وَبِصَوْمِ غَدٍ نَّوَيْتُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ.
I Intend to keep the fast for month of Ramadan

حضرت یوسف علیہ السّلام (حصہ اول)

Articles

محمود میاں نجمی

حضرت یوسف علیہ السّلام، حضرت یعقوب علیہ السّلام کے بیٹے، حضرت اسحاق علیہ السّلام کے پوتے اور حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے پڑپوتے ہیں۔ والدہ راحیل، حضرت یوسف علیہ السّلام کے چھوٹے بھائی، بنیامین کی پیدائش کے وقت انتقال کر گئی تھیں۔ یوں تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوبؑ کو 12بیٹوں سے نوازا تھا، لیکن راحیل کے بطن سے دو بیٹے، یوسفؑ اور بنیامین ہی ہوئے۔ حضرت یوسفؑ بھی اپنی والدہ کی طرح حُسن و جمال میں لاثانی تھے۔ والد کو اُن سے بے حد محبّت تھی اور وہ اُنہیں خود سے جدا نہیں کرتے تھے۔ روایت میں ہے کہ حضرت یعقوبؑ کی چہیتی بیوی راحیل نے بھی اُن کے لیے خصوصی وصیّت کی تھی۔ اب یہ بِن ماں کے بھی تھے اور دس سوتیلے بھائیوں سے چھوٹے بھی۔ پھر شدید قربت اور محبّت کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ حضرت یعقوبؑ نے حضرت یوسفؑ کی پیشانی پر چمکتے نورِ نبوّت کا مشاہدہ بھی کرلیا تھا۔

قرآنِ کریم میں حضرت یوسف علیہ السّلام کا قصّہ

اللہ عزّ و جل نے قرآنِ کریم کی ایک سو گیارہ آیات پر مشتمل پوری ایک سورت، ’’سورۂ یوسف‘‘ میں حضرت یوسفؑ کے واقعے کو بیان فرمایا ہے۔ اس سورت میں بیان کردہ واقعہ کو’’احسن القصص‘‘ یعنی’’ بہترین واقعہ‘‘ کہا گیا ہے۔ دراصل ،اس سبق آموز واقعے میں حسد و عناد کا انجام، نفسِ عمّارہ کی شورشیں، عبرتیں، حکمتیں، مواعظ و نصائح، انسانی عوارض و حوادث، بشری لغزشیں، صبر و استقامت اور رضا و تسلیم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف اور رحم و کرم کی کرشمہ سازیاں جس دِل چسپ اور خُوب صورت انداز میں پیش کی گئی ہیں، وہ رہتی دنیا تک کے لیے انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔قرآنِ پاک میں حضرت یوسف علیہ السّلام کا نامِ مبارک چھبیس مرتبہ آیا ہے، جن میں سے چوبیس بار سورۂ یوسف میں، جب کہ سورۂ انعام اور سورۂ غافر میں ایک، ایک بار آپؑ کا ذکر کیا گیا ہے۔

سورۂ یوسفؑ کی شانِ نزول

روایت میں ہے کہ جب آنحضرت ﷺ مکّۂ معظّمہ میں تشریف فرما تھے اور آپﷺ کی خبر مدینہ طیبہ پہنچی، تو وہاں کے یہودیوں نے اپنے چند آدمی اس کام کے لیے مکّۂ معظّمہ بھیجے کہ وہ جاکر آپﷺ کی آزمائش کریں۔ اُنھوں نے مبہم انداز میں سوال کیا’’ اگر آپﷺ سچّے نبی ہیں، تو ذرا یہ بتلائیے کہ وہ کون سے پیغمبر تھے، جن کا ایک بیٹا مُلکِ شام سے مِصر لے جایا گیا اور باپ اُن کے غم میں روتے روتے نابینا ہوگئے؟‘‘ دراصل یہ سوال یہودیوں نے اس لیے منتخب کیا تھا کہ اس کی کوئی عام شہرت تھی اور نہ مکّے میں کوئی اس واقعے سے واقف تھا،کیوں کہ اُس وقت مکّے میں اہلِ کتاب میں سے کوئی نہ تھا، جس سے بحوالہ تورات و انجیل اس قصّے کا کوئی جز معلوم ہوسکتا۔ اُن کے سوال پر پوری سورۂ یوسف نازل ہوئی، جس میں حضرت یعقوبؑ اور حضرت یوسفؑ کا پورا واقعہ مذکور ہے اور اتنی تفصیل کے ساتھ مذکور ہے کہ تورات اور انجیل میں بھی اتنی تفصیل نہیں۔ اس لیے اس کا بیان کرنا آنحضرتﷺ کا کُھلا معجزہ تھا۔ (معارف القرآن، ج5 ص29)

حضرت یوسفؑ کا خواب

حضرت یوسفؑ ابھی سنِ بلوغت کو بھی نہ پہنچے تھے کہ اُنہوں نے ایک خواب دیکھا۔ جس کا اپنے والد سے یوں ذکر کیا ’’اے ابّا جان! مَیں نے گیارہ ستاروں، سورج اور چاند کو دیکھا کہ وہ سب مجھے سجدہ کررہے ہیں۔‘‘(سورۂ یوسف4:) حضرت یعقوبؑ نے جب بیٹے کا خواب سُنا، تو سمجھ گئے کہ یہ بڑے ہوکر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک عظیم منصب پر فائز ہوں گے۔ اس لیے اُنہیں اندیشہ ہوا کہ یوسفؑ کے سوتیلے بھائی اُن کی عظمت کا اندازہ لگا کر شیطان کے بہکاوے میں آکر اُن کے دشمن نہ ہوجائیں اور اُنھیں کوئی نقصان نہ پہنچائیں۔ چناں چہ اُنہوں نے کہا’’پیارے بیٹے! اپنے اس خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے ساتھ کوئی فریب کاری کریں۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کُھلا دشمن ہے۔‘‘ (سورۂ یوسف5:)

سوتیلے بھائیوں کا حسد

بعض مفسّرین نے لکھا ہے کہ جس وقت حضرت یوسفؑ اپنے والد کو خواب سُنا رہے تھے، سوتیلی ماں دروازے کی آڑ سے باتیں سُن رہی تھی۔ جب سوتیلے بیٹے گھر آئے، تو اُس نے یہ بات اُن کے گوش گزار کردی۔ وہ ویسے بھی حضرت یوسفؑ سے حسد کرتے تھے، لہٰذا اس واقعے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اُنہیں یہ کسی طور گوارا نہ تھا کہ اُن کا سوتیلا چھوٹا بھائی شان و رتبے میں اُن سے آگے بڑھ جائے۔ لہٰذا اُن سب نے حضرت یوسفؑ کو والد سے جدا کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اُنہوں نے آپس میں کہا کہ ’’یوسفؑ کو (یا تو جان سے) مار ڈالو یا اُسے کسی مُلک میں پھینک آئو۔ پھر ابّا کی توجّہ صرف تمہاری طرف ہوجائے گی اور اُس کے بعد تم اچھی حالت میں ہوجائو گے۔‘‘ اُن میں سے ایک نے کہا کہ ’’یوسفؑ کو قتل تو نہ کرو، بلکہ کسی اندھے کنویں (کی تہہ) میں ڈال آئو تاکہ کوئی (آتا جاتا) قافلہ اُسے نکال کر لے جائے، اگر تم کو کچھ کرنا ہی ہے، تو یوں کرو۔‘‘ (سورۂ یوسف9,10:) مفسّرین لکھتے ہیں کہ کنویں میں ڈالنے کی تجویز بڑے سوتیلے بھائی، یہودا نے دی تھی۔ اگلے دن دسوں بھائی والد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا ’’ابّا جان! آخر آپؑ، یوسفؑ کے بارے میں ہم پر اعتماد کیوں نہیں کرتے۔ ہم تو اُن کے خیرخواہ ہیں۔ کل آپؑ اسے ضرور ہمارے ساتھ بھیج دیجیے کہ خُوب کھائے پیے اور کھیلے۔ اس کی حفاظت کے ہم ذمّے دار ہیں۔‘‘ حضرت یعقوبؑ نے کہا’’یہ اَمر مجھے غم ناک کیے دیتا ہے کہ تم اُسے لے جائو اور یہ بھی خوف ہے کہ تم(کھیل میں) اُس سے غافل ہو جائو اور اُسے بھیڑیا کھا جائے۔‘‘ اُنہوں نے جواب دیا’’ ہم جیسی طاقت وَر جماعت کی موجودگی میں بھی اگر اُنھیں بھیڑیا کھا جائے، تو ہم بالکل نکمّے ہی ہوئے۔‘‘ (سورۂ یوسف 14 تا 11)

حضرت یوسفؑ بھائیوں کے ہم راہ

اگلی صبح روانگی سے قبل حضرت یعقوبؑ نے پھر ان دسوں بیٹوں کو یوسفؑ کی حفاظت کی یاد دہانی کروائی۔ حضرت یعقوبؑ کافی دُور تک اُن کے ساتھ گئے۔ جب تک والد ساتھ رہے، وہ بھائی کو گود میں اٹھائے رہے، لیکن جیسے ہی وہ نظروں سے دُور ہوئے، اُنہوں نے یوسفؑ کو گود سے نیچے پھینک کر مار پیٹ شروع کردی۔ اُن سب کے دِل پتھر ہوچُکے تھے۔ ایسے میں ایک بار پھر بڑے بھائی، یہودا کے دِل میں رحم آیا۔ اُس نے کہا کہ’’ اس طرح اس بچّے کو ضائع نہ کرو۔ یہاں قریب ہی ایک کنواں ہے، اُس میں ڈال دو۔ اگر کسی سانپ وغیرہ نے ڈس لیا، تو یہ مرجائے گا اور اگر یہ زندہ رہا، تو شاید کوئی بھولا بسرا قافلہ یہاں آجائے اور اسے اپنے ساتھ لے جائے۔ اس طرح تمہارا مقصد پورا ہوجائے گا۔‘‘ یہودا کی بات سے سب نے اتفاق کیا۔ قرآنِ پاک میں اس طرح بیان کیا گیا ہے’’پھر جب وہ اس کو لے کر چلے اور سب نے مل کر ٹھان لیا کہ اسے غیرآباد گہرے کنویں کی تہہ میں پھینک دیں، تو ہم نے یوسفؑ کی طرف وحی بھیجی کہ یقیناً(ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم ان کو ان کے اس سلوک سے آگاہ کرو گے اور وہ تجھے نہ پہچانیں گے۔‘‘ (سورۂ یوسف15:) روایت میں ہے کہ اُس وقت حضرت یوسف علیہ السّلام کی عُمر سات سال تھی۔ (مظہری) امام قرطبیؒ کا فرمان بھی یہی ہے کہ جس وقت یوسفؑ کو کنویں میں ڈالا گیا، وہ نابالغ بچّے تھے۔تاہم، تفسیر ابنِ کثیر میں سترہ سال، جب کہ کچھ مفسّرین نے عُمر بارہ سال بھی تحریر کی ہے۔(واللہ اعلم )

کنویں کے اندر

امام قرطبیؒ اور دیگر مفسّرین نے حضرت یوسفؑ کو کنویں میں ڈالنے کا واقعہ یوں بیان کیا ہے کہ جب وہ اُنھیں ڈالنے لگے، تو وہ کنویں کی منڈیر سے چمٹ گئے۔ بھائیوں نے اُن کے ہاتھ باندھے۔ حضرت یوسفؑ نے بھائیوں سے رحم کی درخواست کی، مگر جواب ملا ’’جو گیارہ ستارے تجھے سجدہ کرتے ہیں، اُن کو بلا، وہ تیری مدد کریں گے۔‘‘ پھر اُنہیں ایک ڈول میں رکھ کر کنویں میں لٹکا دیا، جب نصف تک پہنچے تو ڈول کی رسّی کاٹ دی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسفؑ کی حفاظت فرمائی۔ پانی میں گرنے کی وجہ سے اُنہیں کوئی چوٹ نہیں لگی۔ اُنہیں قریب ہی ایک پتھر کی چٹان نظر آئی اور وہ اُس پر بیٹھ گئے۔ بعض روایات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیلؑ کو حکم دیا اور اُنہوں نے حضرت یوسفؑ کو اس چٹان پر بِٹھا دیا۔ آپؑ تین روز تک اس کنویں میں رہے۔ بھائی یہودا دوسرے بھائیوں سے چُھپ کر روزانہ اُن کے لیے کھانا، پانی لاتا اور ڈول کے ذریعے اُن تک پہنچا دیتا تھا۔(معارف القرآن ج5 ص36)

والد کے سامنے آہ و بکا

حضرت یوسفؑ کو کنویں میں ڈالنے کے بعد اُنہیں فکر ہوئی کہ اب والد کو کیا جواب دیں گے، چناں چہ اُنہوں نے ایک بکری ذبح کی اور اُس کا خون حضرت یوسفؑ کے کُرتے پر لگا کر عشاء کے وقت آہ و بکا کرتے والد کے پاس پہنچے اور کہنے لگے’’ابّا جان! ہم سب تو دوڑنے میں لگ گئے تھے اور یوسفؑ کو ہم نے سامان کے پاس بِٹھا دیا تھا۔ ایک بھیڑیا اُنھیں کھا گیا۔ اور آپؑ ہمارا کیوں یقین کرنے لگے، اگرچہ ہم کتنے ہی سچّے ہوں۔‘‘(سورۂ یوسف17:) مفسّرین لکھتے ہیں کہ اُنہوں نے قمیص کو خون میں لَت پت تو کردیا تھا، لیکن وہ یہ بھول گئے کہ اگر بھیڑیا یوسفؑ کو کھاتا تو قمیص کیسے سلامت رہ جاتی۔ حضرت یعقوبؑ نے قمیص دیکھ کر اندازہ کرلیا کہ یہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ آپؑ نے فرمایا’’ میرے بیٹو! یہ کیسا حکیم اور عقل مند بھیڑیا تھا کہ یوسفؑ کو اس طرح کھایا کہ کُرتا کہیں سے بھی نہ پھٹا اور صحیح سالم رہا؟‘‘ آپؑ نے فرمایا’’(حقیقت یوں نہیں ہے) بلکہ تم اپنے دِل سے (یہ بات) بنا کر لائے ہو۔ بس میرے لیے صبر ہی بہتر ہے اور جو تم بیان کرتے ہو، اس کے بارے میں اللہ ہی سے مدد مطلوب ہے۔‘‘(سورۂ یوسف18)

اللہ کی جانب سے امداد

تفسیر قرطبیؒ میں ہے کہ ایک تجارتی قافلہ، جو مُلکِ شام سے مِصر جارہا تھا، راستہ بھول کر اس غیر آباد جنگل میں پہنچ گیا۔ قافلے کے لوگ پانی کی تلاش میں سرگرداں تھے کہ ایک شخص مالک بن دبھر اُس کنویں تک پہنچ گیا۔ اُس نے پانی لینے کے لیے ڈول ڈالا، حضرت یوسفؑ نے ڈول کی رسّی پکڑ لی۔ مالک بن دبھر نے ڈول کو بھاری دیکھ کر اوپر کھینچا، لیکن جب اس نے ڈول کے ساتھ ایک نوعُمر بچّے کو دیکھا، تو خوشی سے پکار اٹھا’’ارے! بڑی خوشی کی بات ہے۔ یہ تو بڑا اچھا لڑکا نکل آیا۔‘‘ صحیح مسلم میں شبِ معراج کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا کہ’’ مَیں یوسف علیہ السّلام سے ملا، تو دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے پورے عالم کے حُسن و جمال میں سے آدھا اُن کو عطا فرمایا ہے اور باقی آدھا سارے جہان میں تقسیم ہوا ہے۔‘‘ (معارف القرآن ج5ص39)

بھائی کو فروخت کر دیا

مفسّرین لکھتے ہیں کہ سوتیلا بھائی، روزانہ کھانا لایا کرتا تھا، اُس روز جب وہ کنویں پر آیا اور یوسفؑ کو نہ پایا، تو بھائیوں کو بلا لایا۔ سب یوسفؑ کو تلاش کرتے قافلے والوں کے پاس جا پہنچے اور اُن سے کہا’’ تمہارے پاس جو لڑکا ہے، وہ ہمارا غلام ہے، ہم سے بھاگ آیا ہے۔ اب یہ ہمارے لیے بے کار ہے۔ تم چاہو، تو اُسے خرید لو۔‘‘ قافلے والے ایک اجنبی جگہ پر تھے، سو، ان دَس بھائیوں کے خوف سے اُنہیں خریدنے پر آمادہ ہو گئے۔ حضرت ابنِ مسعود ؒاور حضرت ابنِ عبّاس ؒ فرماتے ہیں کہ ان بھائیوں نے حضرت یوسفؑ کو بیس درہم میں فروخت کر کے آپس میں دو، دو درہم تقسیم کر لیے۔ ( ابنِ کثیر)

بازارِ مِصر میں

تفسیر امام مجاہدؒ کی روایت کے مطابق بھائی قافلہ روانہ ہونے تک وہاں رہے، کچھ دُور اُن کے ساتھ بھی چلے اور ان لوگوں سے کہا کہ’’ اسے باندھ کر رکھیں، ایسا نہ ہو کہ پھر بھاگ جائے۔‘‘ اُنہیں ڈر تھا کہ کہیں وہ بھاگ کر والد کے پاس نہ پہنچ جائیں۔ قافلے والوں نے حضرت یوسفؑ کو مِصر کے بازار میں فروخت کر دیا۔( ابنِ کثیر) تفسیر قرطبیؒ میں ہے کہ لوگوں نے بڑھ چڑھ کر قیمتیں لگانا شروع کیں، یہاں تک کہ حضرت یوسف ؑ کے وزن کے برابر سونے، وزن کے برابر مُشک اور وزن کےبرابر ریشمی کپڑے میں فروخت کر دیئے گئے۔ حضرت یوسفؑ کو خریدنے والا شخص عزیزِ مِصر، یعنی وزیر مملکت تھا، جو خزانہ اور امورِ سلطنت پر حاوی تھا۔ ابنِ اسحاق فرماتے ہیں کہ اس کا نام’’ اطفیر بن روحیب‘‘ اور اُس کی بیوی کا نام، راعیل بنت رمابیل تھا۔اُن دِنوں ریان بن ولید مِصر کا بادشاہ تھا۔( ابنِ کثیر) تاہم، اکثر مفسّرین نے عزیزِ مِصر کی بیوی کا نام ’’ زلیخا‘‘ لکھا ہے۔

زلیخا کا حضرت یوسفؑ پر فریفتہ ہونا

عزیزِ مِصر، حضرت یوسفؑ کو خوش خوش اپنے گھر لے آیا اور بیوی کو نصیحت کی کہ اسے بہت پیار و محبّت سے رکھو۔ قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’ مِصر والوں میں سے جس نے اُسے( حضرت یوسفؑ کو) خریدا تھا، اُس نے اپنی بیوی سے کہا’’ اسے بہت عزّت و احترام کے ساتھ رکھو، بہت ممکن ہے کہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا اسے ہم اپنا بیٹا ہی بنا لیں۔‘‘ یوں ہم نے مِصر کی سرزمین میں یوسفؑ کے قدم جما دیئے۔‘‘ (سورۂ یوسف21:)حضرت یوسف ؑ محل میں بڑے سکون اور اطمینان کے ساتھ رہ رہے تھے۔ عزیزِ مِصر آپ ؑ کی دیانت، شرافت، پاکیزگی، سچائی اور بردباری سے بے حد متاثر تھا، لیکن ابھی اللہ تعالیٰ کو حضرت یوسف ؑکو مزید امتحانات سے گزارنا تھا۔ کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ آپ ؑ سنِ شباب پر پہنچ گئے۔ عزیزِ مِصر کی بیوی، زلیخا آپؑ کے حُسن سے بہت متاثر تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُس کی نیّت بدلنے لگی اور اُس نے آپؑ پر ڈورے ڈالنے شروع کر دیئے۔قرآنِ پاک میں ارشاد ہے’’ اور جس عورت کے گھر میں تھا، وہ اُسے پھسلانے لگی اور دروازے بند کرلیے اور کہنے لگی لو آؤ، اُس(حضرت یوسفؑ) نے کہا اللہ کی پناہ، وہ( یعنی تیرے میاں)تو میرا آقا ہے، جس نے مجھے عزّت سے رکھا ہے۔(میں ایسا ظلم نہیں کر سکتا) بے شک ظالم نجات نہیں پاتے۔‘‘(سورۂ یوسف23:)جب حضرت یوسفؑ نے دیکھا کہ یہ عورت شیطان کے چنگل میں پھنس کر دعوتِ گناہ پر مُصر ہے، تو باہر نکلنے کے لیے دروازے کی جانب بھاگے۔ زلیخا پکڑنے کے لیے اُن کے پیچھے دوڑی، اُن کی قمیص کا پچھلا دامن اُس کے ہاتھ میں آ گیا، جسے اُس نے اپنی طرف کھینچا، تو وہ پھٹ گیا۔ حضرت یوسفؑ باہر نکلے، تو سامنے عزیزِ مِصر کھڑا تھا۔ پیچھے زلیخا بھی باہر آگئی، اُس نے شوہر کو دروازے پر کھڑا دیکھا، تو معصوم بن گئی اور حضرت یوسف ؑ پر الزام لگاتے ہوئے گویا ہوئی’’ جو شخص تیری بیوی کے ساتھ بُرا ارادہ کرے، تو بس اُس کی سزا یہی ہے کہ اُسے قید کر دیا جائے اور اُسے کوئی درد ناک سزا دی جائے۔‘‘ (سورۂ یوسفؑ 25)حضرت یوسفؑ نے جب دیکھا کہ اُس عورت نے الزام اُن ہی پر لگا دیا ہے، تو صُورتِ حال واضح کر دی’’بولے! یہی مجھے اپنی نفسانی خواہش پورا کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔‘‘(سورۂ یوسف 26:)عزیزِ مِصر کے سامنے ایک طرف بیوی تھی، جو حضرت یوسف ؑپر بدکاری کا الزام لگا رہی تھی، تو دوسری طرف، حضرت یوسفؑ تھے کہ جن کی شرافت، پاکیزگی، صداقت اور سچّائی مسلّمہ تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ ان میں سے کون سچّا ہے؟ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے’’ عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی کہ اگر اس کا کُرتا آگے سے پَھٹا ہوا ہے، تو عورت سچّی ہے اور وہ جھوٹا ہے۔اور اگر اس کا کُرتا پیچھے سے پَھٹا ہوا ہے، تو یہ جھوٹی ہے اور وہ سچّا ہے۔جب اس (یوسفؑ) کا کُرتا دیکھا، تو وہ پیچھے سے پَھٹا تھا (تب اُس نے زلیخا سے کہا) کہ یہ تمہارا فریب ہے اور کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے ہوتے ہیں۔‘‘ پھر اس نے کہا’’ یوسف ؑاس بات کا خیال نہ کر اور (زلیخا) تو اپنے گناہ کی بخشش مانگ، بے شک خطا تیری ہی ہے۔‘‘(سورۂ یوسف 26,29:)تفسیر ابنِ کثیر اور معارف القرآن میں ایک دودھ پیتے بچّے کا ذکر ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے گویائی عطا فرمائی اور اُس نے عزیزِ مِصر کو یہ حکیمانہ مشورہ دیا، جس میں حضرت یوسفؑ کی بےگناہی ثابت ہوئی۔

زلیخا کے عشق کے چرچے

یہ واقعہ دربارِ خاص سے ہوتا ہوا شہر کی خواتین تک میں عام ہو گیا۔ اُنہوں نے زلیخا کو بدنام اور اسے لعن طعن کرنا شروع کر دیا، جس کا ذکر قرآنِ کریم میں یوں کیا گیا ہے’’اور عورتوں نے شہر میں چرچا کیا کہ عزیز کی عورت اپنے غلام کو چاہتی ہے، اس کی محبّت میں فریفتہ ہوگئی ہے، ہم تو اسے صریح غلطی پر دیکھتے ہیں۔‘‘ ( سورۂ یوسف،30)زلیخا جب ان عورتوں کے طنز سے تنگ آ گئی، تو اُس نے ان عورتوں کو اپنے گھر کھانے پر مدعو کر لیا ،پھر جب سب خواتین کھانے کی دعوت پر آ گئیں، تو اس نے اُن میں سے ہر ایک کو پھل تراشنے کے لیے ایک ایک چُھری دی اور پھر یوسفؑ سے کہا کہ اُن کے سامنے چلے آئو۔ ان عورتوں نے جب حضرت یوسفؑ کے حُسن و جمال کو دیکھا، تو ایسی مدہوش ہوئیں کہ پھل تراشنے کی بجائے اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بے اختیار بول اٹھیں’’ سبحان اللہ! یہ انسان ہرگز نہیں، یہ تو یقیناً کوئی بہت بزرگ فرشتہ ہے۔‘‘ جب زلیخا نے دیکھا کہ یہ عورتیں تو یوسفؑ ؑ کے جلوۂ حسن سے مبہوت و مدہوش ہوگئی ہیں، تو اُس نے کہا’’ یہی وہ غلام ہے، جس کے بارے میں تم مجھ پر لعنت ملامت کر رہی تھیں۔ مَیں نے ہر چند اس سے اپنا مطلب حاصل کرنا چاہا، لیکن اس نے اپنے آپ کو روک لیا اور جو کچھ مَیں کہہ رہی ہوں، اگر یہ وہ کام نہ کرے گا، تو قید کر دیا جائے گا اور رسوا ہو گا۔‘‘(سورۂ یوسف31,32)

حضرت یوسفؑ کی دُعا

مفسّرین لکھتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد وہ عورتیں بھی زلیخا کی ہم نوا ہو کر اس کی تائید و حمایت کرنے لگیں، جس کی بنا پر زلیخا مزید نڈر ہو گئی، تو آپ ؑ نے اپنے ربّ سے التجا کی’’ اے میرے پروردگار ! جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہے، اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے اور اگر تُو مجھ سے اُن کے فریب کو نہ ہٹائے گا، تو مَیں اُن کی طرف مائل ہو جائوں گا اور نادانوں میں داخل ہو جائوں گا۔‘‘ (یوسف33:) حدیث میں ہے کہ ’’سات آدمیوں کو اللہ تعالیٰ اپنے عرش کا سایہ عطا فرمائے گا۔ اُن میں سے ایک وہ شخص ہے، جسے کوئی ایسی عورت دعوتِ گناہ دے، جو حَسین و جمیل ہو اور جاہ ومنصب کی بھی حامل ہو، لیکن وہ اس کے جواب میں یہ کہہ دے کہ ’’مَیں تو اللہ سے ڈرتا ہوں۔‘‘(صحیح بخاری،صحیح مسلم)

(جاری ہے)