا تم اہلِ عالَم میں سے لڑکوں پر مائل ہوتے ہو اور تمہارے پروردگار نے جو تمہارے لیے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں، اُن کو چھوڑ دیتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے ہو۔‘‘ (سورۂ الشعرا 160-166) اُنہیں حضرت لوط ؑ کا سمجھانا بُرا لگتا تھا۔ چناں چہ اُنہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ ’’اگر تم ہمیں اِسی طرح بُرا کہتے رہے اور ہمارے کاموں میں مداخلت کرتے رہے، تو ہم تم کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔‘‘ قرآنِ پاک میں ہے ’’وہ کہنے لگے’’ اے لوطؑ ! اگر تم باز نہ آئو گے، تو (ہم تم کو) شہر بدر کر دیں گے۔‘‘ (سورۂ الشعرا: 167)

عذابِ الٰہی کا مطالبہ

حضرت لوطؑ مایوس ہونے کی بجائے قوم کو راہِ راست پر لانے کی جدوجہد میں مصروف رہے، لیکن وہاں تو کیفیت یہ تھی کہ ’’مرض بڑھتا گیا، جوں جوں دوا کی‘‘،یعنی جتنا حضرت لوط ؑ اُنہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے، وہ اُتنا ہی اُن کا تمسّخر اُڑاتے اور پھر ایک دن اُنہوں نے خود ہی عذابِ الٰہی کا مطالبہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں اب تک دردناک عذاب سے محفوظ رکھا تھا اور بدترین فحاشی اور بدکاری کے باوجود، اُنہیں ڈھیل دی جا رہی تھی، لیکن اب اُنہوں نے خود ہی عذاب کی فرمائش کر دی اور بولے ’’(اے لوطؑ) اگر تم سچّے ہو، تو ہم پر عذاب لے آئو۔‘‘ (سورۂ العنکبوت : 29) قوم کے اس مطالبے کے بعد، حضرت لوط ؑ کو یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اِن کے دِلوں پر مُہر ثبت کر دی ہے اور یہ اب راہِ راست پر آنے والے نہیں۔ لہٰذا، اُنہوں نے نہایت بے بسی کے عالم میں اللہ عزّوجل کے سامنے ہاتھ پھیلا دیئے اور دُعا کی’’اے میرے پروردگار! اِن مفسد لوگوں کے مقابلے میں میری نصرت فرما۔‘‘ (سورۂ العنکبوت: 30)

حضرت ابراہیم ؑ کے گھر فرشتوں کی آمد

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ؑکی دُعا قبول فرمائی اور اپنے خاص فرشتوں کو دنیا کی طرف روانہ کردیا۔ یہ فرشتے، پہلے حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے پاس انسانی شکل میں تشریف لائے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الذاریات میں اس واقعے کو بیان فرمایا ہے۔ اِن آیات کی تفسیر کچھ یوں ہے کہ جب وہ فرشتے اُن کے پاس آئے، تو سلام کیا۔ اُنہوں نے بھی جواب میں سلام کہا۔ حضرت ابراہیم ؑنے دیکھا کہ یہ تو اَن جان لوگ ہیں، تو اُنہوں نے مہمان نوازی کے تقاضوں کے پیشِ نظر اُنہیں عزّت و احترام سے بِٹھایا، پھر اُن کے لیے گھر سے ایک بُھنا ہوا موٹا بچھڑا لائے اور کھانے کے لیے اُن کے آگے رکھ دیا، لیکن اُنہوں نے کھانے کو ہاتھ نہیں لگایا۔ جس پر حضرت ابراہیم ؑنے اُن سے استفسار کیا کہ’’ وہ کھانا کیوں نہیں کھاتے۔‘‘ اس موقعے پر حضرت ابراہیم ؑکے دِل میں کچھ خوف بھی پیدا ہوا۔ فرشتوں نے جب حضرت ابراہیم ؑ کے چہرے پر خوف کے آثار دیکھے، تو کہا’’ آپؑ ہم سے خوف نہ کھائیے۔ ہم آپؑ کو ایک دانش مند بیٹے کی بشارت دینے آئے ہیں۔‘‘ حضرت ابراہیم ؑنے اُن سے کہا’’ اے اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتو! اس کے علاوہ تمہارا اور کیا مقصد ہے؟‘‘ اُنہوں نے کہا’’ ہم گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ اُن پر مٹّی کے کنکر برسائیں، جو تمہارے ربّ کی طرف سے اُن حد سے گزر جانے والوں کے لیے نشان زَدہ ہیں۔‘‘ دراصل، حضرت ابراہیم ؑ اس لیے فکر مند ہو گئے تھے کہ فرشتے جس بستی کی جانب جا رہے تھے، وہاں حضرت لوط ؑبھی رہتے تھے۔قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’(حضرت ابراہیمؑ) نے کہا کہ اس میں تو لوطؑ بھی ہیں۔‘‘ وہ کہنے لگے کہ’’ جو لوگ یہاں (رہتے ہیں) ،ہمیں سب معلوم ہیں۔ ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچالیں گے۔ بجز ان کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی۔‘‘(سورۂ عنکبوت 31-32)حضرت ابراہیم علیہ السّلام کا ڈر اور خوف ختم ہو چُکا تھا، لیکن اُنہیں علم تھا کہ اللہ کا عذاب قوموں کو نیست ونابود کر دیتا ہے اور حضرت ابراہیم ؑ نہایت رحم دِل اور رقیق القلب تھے، چناں چہ اُنہوں نے فرشتوں سے قومِ لوطؑ کے بارے میں پھر استفسار کیا، جسے اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا’’ جب ابراہیمؑ کا ڈر اور خوف جاتا رہا اور اُنہیں خُوش خبری بھی مل گئی، تو وہ قومِ لوطؑ کے بارے میں بحث کرنے لگے۔بے شک ابراہیمؑ بردبار، نرم دِل اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والا تھا۔(اس پر فرشتوں نے فرمایا) اے ابراہیمؑ ! اس خیال کو چھوڑ دیجیے۔ آپ ؑکے ربّ کا حکم اُن تک پہنچا ہے اور اُن لوگوں پر کبھی نہ ٹلنے والا عذاب آنے والا ہے۔‘‘ (سورۂ ھود 74-76)

فرشتے حضرت لوط علیہ السّلام کی بستی میں

حضرت سعدی ؒ فرماتے ہیں’’ فرشتے، حضرت ابراہیمؑ سے ملاقات کے بعد حضرت لوط ؑ کی بستی پہنچے اور دوپہر کے وقت وہاں داخل ہوئے۔ جب وہ سدوم شہر میں پہنچے ،تو اُن کی حضرت لوط علیہ السّلام کی صاحب زادی سے ملاقات ہو گئی، جو وہاں پانی بھرنے پہنچی تھیں۔ فرشتوں نے لڑکی سے پوچھا’’ ہم یہاں کہیں ٹھہر سکتے ہیں؟ ‘‘لڑکی نے جواب دیا’’ آپ یہیں رُکے رہیں، مَیں واپس آکر بتاتی ہوں۔‘‘ درحقیقت، لڑکی کو ڈر ہوا کہ اگر یہ قوم کے ہاتھ لگ گئے، تو اُن سے بدسلوکی ہو سکتی ہے۔ وہ اپنے والد، حضرت لوطؑ کے پاس تشریف لائیں اور صُورتِ حال سے آگاہ کیا کہ’’ اے ابّا جان! شہر کے باہر چند اجنبی نو عُمر لڑکے ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ قوم اُن کو پکڑ لے۔‘‘ قوم نے حضرت لوط ؑ کو مہمانوں کو اپنے ہاں ٹھہرانے سے منع کیا، لیکن اس کے باوجود، وہ چُھپ چُھپا کر اُنھیں اپنے گھر لے آئے۔ (قصص الانبیاء، ابنِ کثیر)

گھر کا گھیراؤ

فرمانِ باری تعالیٰ ہے’’اور جب ہمارے فرشتے لوط ؑ کے پاس آئے، تو وہ اُن(کے آنے) سے غم ناک اور تنگ دِل ہوئے اور کہنے لگے کہ’’ آج کا دن بڑی مشکل کا دن ہے۔‘‘ (سورۂ ھود 77)مفسّرین فرماتے ہیں کہ یہ فرشتے حضرت جبرائیل ؑ، حضرت میکائیل ؑ اور حضرت اسرافیل ؑ تھے، جو نہایت حَسین و جمیل نوعُمر لڑکوں کی شکل میں تشریف لائے تھے۔ حضرت لوط ؑ نے جب ان خُوب صُورت نوعُمر لڑکوں کو دیکھا، تو سخت گھبراہٹ اور پریشانی میں مبتلا ہو گئے۔ اُنہیں اپنی قوم کی عادتِ قبیحہ کے پیشِ نظر خطرہ تھا کہ نہ جانے قوم ان کے ساتھ کیا سلوک کرے؟حضرت لوط ؑ کی بیوی کافروں سے ملی ہوئی تھی، سو اُس نے نوعُمر لڑکوں کی گھر میں موجودگی کا راز فاش کر دیا۔ یہ سُن کر بستی والے دوڑتے ہوئے حضرت لوطؑ کے گھر پہنچے۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے’’اور جب قوم دوڑتی ہوئی اُن کے پاس پہنچی، یہ لوگ پہلے ہی سے بُرے کام کیا کرتے تھے، تو لوط ؑ نے کہا اے قوم! یہ جو میری (قوم) کی لڑکیاں ہیں، یہ تمہارے لیے جائز اور پاک ہیں۔ اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں کے بارے میں رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں سے کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں؟‘‘ (سورۂ ھود : 78)حضرت لوط ؑ کی بات سُن کر وہ لوگ بولے’’(اے لوطؑ) کیا ہم نے تم کو سارے جہاں (کی حمایت اور طرف داری) سے منع نہیں کیا تھا؟‘‘ (سورۂ الحجر: 70)’’ اور تم بہ خُوبی واقف ہو کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کچھ حاجت نہیں اور جو ہماری اصل چاہت ہے، اُس سے تم بہ خُوبی واقف ہو۔‘‘ (سورۂ ھود: 79) قومِ لوطؑ کے اس بے شرمانہ جواب سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ فعلِ بد میں کس حد تک مبتلا ہو چُکی تھی۔مفسّرین لکھتے ہیں کہ جب حضرت لوط ؑ کی قوم اُن کے گھر کی طرف دوڑتی ہوئی آئی، تو حضرت لوطؑ نے گھر کے دروازے بند کر لیے اور ان نوجوانوں کو ایک کمرے میں چُھپا دیا۔ بدکار مسلّح لوگوں نے آپؑ کے گھر کا گھیرائو کیا ہوا تھا اور اُن میں سے کچھ گھر کی دیوار پر بھی چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ حضرت لوط ؑ اپنے مہمانوں کی عزّت کے خیال سے بہت زیادہ گھبرائے ہوئے تھے۔ چناں چہ اس بے بسی کے عالم میں اُن کے منہ سے نکلا ’’اے کاش! مجھ میں تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا کسی مضبوط قلعے میں پناہ پکڑ سکتا۔‘‘ (سورۂ ھود: 80)

عذاب کی ابتدا

فرشتے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے۔ جب اُنہوں نے حضرت لوط ؑ کی بے بسی اور پریشانی کا یہ عالم دیکھا، تو حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے یوں گویا ہوئے ’’اے لوطؑ! ہم تمہار ے ربّ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ کچھ رات باقی رہے، تو اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مُڑ کر نہ دیکھے، مگر تمہاری بیوی کہ جو آفت اُن پر پڑنے والی ہے، وہی اُس پر پڑے گی۔ اُن کے (عذاب کے) وعدے کا وقت صبح ہے۔ کیا صبح کچھ دُور ہے؟‘‘ (سورۂ ھود: 81)مفسّرین لکھتے ہیں کہ حضرت لوطؑ حقیقتِ حال جان کر مطمئن ہو گئے اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رات ہی کو نکل کھڑے ہوئے۔ بیوی بھی اُن کے ساتھ تھی، لیکن کچھ دُور جا کر وہ واپس اپنی قوم کی طرف پلٹ گئی اور قوم کے ساتھ جہنّم رسید ہو گئی۔ قوم، حضرت لوطؑ کے گھر کا دروازہ توڑنے پر بضد تھی، چناں چہ حضرت جبرائیل علیہ السّلام نے گھر سے باہر نکل کر اپنے پَر کا ایک کونا اُنہیں مارا، جس سے اُن سب کی آنکھوں کے ڈھیلے باہر نکل آئے اور بصارت زائل ہو گئی۔ یہ خاص عذاب اُن لوگوں کو پہنچا، جو حضرت لوط ؑ کے پاس بدنیّتی سے آئے تھے۔ صبح عذابِ عام میں پوری قوم تباہ ہو گئی۔ (ابنِ کثیر) قرآنِ کریم میں ارشاد ہے’’اور اُنہوں نے (لوطؑ) سے اُن کے مہمانوں کو لینا چاہا، تو ہم نے اُن کی آنکھیں اندھی کر دیں۔‘‘ (سورۃ القمر : 37)

قومِ لوطؑ نیست و نابود کردی گئی

ابھی صبح کا آغاز ہی ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے حُکم سے حضرت جبرائیلؑ نے بستی کو اپنے پَر سے اکھیڑا اور پھر اپنے بازو پر رکھ کر آسمان پر چڑھ گئے، حتیٰ کہ آسمان والوں نے بستی کے کُتّوں کے بھونکنے اور مُرغوں کے بولنے کی آوازیں سُنیں، پھر اُس بستی کو زمین پر دے مارا، جس کے بعد اُن پر پتھروں کی بارش ہوئی۔ ہر پتھر پر مرنے والے کا نام لکھا ہوا تھا۔ جب یہ پتھر اُن کو لگتے، تو سر پاش پاش ہو جاتے۔ صبح سویرے شروع ہونے والا یہ عذاب، اشراق تک پوری بستی کو نیست و نابود کر چُکا تھا۔ اگر کوئی شخص بستی سے باہر تھا، تو اُسے وہ پتھر اُسی جگہ جا لگا، جہاں وہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں فرمایا ’’پھر جب ہمارا حُکم پہنچا، تو ہم نے وہ بستیاں اُلٹ دیں اور اُس زمین پر کھنگر کے پتھر برسانا شروع کیے، جو لگاتار گر رہے تھے۔ جن پر تمہارے ربّ کی طرف سے خاص نشان بھی تھے اور وہ ظالموں سے کچھ دُور نہیں۔‘‘ (سورۂ ھود: 81-82)

عقل و شعور والوں کے لیے عبرت کا مقام

قومِ لوطؑ کی ان خُوب صُورت بستیوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک انتہائی بدبُودار اور سیاہ جھیل میں تبدیل کر دیا، جس کے پانی سے رہتی دنیا تک کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ سمندر کے اس خاص حصّے میں کوئی جان دار، مچھلی، مینڈک وغیرہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ اسی لیے اسے’’ بحیرۂ مُردار‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے مغرب میں اسرائیل اور مشرق میں اُردن واقع ہے۔ بحرۂ میت یا بحیرۂ مُردار کا یہ علاقہ سطحِ سمندر سے 420میٹر یعنی 1378فِٹ نیچے ہے۔ اس جھیل کی لمبائی 67کلو میٹر یعنی 42میل اور چوڑائی 18کلومیٹر یعنی 11میل ہے۔ اس کا پانی حد سے زیادہ نمکین ہے۔ اس کے اردگرد کی زمین، جو کبھی دنیا کی سب سے زیادہ سرسبزو شاداب زمین تھی، بنجر اور صحرائی زمین میں تبدیل ہو چُکی ہے اور اب یہ دنیا کا ایک ایسا مقام ہے کہ جہاں زندگی پنپ نہیں سکتی۔ دنیا کی پانچ حَسین ترین بستیوں میں آباد، قومِ لوطؑ کو اللہ تعالیٰ نے 2200قبلِ مسیح نیست و نابود فرما کر رہتی دنیا تک کے لیے عبرت کا نشان اور عقل و شعور رکھنے والوں کے لیے نصیحت بنا دیا۔ کچھ سال پہلے بحیرۂ مُردار کےساحل پر قومِ لوطؑ کی بستیوں کے بعض تباہ شدہ آثار ظاہر ہوئے ، جب کہ اللہ تعالیٰ نے چودہ سو برس پہلے قرآنِ کریم میں فرما دیا تھا کہ ’’ہم نے اس بستی کو صریح عبرت کی نشانی بنا دیا، اُن لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں۔‘‘ (سورۂ العنکبوت : 35)

حضرت لوط ؑ کا قرآنِ پاک میں ذکر

قرآنِ پاک میں چالیس مقامات پر حضرت لوطؑ کا ذکر آیا ہے۔ سورۂ انعام کی آیت 86، سورۃ الاعراف کی آیات 83,80، سورۂ ھود کی6آیات70، 74،77، 78، 81،89، سورۂ الحجر کی آیات 59، 61، 62،66،67،68،71، سورۃ الانبیاء کی آیات 71،74 ،75، سورۂ الحج کی آیت 43، سورۂ الشعراء کی آیات 160، 161، 167، 168، سورۃ النمل کی آیات 54، 56،57، سورۂ العنکبوت کی آیات 26، 30،32، 33، سورہ الصٰفٰت کی آیت33، سورۂ ص کی 13، سورۂ ق کی 13، سورۃ القمر کی آیات 33، 34، 36، 37، سورۂ التحریم کی آیت10اور سورہ الحاقہ کی آیت 9میں حضرت لوط علیہ السّلام کا ذکر کیا گیا ہے۔