A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: count(): Parameter must be an array or an object that implements Countable

Filename: core/Front_Controller.php

Line Number: 144

Backtrace:

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/private_html/application_ramazan/core/Front_Controller.php
Line: 144
Function: _error_handler

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/private_html/application_ramazan/modules/frontend/controllers/Home.php
Line: 9
Function: __construct

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/public_html/index.php
Line: 333
Function: require_once

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: count(): Parameter must be an array or an object that implements Countable

Filename: controllers/Home.php

Line Number: 58

Backtrace:

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/private_html/application_ramazan/modules/frontend/controllers/Home.php
Line: 58
Function: _error_handler

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/public_html/index.php
Line: 333
Function: require_once

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: count(): Parameter must be an array or an object that implements Countable

Filename: libraries/Database_lib.php

Line Number: 1215

Backtrace:

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/private_html/application_ramazan/libraries/Database_lib.php
Line: 1215
Function: _error_handler

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/private_html/application_ramazan/helpers/custom_helper.php
Line: 2402
Function: post_author_data

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/private_html/application_ramazan/helpers/custom_helper.php
Line: 2455
Function: get_post_authors

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/private_html/application_ramazan/modules/frontend/controllers/Home.php
Line: 126
Function: get_post_authors_list_pic

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/public_html/index.php
Line: 333
Function: require_once

فرماں بردار بیٹے، وعدے کے پکے، معمارِ کعبہ ’’حضرت اسماعیل علیہ السّلام‘‘ - Geo Ramadan - Articles
وَبِصَوْمِ غَدٍ نَّوَيْتُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ.
I Intend to keep the fast for month of Ramadan

فرماں بردار بیٹے، وعدے کے پکے، معمارِ کعبہ ’’حضرت اسماعیل علیہ السّلام‘‘

Articles

محمود میاں نجمی

حضرت اسماعیل علیہ السّلام کی پیدائش

حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی پہلی شادی اپنی چچازاد، حضرت سارہؑ سے ہوئی، لیکن وہ ایک عرصے تک اولاد کی نعمت سے محروم رہے۔ ایک دن حضرت سارہؑ نے اُن سے فرمایا’’ آپؑ، ہاجرہؑ سے نکاح کر لیں، شاید اللہ تعالیٰ اُن کے بطن سے اولاد عطا فرما دے۔‘‘ دراصل، یہ سب کچھ مِن جانب اللہ ہی تھا۔ چناں چہ، آپؑ نے حضرت ہاجرہؑ کو اپنی زوجیت میں لے لیا اور پھر شادی کے ایک سال بعد ہی اُنھوں نے حضرت اسماعیل علیہ السّلام کو جنم دیا۔ اُس وقت حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی عُمرِ مبارکہ 86سال تھی۔ جب حضرت ہاجرہؑ اُمید سے تھیں، تو فرشتے نے آپؑ کو لڑکا ہونے کی نوید سُنائی اور’’ اسماعیل‘‘ نام رکھنے کو کہا۔ حضرت اسماعیلؑ اٹھارہ سو قبلِ مسیح میں پیدا ہوئے۔

ایک نئی آزمائش

حضرت ابراہیمؑ دعائوں، آرزوئوں اور تمنّائوں کے بعد پیرانہ سالی میں پہلے فرزند کی پیدائش پر خوشیوں کا بھرپور اظہار بھی نہ کر پائے تھے کہ اُنھیں ایک اور آزمائش سے گزرنا پڑا۔ وہ بہ حکمِ الہٰی نومولود لختِ جگر اور فرماں بردار بیوی کو مُلکِ شام سے ہزاروں میل دُور ایک ایسی وادی میں چھوڑ آئے کہ جہاں میلوں تک پانی تھا، نہ چرند پرند۔اور آدم تھا، نہ آدم زاد۔

بے آب و گیاہ ویرانے میں

وادیٔ فاران کے سنگلاخ کالے پہاڑوں کے درمیان، تپتے صحرا کے ایک بوڑھے درخت کے نیچے، اللہ کی ایک نیک اور برگزیدہ بندی اپنے نومولود معصوم بیٹے کے ساتھ چند روز سے قیام پزیر ہیں۔ جو زادِ راہ ساتھ تھا، ختم ہو چُکا۔ ماں، بیٹا بھوک، پیاس سے بے حال ہیں۔ ماں کو اپنی تو فکر نہیں، لیکن بھوکے، پیاسے بچّے کی بے چینی پر ممتا کی تڑپ فطری اَمر ہے، لیکن اس لق و دق صحرا میں پانی کہاں…؟جوں جوں لختِ جگر کی شدّتِ پیاس میں اضافہ ہو رہا تھا، ممتا کی ماری ماں کی بے قراری بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ اسی حالتِ اضطراب میں قریب واقع پہاڑی،’’صفا‘‘پر چڑھیں کہ شاید کسی انسان یا پانی کا کوئی نشان مل جائے، لیکن بے سود۔ تڑپتے دِل کے ساتھ بھاگتے ہوئے ذرا دُور، دوسری پہاڑی’’مروہ‘‘پر چڑھیں، لیکن بے فائدہ۔اس طرح، دونوں پہاڑیوں کے درمیان پانی کی تلاش میں سات چکر مکمل کر لیے۔

آبِ زَم زَم کا جاری ہونا

ادھر اللہ جل شانہ نے حضرت جبرائیل امینؑ کے ذریعے شیر خوار اسماعیلؑ کے قدموں تلے دنیا کے سب سے متبرّک اور پاکیزہ پانی کا چشمہ جاری کر کے رہتی دنیا تک کے لیے یہ پیغام دے دیا کہ اللہ پر توکّل کرنے والے صابر و شاکر بندوں کو ایسے ہی بیش قیمت انعامات سے نوازا جاتا ہے۔حضرت عبداللہ بن عبّاسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا کہ’’ اللہ پاک، حضرت اسماعیل علیہ السّلام کی والدہ پر رحمت فرمائے، اگر وہ پانی سے چُلّو نہ بھرتیں اور اُسے رُکنے کا نہ کہتیں، تو وہ ایک بہتا ہوا چشمہ ہوتا۔‘‘ آبِ زَم زَم غذا بھی ہے اور شفا بھی۔ دوا ہے اور دُعا بھی۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ماں، بیٹے کے لیے بہترین غذا کا بندوبست کیا، بلکہ تاقیامت مسلمانوں کے فیض یاب ہونے کا وسیلہ بنا دیا۔

مقدّس ترین شہر

حضرت ہاجرہؑ اپنے صاحب زادے کے ساتھ وہیں رہ رہی تھیں کہ ایک روز عرب کے قبیلے، بنو جرہم کے کچھ لوگ پانی کی تلاش میں وہاں پہنچے اور حضرت ہاجرہؑ کی اجازت سے وہاں رہائش اختیار کر لی۔ پھر دوسرے قبائل بھی وہاں آ آ کر آباد ہوئے اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے وہ سُنسان صحرا دنیا کے سب سے مقدّس و متبرّک اور عظیم شہر، مکّہ مکرّمہ میں تبدیل ہو گیا۔ حضرت ہاجرہؑ نے بیٹے کی پرورش اور تعلیم و تربیت پر خصوصی توجّہ دی۔

سِکھائے کس نے آدابِ فرزندی

تیرہ سال کا طویل عرصہ جیسے پَلک جھپکتے گزر گیا۔حضرت اسماعیل علیہ السّلام مکّے کی مقدّس فضائوں میں آبِ زَم زَم پی کر اور صبر و شُکر کی پیکر، عظیم ماں کی آغوشِ تربیت میں پروان چڑھتے ہوئے بہترین صلاحیتوں کے مالک، خُوب صورت نوجوان کا رُوپ دھار چُکے تھے کہ ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السّلام تشریف لائے اور فرمایا’’اے بیٹا!مَیں خواب میں دیکھتا ہوں کہ (گویا) تمھیں ذبح کر رہا ہوں، تو تم سوچو کہ تمہارا کیا خیال ہے؟(فرماں بردار بیٹے نے سرِ تسلیمِ خم کرتے ہوئے فرمایا)،ابّا جان! آپؑ کو جو حکم ہوا ہے، وہی کیجیے۔اللہ نے چاہا، تو آپؑ مجھے صابرین میں پائیں گے۔‘‘(سورۃ الصٰفٰت102:37) حضرت اسماعیل علیہ السّلام کا یہ سعادت مندانہ جواب دنیا بھر کے بیٹوں کے لیے آدابِ فرزندی کی ایک شان دار مثال ہے۔ اطاعت و فرماں برداری اور تسلیم و رضا کی اس کیفیت کو علّامہ اقبالؒ نے یوں بیان کیا؎ یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی…سِکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی۔

مِنیٰ کی جانب سفر اور شیطان کی چالیں

حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے بیٹے کا جواب سُنا، تو اُنہیں سینے سے لگایا اور حضرت ہاجرہؑ کے پاس لے آئے۔ فرمایا’’ اے ہاجرہؑ!آج ہمارے نورِ نظر کو آپ اپنے ہاتھوں سے تیار کر دیجیے۔‘‘ممتا کے مقدّس، شیریں اور اَن مول جذبوں میں ڈوبی ماں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو نئی پوشاک پہنائی۔ آنکھوں میں سُرمہ، سَر میں تیل لگایا اور خُوش بُو میں رچا بسا کر باپ کے ساتھ باہر جانے کے لیے تیار کر دیا۔اسی اثنا میں حضرت ابراہیم علیہ السّلام بھی ایک تیز دھار چُھری کا بندوبست کر چُکے تھے۔ پھر بیٹے کو ساتھ لے کر مکّے سے باہر مِنیٰ کی جانب چل دیئے۔شیطان نے باپ، بیٹے کے درمیان ہونے والی گفتگو سُن لی تھی۔ جب اُس نے صبر و استقامت اور اطاعتِ خداوندی کا یہ رُوح پرور منظر دیکھا، تو مضطرب ہو گیا اور اُس نے باپ، بیٹے کو اس قربانی سے باز رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ چناں چہ’’ جمرہ عقبیٰ‘‘ کے مقام پر راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے ساتھ موجود فرشتے نے کہا’’ یہ شیطان ہے، اسے کنکریاں ماریں۔‘‘حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے’’اللہ اکبر‘‘کہہ کر اُسے سات کنکریاں ماریں، جس سے وہ زمین میں دھنس گیا۔ ابھی آپؑ کچھ ہی آگے بڑھے تھے کہ زمین نے اُسے چھوڑ دیا اور وہ’’ جمرہ وسطیٰ‘‘ کے مقام پر پھر وَرغلانے کے لیے آ موجود ہوا۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے دوبارہ کنکریاں ماریں، وہ پھر زمین میں دھنسا، لیکن آپؑ کچھ ہی آگے بڑھے تھے کہ وہ’’ جمرہ اولیٰ‘‘ کے مقام پر پھر موجود تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے تیسری بار’’اللہ اکبر‘‘کہہ کر کنکریاں ماریں، تو وہ زمین میں دھنس گیا۔اللہ تبارک وتعالیٰ کو ابراہیم خلیل اللہؑ کا شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل اس قدر پسند آیا کہ اسے رہتی دنیا تک کے لیے حج کے واجبات میں شامل فرما دیا۔

شیطان حضرت ہاجرہؑ کی خدمت میں

شیطان اپنی ناکامی پر بڑا پریشان تھا۔ تینوں مرتبہ کی کنکریوں نے اس کے جسم کو زخموں سے چُور کر دیا تھا، اچانک اسے ایک نئی چال سوجھی اور وہ عورت کا بھیس بدل کر بھاگم بھاگ حضرت ہاجرہؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا’’ اے اسماعیلؑ کی ماں! تمہیں علم ہے کہ ابراہیمؑ تمہارے لختِ جگر کو کہاں لے گئے ہیں؟‘‘ حضرت ہاجرہؑ نے فرمایا’’ ہاں،وہ باہر گئے ہیں، شاید کسی دوست سے ملنے گئے ہوں۔‘‘ شیطان نے اپنے سَر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا ’’وہ تیرے بیٹے کو ذبح کرنے وادیٔ منیٰ میں لے گئے ہیں۔‘‘حضرت ہاجرہؑ نے حیرت اور تعجّب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا’’یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شفیق اور مہربان باپ اپنے چہیتے اور اکلوتے بیٹے کو ذبح کردے؟‘‘اس موقعے پر بے ساختہ شیطان کے منہ سے نکلا’’وہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم پر کر رہے ہیں۔‘‘یہ سُن کر صبر و شُکر اور اطاعت و فرماں برداری کی پیکر، اللہ کی برگزیدہ بندی نے فرمایا’’ اگر یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، تو ایک اسماعیلؑ کیا، اس کے حکم پر 100اسماعیلؑ قربان ہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے قربانی قبول فرما لی

شیطان یہاں سے نامُراد ہو کر واپس مِنیٰ کی جانب پلٹا، لیکن وہاں کا ایمان افروز منظر دیکھ کر اپنے سَر پر خاک ڈالنے اور چہرہ پیٹنے پر مجبور ہو گیا۔ وادیٔ مِنیٰ کے سیاہ پہاڑ، نیلے شفّاف آسمان پر روشن آگ برساتا سورج، فلک پر موجود تسبیح و تہلیل میں مصروف ملائکہ، اللہ کی راہ میں اپنی متاعِ عزیز کی قربانی کا محیّر العقول منظر دیکھنے میں محو تھے۔مکّے سے آنے والی گرم ہوائیں بھی مِنیٰ کی فضائوں میں موجود عبادت و اطاعت، تسلیم و رضا اور صبر و شُکر کی ایک عظیم داستان رقم ہوتے دیکھ رہی تھیں۔ روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے حضرت اسماعیل علیہ السّلام کو لیٹنے کی ہدایت دی، تو حضرت اسماعیل علیہ السّلام نے فرمایا’’ ابّا جان! مَیں پیشانی کے بَل لیٹتا ہوں تاکہ آپؑ کا چہرہ مجھے نظر نہ آئے اور آپؑ بھی اپنی آنکھوں پر پٹّی باندھ لیں تاکہ جب آپؑ مجھے ذبح کر رہے ہوں، تو شفقتِ پدری کے امرِ الٰہی پر غالب آنے کا امکان نہ رہے۔‘‘صبر و استقامت کے کوہِ گراں والد نے گوشۂ جگر کے مشورے پر عمل کیا اور جب اسماعیل علیہ السّلام لیٹ گئے، تو تکمیلِ احکامِ خداوندی میں تیز دھار چُھری کو پوری قوّت کے ساتھ لختِ جگر کی گردن پر پھیر دیا۔باپ، بیٹے کی اس عظیم قربانی پر قدرتِ خداوندی جوش میں آئی اور اللہ جل شانہ کے حکم سے حضرت جبرائیل علیہ السّلام جنّت کے باغات میں پلے سفید رنگ کے خُوب صورت مینڈھے کو لے کر حاضر ہوئے۔ابراہیم خلیل اللہ ؑ نے ذبح سے فار غ ہو کر آنکھوں سے پٹّی ہٹائی، تو حیرت زدہ رہ گئے۔ بیٹے کی جگہ ایک حَسین مینڈھا ذبح ہوا پڑا تھا، جب کہ اسماعیل علیہ السّلام قریب کھڑے مُسکرا رہے تھے۔اسی اثنا میں غیب سے آواز آئی’’اے ابراہیمؑ!تم نے اپنا خواب سچّا کر دِکھایا۔ بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔(سورۃ الصٰفٰت 105:37)حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے اس بے مثال جذبۂ ایثار، اطاعت و فرماں برداری، جرأت و استقامت، تسلیم و رضا اور صبر و شُکر پر مُہرِ تصدیق ثبت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں فرمایا ’’اور ہم نے (اسماعیلؑ)کی عظیم قربانی پر اُن کا فدیہ دے دیا۔‘‘اللہ ربّ العزّت کو اپنے دونوں برگزیدہ اور جلیل القدر بندوں کی یہ ادا اس قدر پسند آئی کہ اسے اطاعت، عبادت اور قربتِ الہٰی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے قیامت تک کے لیے جاری فرما دیا۔

سعادت مند بیٹے کا والد کے مشورے پر عمل

ابھی آپؑ پندرہ برس ہی کے ہوئے تھے کہ والدۂ ماجدہ وفات پا گئیں۔ والدہ کی جدائی کا آپؑ کو بڑا صدمہ تھا۔ اب اکیلے رہ گئے تھے، چناں چہ والد کے پاس مُلکِ شام جانے کا ارادہ فرمایا، لیکن قبیلے اور شہر کے لوگوں کو آپؑ کی جدائی گوارا نہ تھی، لہٰذا قبیلے والوں نے آپؑ کا نکاح، عمالیق قبیلے کی ایک لڑکی، عمّارہ بنتِ سعد سے کر دیا۔ ایک مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام ملنے کے لیے آئے، تو حضرت اسماعیل علیہ السّلام گھر پر موجود نہ تھے۔ اُن کی اہلیہ کا رویّہ انتہائی نامناسب تھا، تو وہ بیٹے کو ان خاتون سے علیٰحدگی اختیار کرنے کا پیغام دے کر چلے گئے۔آپؑ نے والد کی نصیحت پر عمل کیا، پھر قبیلے کے لوگوں نے آپؑ کی شادی قبیلہ جرہم کی خاتون، سیّدہ بنتِ مضاض سے کر دی۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام پھر آئے، تو اس بار بھی حضرت اسماعیل علیہ السّلام موجود نہ تھے، لیکن اُن کی بیوی کی سعادت مندی، شُکر گزاری اور فرماں برداری کی بنا پر اُن سے بہت خوش ہوئے۔

خانۂ کعبہ کی تعمیر میں حصّہ

حضرت اسماعیل علیہ السّلام نے خانۂ کعبہ کی تعمیر کے دَوران اپنے والد کے شانہ بشانہ کام کیا۔ آپؑ پتھر اور گارا والد کو دیتے جاتے اور وہ اُنہیں دیوار پر چُنتے رہتے۔روایت میں ہے کہ خانۂ کعبہ کی دیواروں میں جو پتھر استعمال ہوا، اسے حضرت اسماعیل علیہ السّلام نے پانچ پہاڑوں سے جمع کیا تھا، جن کے نام کتابوں میں کچھ اس طرح ہیں، طورِ حرا، طورِ زیتا، طورِ لبنان، طورِ سینا اور طورِ جودی۔حضرت اسماعیل علیہ السّلام، حضرت جبرائیل علیہ السّلام کی نشان دہی پر جبلِ ابو قیس سے حجرِ اسود لے کر آئے، جو جنّت کا یاقوت ہے۔سورۃ البقرہ آیت127میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ’’اور جب ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ بیت اللہ کی بنیادیں اونچی کر رہے تھے، تو دُعا کیے جاتے تھے کہ’’ اے ہمارے پروردگار! ہماری یہ خدمت قبول فرما۔ بے شک تو سُننے والا اور جاننے والا ہے۔‘‘

خانۂ کعبہ کے پہلے متولّی

تعمیر مکمل ہونے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے خانۂ کعبہ کی صفائی، امامت اور آنے والے زائرین کی خدمت سمیت تمام کام حضرت اسماعیل علیہ السّلام کے سپرد فرمائے اور ان کو نصیحت و ہدایات دیتے ہوئے بیت اللہ شریف کا متولّی مقرر فرمایا۔ پھر آپؑ خود واپس مُلکِ شام چلے گئے۔حضرت اسماعیل علیہ السّلام کی وفات کے بعد آپؑ کے بیٹے، نابت بن اسماعیلؑ کعبے کے متولّی بنے۔

نبوّت کا دائرہ

اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السّلام کو حجازِ مقدّس اور اس کے آس پاس کی تمام آبادیوں، نیز قومِ جرہم، قومِ عمالیق اور اہلِ یمن کی طرف نبی بنا کر بھیجا۔ آپؑ، ہمارے پیارے نبی، حضرت محمّد مصطفیٰﷺ کے جدّ ِ اعلیٰ ہیں۔

اوصافِ حمیدہ

قرآنِ مجید میں حضرت اسماعیل علیہ السّلام کے تین اوصاف نہایت صراحت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔(1)تعمیرِ کعبہ کے دَوران اپنے والد، حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے شانہ بشانہ شریک رہے۔(2)آپؑ وعدے کے بڑے پکّے اور سچّے تھے(3)آپؑ لوگوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے رہتے تھے تاکہ وہ اللہ کے عذاب سے بچ جائیں۔اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں فرماتے ہیں’’ (اے نبیؑ)کتاب میں اسماعیلؑ کا بھی ذکر کیجیے۔بے شک، وہ وعدے کے سچّے اور (ہمارے)بھیجے ہوئے نبی تھے اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کی تعلیم دیتے تھے اور وہ اپنے پروردگار کے ہاں پسندیدہ(برگزیدہ) تھے۔‘‘ (سورۂ مریم 54:55)

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد

حضرت اسماعیل علیہ السّلام کی دوسری اہلیہ، سیّدہ بنت مضاض سے آپؑ کے بارہ لڑکے ہوئے۔ سب کے سب اپنی قوم کے سردار بنے اور ہر ایک نے الگ الگ بستیاں آباد کیں ۔ اُن کی اولاد اتنی کثیر تعداد میں بڑھی کہ حجاز سے نکل کر شام، عراق اور یمن تک پھیل گئی۔محمّد بن اسحاق ؒنے حضرت اسماعیل علیہ السّلام کے بیٹوں کے نام یوں ذکر کیے ہیں۔ نابت، قیدار، ادبیل، میشا، مسمع، ماش، دوما، اُدد، وطور، نبش، طیما اور قیدما۔ اہلِ کتاب نے اسی طرح یہ نام اپنی کتابوں میں ذکر کیے ہیں۔حجازِ مقدّس (مکہ،مدینہ)کے تمام عرب ، حضرت اسماعیل علیہ السّلام کے دو صاحب زادوں یعنی قیدار اور نابت کی اولاد میں سے ہیں۔(ابنِ کثیر)

گھوڑے پر سب سے پہلے سواری

مؤرخین نے لکھا ہے کہ دنیا میں جو شخص سب سے پہلے گھوڑے پر سوار ہوا، وہ حضرت اسماعیل علیہ السّلام تھے۔اس سے پہلے گھوڑا وحشی جانور تھا۔ حضرت اسماعیل علیہ السّلام نے اسے سدھایا اور مانوس کیا اور پھر اُس پر سواری کی۔ حضرت عبداللہ بن عُمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا’’ گھوڑوں کو اپنائو اور ان پر سواری کرو۔ بے شک یہ تمہارے باپ، حضرت اسماعیل علیہ السّلام کی میراث ہے۔‘‘(قصص الانبیاء۔ابنِ کثیر)

زبانوں پر عبور

اموی ؒ ایک حدیث بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا کہ’’ پہلا شخص جس نے واضح عربی زبان کے ساتھ زبان کھولی، وہ اسماعیل علیہ السّلام ہیں اور یہ (اُس وقت)چودہ سال کی عُمر کے تھے۔‘‘(ابنِ کثیر) عربی کے علاوہ، آپؑ کو قبطی اور عبرانی زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی وفات

حضرت اسماعیل علیہ السّلام نے 137سال کی عُمر میں وفات پائی۔آپؑ کو کعبۃ اللہ کے صحن میں میزابِ رحمت اور حجرِ اسود کے درمیان اپنی والدہ کے پہلو میں سُپردِ خاک کیا گیا۔

آپؑ کا قرآنِ کریم میں کا تذکرہ

قرآنِ پاک میں حضرت اسماعیل علیہ السّلام کا ذکر 12مقامات پر آیا ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیات136,133,127,125 ،140، سورہ آلِ عمران کی آیت 84، سورۃ النساء کی آیت 163، سورۂ انعام کی آیت 86، سورۂ ابراہیم کی آیت 39، سورۂ مریم کی آیت 54، سورۃ الانبیاء کی آیت 85اور سورۂ ص کی آیت نمبر 48میں آپؑ کا ذکر کیا گیا ہے۔