وَبِصَوْمِ غَدٍ نَّوَيْتُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ.
I Intend to keep the fast for month of Ramadan

حضرت یوسف علیہ السّلام (دوسرا اور آخری حصّہ)

Articles

محمود میاں نجمی

جیل روانگی

زلیخا کے داؤ پیچ ناکام ہوگئے، تو حضرت یوسفؑ کو قید خانے میں ڈالنے کا تہیّہ کرلیا۔ اُس نے اپنے شوہر کو مجبور کیا کہ اُس کی جس قدر رسوائی اور بدنامی ہوچُکی ہے، اس کے توڑ کے لیے یوسفؑ کو قید خانے میں ڈال دیا جائے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ زلیخا بے قصور ہے۔ حضرت یوسفؑ کی عفّت و پاک دامنی ثابت ہونے کے باوجود، عزیزِ مِصر نے اُنہیں حوالۂ زنداں کردیا۔ یوں اللہ تعالیٰ نے جیل جانے کی دُعا قبول فرما کر ایک طرف تو اُنھیں عورتوں کی چال بازیوں سے بچا لیا، تو دوسری طرف شاہِ مِصر کے قُرب اور حکومت میں شامل ہونے کے مواقع فراہم کردیے۔ آپؑ قیدیوں کی خبر گیری کرتے اور اُن سے پیار و محبّت سے پیش آتے۔ چناں چہ بہت جلد قیدیوں میں مقبول ہوگئے۔

قیدیوں کے خواب اور اُن کی تعبیر

محل کے دو خاص آدمی بادشاہ کو زہر دینے کے الزام میں گرفتار کرکے قید خانے لائے گئے۔ اُن میں سے ایک شاہی ساقی یعنی بادشاہ کو مشروبات پلانے والا اور دوسرا، باورچی تھا۔ ایک رات اُن دونوں نے عجیب و غریب خواب دیکھے، جس کی تعبیر کے لیے حضرت یوسفؑ سے رجوع کیا گیا۔ ایک نے خواب میں خود کو شراب نچوڑتے دیکھا اور دوسرے نے دیکھا کہ وہ اپنے سَر پر روٹی اٹھائے ہوئے ہے، جسے پرندے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔آپؑ نے فرمایا’’اے میرے قید خانے کے رفیقو! تم دونوں میں سے ایک تو اپنے بادشاہ کو شراب پلانے پر مقرّر ہوجائے گا،لیکن دوسرا سولی پر چڑھایا جائے گا اور پرندے اس کا سر نوچ نوچ کر کھائیں گے۔‘‘ آپؑ نے دونوں اشخاص میں سے جس کی نسبت خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائے گا، اُس سے کہا’’ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا،‘‘ لیکن شیطان نے اُن کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلادیا اور آپؑ کئی برس جیل خانے ہی میں رہے۔

بادشاہ کا خواب اور اُس کی تعبیر

آپؑ سات سال جیل میں رہے، پھر اللہ ربّ العزّت نے اپنے محبوب نبیؑ کی باعزّت رہائی کا بندوست فرمادیا۔ ہوا یوں کہ مِصر کے بادشاہ نے ایک ایسا حیران کُن اور پریشان کُن خواب دیکھا کہ درباری اور مصاحبین بھی اُس کی تعبیر نہ بتاسکے۔ قرآنِ پاک میں اسے یوں بیان کیا گیا ہے’’اور بادشاہ نے کہا ’’مَیں خواب دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں، جنھیں سات دُبلی گائیں کھاتی ہیں اور سات سبز خوشے ہیں اور سات خشک۔ اے دربار والو! مجھے میرے خواب کی تعبیر بتلاؤ، اگر تم خواب کی تعبیر دینے والے ہو۔‘‘ اُنہوں نے کہا’’ یہ خیالی خواب ہیں اور ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے۔‘‘(سورۂ یوسف 43،44) اُس وقت دربار میں وہ شاہی ساقی بھی موجود تھا۔ اُسے جیل میں قید حضرت یوسفؑ یاد آگئے۔ اُس نے بادشاہ سے کہا کہ’’ اگر مجھے جیل خانے جانے کی اجازت عنایت فرمادیں، تو مَیں اس خواب کی تعبیر آپ کو لا دوں گا۔‘‘ بادشاہ نے اُسے اجازت دے دی، تو وہ حضرت یوسفؑ کے پاس آیا۔ قرآنِ پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ جب وہ یوسفؑ کے پاس آیا، تو کہنے لگا ’’اے یوسفؑ! آپؑ بڑے سچّے ہیں! آپؑ ہمیں اس خواب کی تعبیر بتلائیے کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں، جنہیں سات دُبلی پتلی گائیں کھارہی ہیں اور سات سبز خوشے ہیں اور سات ہی خشک، تاکہ مَیں اُن لوگوں کے پاس واپس (جاکر تعبیر بتاؤں) عجب نہیں کہ وہ (تمہاری قدر) جانیں۔‘‘ یوسفؑ نے کہا’’ تم لوگ سات سال تک متواتر کھیتی کرتے رہو گے، تو جو (غلّہ) کاٹو، تو تھوڑے سے غلّے کے سِوا، جو کھانے میں آئے، باقی خوشوں ہی میں رہنے دینا۔ اس کے بعد سات سال نہایت سخت قحط کے آئیں گے۔ وہ اس غلّے کو کھا جائیں گے، جو تم نے اُن کے لیے ذخیرہ رکھ چھوڑا تھا۔ صرف وہی تھوڑا سا رہ جائے گا، جو تم احتیاط سے رکھ چھوڑو گے۔ پھر اس کے بعد ایک ایسا سال آئے گا کہ خُوب مینہ برسے گا اور لوگ اس میں رَس نچوڑیں گے۔‘‘( سورۂ یوسف 46تا 49) حضرت یوسفؑ نے نہ صرف خواب کی تعبیر بیان فرمائی، بلکہ اناج کو کیڑے سے محفوظ رکھنے کے لیے ہم دَردانہ مشورہ بھی دے دیا۔

رہائی سےپہلے الزام کی تحقیق کی شرط

شاہی ساقی نے بادشاہ کے دربار میں حاضر ہو کر خواب کی تعبیر بیان کی، تو بادشاہ بہت حیران ہوا۔ اُس نے حکم جاری کیا کہ تعبیر بتانے والے کو دربار میں پیش کیا جائے۔ قاصد فوری طور پر حضرت یوسفؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور دربار میں چلنے کی درخواست کی۔ آپؑ نے فوری طور پر جانا پسند نہ فرمایا اور قاصد سے کہا’’ اپنے بادشاہ کے پاس جاکر پوچھو کہ اُن عورتوں کا حقیقی واقعہ کیا ہے؟ جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔‘‘ اس پر بادشاہ نے عورتوں کو طلب کیا اور پوچھا’’ اے عورتو! کیا ہوا تھا، جب تم نے یوسفؑ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا؟‘‘ سب نے یک زبان ہو کر کہا ’’حاشالِلہ! ہم نے اُن میں کوئی بُرائی نہیں دیکھی۔‘‘ عورتوں نے جب حضرت یوسفؑ کی پاک دامنی کی گواہی دے دی، تو زلیخا شرم سے پانی پانی ہوگئی۔ وہ بولی’’ اب سچّی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے، (اصل یہی ہے کہ) مَیں نے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور وہ بے شک سچّے ہیں۔‘‘ (سورۂ یوسف51)دراصل، حضرت یوسفؑ نے رہائی سے قبل ضروری سمجھا کہ اس معاملے کی اصل حقیقت کُھل کر واضح ہو جائے، جس کی بنا پر وہ کئی برس جیل میں رہے۔

بادشاہ کے دربار میں

حضرت یوسفؑ کو دربار میں لایا گیا، تو بادشاہ نے بڑا پُرتپاک خیرمقدم کیا اور آپؑ سے خواب کی تمام تفصیلات اور اُن کا حل دریافت کیا۔ بادشاہ، آپؑ کی فہم و فراست اور فطانت و ذہانت سے بے حد متاثر ہوا۔ حضرت یوسفؑ نے فرمایا’’مجھے اس مُلک کے خزانوں پر مقرّر کردیجیے، کیوں کہ مَیں حفاظت کرسکتا ہوں اور (اس کام سے) واقف بھی ہوں‘‘۔ بادشاہِ مِصر ایک جہاں دیدہ، تجربہ کار اور چہرہ شناس شخص تھا، اُس نے آپؑ کو خزانے سمیت اُمورِ مملکت میں مختارِ کُل بنادیا۔

خوش حالی کے سات سال اور قحط کی ابتدا

شاہِ مِصر کے خواب کے مطابق شروع کے سات سال خُوش حالی کے تھے۔ آپؑ نے بہترین حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے تین اہم کام کیے(1) اناج کی پیداوار میں بڑے پیمانے پر اضافہ، بنجر زمینوں پر کاشت کا خصوصی انتظام(2) اناج کے استعمال میں احتیاط اور کفایت شعاری(3)اناج کی زیادہ سے زیادہ ذخیرہ اندازی۔ خوش حالی کے دنوں میں آپؑ نے ایک وقت کھانے کا حکم فرمایا اور خود بھی اس پر سختی سے عمل پیرا ہوئے۔ سات برس بعد قحط کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ آپؑ نے عوام کو تاکید کردی تھی کہ جس قدر ممکن ہو، اپنے گھروں میں غلّہ جمع کرلیں۔ ایک برس بعد آپؑ نے اعلان کروادیا کہ اناج کی تقسیم صرف دربارِ شاہی سے ہوگی۔ لہٰذا، لوگ اناج کے حصول کے لیے وہاں کا رُخ کرنے لگے، جہاں حضرت یوسف ؑکی نگرانی میں اناج تقسیم کیا جاتا تھا۔ آپؑ نے غلّے کی فروخت کا ایک خاص پیمانہ بنایا تھا۔ کسی کو بھی ایک اونٹ کے بوجھ سے زیادہ غلّہ نہیں ملتا تھا۔ قحط نے مِصر کے علاوہ، شام اور فلسطین سمیت پورے خطّے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی حضرت یوسف ؑکی فیّاضی اور رحم دلی کی شہرت بھی دُور دُور تک پھیل چُکی تھی۔ لوگ جُوق در جُوق آتے اور اناج خرید کر چلے جاتے۔ حضرت یعقوبؑ کا خاندان، فلسطین میں تھا اور جب آپؑ کو عزیزِ مِصر(یعنی حضرت یوسفؑ) کی فیّاضی کا علم ہوا، تو بیٹوں سے کہا’’ تم بھی مِصر جا کر اُس رحم دِل حکم ران سے غلّہ لے آؤ۔‘‘

برادرانِ یوسفؑ دربار میں

بنیامین کے علاوہ، دسوں بھائی شاہی دربار میں غلّہ لینے پہنچ گئے، جہاں حضرت یوسفؑ شان وشوکت کے ساتھ جلوہ افروز تھے۔ بھائی تو اُنھیں نہ پہچان سکے، لیکن اُنھوں نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا۔ حضرت یوسفؑ سات برس کی عُمر میں اُن سے جدا ہوئے تھے اور اب چالیس سال کے ہو چُکے تھے۔ (قرطبی و مظہری)آپؑ نے مزید اطمینان کے لیے اُن سے سوالات کیے اور فرمایا’’ تم مِصری معلوم نہیں ہوتے، تمہاری زبان بھی عبرانی ہے۔کہیں کسی دشمن مُلک کے جاسوس تو نہیں ہو؟‘‘ ان سوالات کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنے حالات کے بارے میں سب کچھ بتا دیں۔ سوتیلے بھائیوں میں سے ایک نے بتایا کہ وہ نبی زادے ہیں اور حضرت یعقوبؑ کی اولاد ہیں’’ ہم بارہ بھائی تھے، ایک بھائی کو بچپن میں بھیڑیا کھا گیا، جس کے غم میں ہمارے والد نابینا ہو چُکے ہیں۔ ایک چھوٹا بھائی ہے، جسے والد کی دیکھ بھال کے لیے چھوڑ آئے ہیں۔‘‘حضرت یوسف ؑنے اُنہیں شاہی مہمان خانے میں رکھا۔ جاتے ہوئے پورا اناج دیا اور کہا’’ آیندہ اپنے چھوٹے بھائی کو بھی ساتھ لانا۔ اگر تم اُسے لے کر نہیں آئے، تو غلّہ ملے گا اور نہ خاطر مدارات ہوگی۔‘‘ اس کے ساتھ ہی آپؑ نے خفیہ طور پر اُن کے اناج کی رقم بھی اُن کی بوریوں میں رکھوا دی۔بھائی خوشی خوشی اناج لے کر کنعان واپس آئے، تو والد کو عزیزِ مِصر کے حُسنِ سلوک، فیّاضی اور رحم دِلی کے واقعات سُنائے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اُنھوں نے حکم دیا ہے کہ اگر آئندہ اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ نہ لائے، تو اناج نہیں ملے گا، لہٰذا بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے تاکہ ہم پھر غلّہ لائیں، ہم اس کی نگہہ بانی کریں گے۔ (حضرت یعقوبؑ) نے کہا’’ مجھے تو اس کی بابت تمہارا بس ویسا ہی اعتبار ہے، جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں تھا۔ سو، اللہ ہی بہترین نگہہ بان اور سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘

بنیامین مِصر میں اور چوری کا الزام

اناج ختم ہونے لگا، تو اُنہوں نے دوبارہ مِصر جانے کا قصد کیا اور بنیامین کو ساتھ لے جانے کے لیے والد کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت یعقوبؑ سابقہ تجربے کی بنا پر بنیامین کو ساتھ بھیجنے پر آمادہ نہ تھے۔ لہٰذا، اُنھوں نے کہا کہ’’مَیں تو اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا، جب تک کہ تم اللہ کو بیچ میں ڈال کر مجھے قول اقرار نہ دو کہ اسے میرے پاس صحیح سالم لے آؤ گے۔ سوائے اس ایک صورت کے کہ تم سب گرفتار کر لیے جائو (یعنی تمہیں کوئی اجتماعی مصیبت پیش آ جائے یا تم سب ہلاک ہو جائو)۔‘‘ جب اُنہوں نے عہد کرلیا، تو حضرت یعقوبؑ نے اُنہیں ہدایت کی’’اے میرے بیٹو! تم سب ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا، بلکہ جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا اور مَیں اللہ کی تقدیر تو تم سے نہیں روک سکتا۔ (بے شک) حکم اسی کا ہے۔ مَیں اسی پر بھروسا رکھتا ہوں اور اہلِ توکّل کو اسی پر بھروسا رکھنا چاہیے۔‘‘(سورۂ یوسف۔ 67-66) یہ گیارہ تندرست و توانا اور جوان بھائی تھے، لہٰذا ان سب کے ایک ہی دروازے سے داخل ہونے کی صورت میں نظرِ بد کا احتمال تھا۔ اسی لیے حضرت یعقوبؑ نے اُنھیں الگ، الگ دروازوں سے داخل ہونے کا حکم دیا۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے’’نظر کا لگ جانا حق ہے۔‘‘ (صحیح بخاری) آپﷺ نے نظرِ بد سے بچنے کے لیے دعائیہ کلمات بھی بتلائے۔ مثلاً فرمایا کہ’’ جب تمہیں کوئی چیز اچھی لگے تو ’’بارک اللہ‘‘ کہو۔‘‘ (موطا امامِ مالک)’’ سورۂ فلق اور سورۂ ناس کو نظرِبد کے لیے بہ طورِ دَم پڑھنا چاہیے۔‘‘ (جامع ترمذی) اسی طرح ’’ماشاء اللہ لا قوّۃ اِلا باللہ‘‘ پڑھنا قرآنِ پاک سے ثابت ہے۔‘‘ (سورۂ کہف39) یہ سب بھائی بنیامین کو ساتھ لے کر عزیزِ مِصر کے دربار میں پہنچ گئے۔ حضرت یوسفؑ نے اپنے بھائی کو پہچان لیا۔ آپؑ نے دو، دو بھائیوں کو ایک کمرے میں ٹھہرایا، اس طرح بنیامین تنہا رہ گئے، تو اُنہیں الگ کمرے میں رکھا اور پھر خلوت میں اُنہیں بتا دیا کہ وہ اُن کے حقیقی بھائی، یوسفؑ ہیں۔ حضرت یوسفؑ نے بنیامین سمیت سب بھائیوں کا اناج اُن کے اونٹوں پر لدوا دیا اور وہ خوشی خوشی روانہ ہوگئے۔ قرآنِ پاک میں ہے’’پھر جب اُنہیں اُن کا سامان ٹھیک ٹھیک کر کے دیا، تو اپنے بھائی کے سامان میں پانی پینے کا پیالہ رکھ دیا۔ پھر ایک آواز دینے والے نے پکار کر کہا’’ اے قافلے والو! تم لوگ تو چور ہو۔‘‘ وہ اُن کی طرف متوجّہ ہو کر کہنے لگے’’ تمہاری کیا چیز چوری ہوئی ہے؟‘‘ وہ بولا’’ بادشاہ کا پیالہ کھویا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے، اس کے لیے ایک اونٹ کے بوجھ کا غلّہ انعام ملے گا اور مَیں اس کا ضامن ہوں۔‘‘ وہ کہنے لگے کہ’’ اللہ کی قسم! تم کو معلوم ہے کہ ہم اس مُلک میں اس لیے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چور ہیں۔‘‘ اُنہوں نے کہا’’ اچھا! اگر تمہارے سامان میں وہ پیالہ مل گیا، تو پھر اس کی سزا کیا ہو گی؟‘‘ بھائیوں نے جواب دیا’’ یعقوبؑ کی شریعت میں اس کی سزا یہی ہے کہ چور کو اس شخص کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔‘‘’’ سب کو مع سامان حضرت یوسفؑ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ وہاں سب بھائیوں کے سامان کی تلاشی ہوئی اور آخر میں بنیامین کے سامان کی تلاشی کے دَوران وہ پیالہ اُن کے سامان سے برآمد ہو گیا۔ جرم ثابت ہونے پر بنیامین کو جانے کی اجازت نہیں ملی۔‘‘یہ صُورتِ حال ان بھائیوں کے لیے نہایت حیران اور پریشان کُن تھی۔ اُنہوں نے کہا’’اگر اس نے چوری کی(تو کوئی تعجّب کی بات نہیں) اس کا بھائی بھی پہلے چوری کر چکا ہے۔‘‘(سورۂ یوسف77)۔ دراصل، حضرت یوسفؑ کی پرورش اُن کی پھوپھی کیا کرتی تھیں، جو اُنھیں بہت چاہتی تھیں۔ جب آپؑ ذرا بڑے ہوئے، تو حضرت یعقوبؑ نے اُنہیں لینا چاہا۔ پھوپھی اُنھیں روکنا چاہتی تھیں، اس لیے اُن کی کمر میں ایک پٹکا کپڑوں کے اندر باندھ کر مشہور کر دیا کہ پٹکا گم ہو گیا ہے اور سب کی تلاشی لی، تو وہ اُن کی کمر سے بندھا نکلا، لہٰذا اس شریعت کے قانون کے مطابق اُنھیں پھوپھی کے پاس رہنا پڑا، یہاں تک کہ اُنھوں نے وفات پائی، تو پھر حضرت یوسفؑ اپنے والد کے پاس آ گئے۔(معارف القرآن)

بھائیوں کا آپس میں مشورہ اور کنعان واپسی

بھائیوں کو فکر تھی کہ والد کو کیا جواب دیں گے۔ اُنہوں نے حضرت یوسفؑ سے درخواست کی’’ بنیامین کے والد بہت بوڑھے ہیں، اِس کی جگہ آپؑ ہم میں سے کسی کو روک لیں۔‘‘ حضرت یوسفؑ نے فرمایا’’ یہ ممکن نہیں۔ جس کے سامان سے مال برآمد ہوا ہے، وہی سزا کا مستحق ہے۔‘‘ بھائی بڑے مایوس ہوئے اور آپس میں بیٹھ کر مشورہ کرنے لگے۔ سب سے بڑے بھائی نے کہا کہ’’ کیا تمہیں یاد نہیں کہ اپنے والد سے بنیامین کو واپس لانے کا پختہ عہد کیا تھا۔ ہم سب اس سے پہلے یوسفؑ کے معاملے میں بھی کوتاہی کر چُکے ہیں، تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں، مَیں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں۔‘‘ (سورۂ یوسف۔ 80) یہ بڑا بھائی یہودا تھا۔ باقی نو بھائی مِصر سے روانہ ہوئے اور کنعان پہنچ کر والد کو ساری صُورتِ حال سے آگاہ کیا۔ ساتھ ہی اپنی صفائی بیان کرتے ہوئے گویا ہوئے’’ اگر آپؑ کو ہماری باتوں کا یقین نہیں، تو آپؑ اس بستی کے لوگوں سے پوچھ لیں، جہاں ہم مقیم تھے۔‘‘ حضرت یعقوبؑ نے فرمایا’’مَیں تو اپنی پریشانی اور رنج و غم کی فریاد اپنے اللہ ہی سے کر رہا ہوں۔ مجھے اللہ کی طرف سے وہ باتیں معلوم ہیں، جو تم نہیں جانتے۔ میرے بیٹو! تم جائو اور یوسفؑ اور اس کے بھائی کو پوری طرح تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو۔ بے شک اللہ کی رحمت سے ناامید وہی ہوتے ہیں، جو کافر ہیں۔‘‘ (سورۂ یوسف87-86)

حضرت یعقوبؑ کا خط

یہ سب بھائی حضرت یعقوبؑ کے اصرار پر دوبارہ عزیزِ مِصر کے دربار میں گئے اور نہایت عاجزی و انکساری سے بھائی کی رہائی کی اپیل کی۔ ساتھ ہی باپ کے بڑھاپے، ضُعف اور دوسرے بیٹے کی جدائی کے صدمے کا بھی ذکر کیا۔ حضرت یوسفؑ کا دِل بھر آیا، آنکھیں نم ناک ہو گئیں۔ روایت ہے کہ حضرت یعقوبؑ نے عزیزِ مِصر کے نام ایک خط بھی لکھ کر دیا تھا۔ حضرت یوسف علیہ السّلام نے خط پڑھا، تو بے اختیار رونے لگے اور پھر اپنے راز کو ظاہر کر دیا۔ تعارف کی تمہید کے طور پر بھائیوں سے سوال کیا’’تم کو کچھ یاد بھی ہے کہ یوسفؑ اور اُس کے بھائی کے ساتھ کیا برتائو کیا تھا۔‘‘بھائیوں نے جب عزیزِ مِصر کی زبان سے اپنے بھائی یوسفؑ کا تذکرہ سُنا، تو حیران رہ گئے اور گھبرا کر بولے’’کیا سچ مُچ تم ہی یوسف ؑہو؟‘‘ حضرت یوسفؑ نے جواب دیا’’ہاں! مَیں ہی یوسفؑ ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر فضل و کرم کیا۔ جو شخص اللہ سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے، تو اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔‘‘(سورۂ یوسف۔90) بھائیوں نے جب حضرت یوسفؑ کی یہ شان دیکھی، تو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کر لیا۔آپؑ نے بھی پیغمبرانہ عفو و درگزر سے کام لیتے ہوئے اُنہیں معاف کر دیا ۔

حضرت یوسفؑ کا کُرتا اور حضرت یعقوبؑ کی بینائی

حضرت یوسفؑ نے بھائیوں کو بہت سا اناج دیتے ہوئے کہا کہ ’’میرا یہ کُرتا لے جائو، اسے والد صاحب کے منہ پر ڈال دینا، اُن کی بینائی واپس آ جائے گی اور تم سب اپنے اہل و عیّال کے ساتھ میرے پاس آ جائو۔‘‘ قافلہ قمیص لے کر چلا ہی تھا کہ ڈھائی سو میل دُور، کنعان میں حضرت یعقوبؑ نے آس پاس کے لوگوں سے کہنا شروع کر دیا’’اگر تم لوگ مجھ کو یہ نہ کہو کہ بوڑھا بہک گیا ہے، تو مجھے یوسفؑ کی خُوش بُو آ رہی ہے۔‘‘ بھائی واپس کنعان پہنچے اور والد کے چہرے پر کُرتا ڈالا، جس سے اُن کی بینائی بحال ہو گئی۔ آپؑ نے بیٹوں سے فرمایا’’ کیا مَیں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ مَیں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں، جو تم نہیں جانتے؟‘‘ (سورۂ یوسف96)

حضرت یعقوبؑ، عزیزِ مِصر کے دربار میں

کچھ دنوں بعد حضرت یعقوبؑ اہلِ خانہ کے ہم راہ مِصر روانہ ہو گئے۔ حضرت یوسفؑ نے ایک بڑی سپاہ کے ساتھ شہر سے باہر والد اور خاندان والوں کا استقبال کیا۔ چالیس سال بعد ہونے والی اس ملاقات نے باپ، بیٹے یعنی اللہ کی دو پاکیزہ اور برگزیدہ ہستیوں کو آب دیدہ کر دیا۔ دونوں دیر تک ایک دوسرے کے گلے لگے رہے۔آپؑ نے والد اور سوتیلی والدہ کو تختِ شاہی پر بٹھایا۔پھر خود تختِ شاہی پر جلوہ افروز ہوئے، تو شاہی آداب کے مطابق تمام درباریوں نے سجدہ کیا۔ یہ صُورتِ حال دیکھ کر خاندانِ یوسفؑ نے بھی ایسا ہی کیا۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ ’’تفسیر سورۂ یوسف‘‘ میں فرماتے ہیں کہ’’ یہ سجدۂ تحیٔت تھا، جو اُممِ سابقہ میں جائز تھا۔‘‘حضرت یوسفؑ کو اپنا بچپن کا خواب یاد آ گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ’’اے ابّا جان! یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے، جو مَیں نے بچپن میں دیکھا تھا اور جس کو میرے ربّ نے سچّا کر دِکھایا۔ بادشاہ، حضرت یوسفؑ پر ایمان لے آیا تھا اور اُس نے امورِ سلطنت آپؑ کے سپرد کردیے تھے۔ حضرت یوسفؑ کے خاندان نے مِصر ہی میں مستقل سکونت اختیار کر لی تھی اور اس طرح بنی اسرائیل سرزمینِ مِصر میں آباد ہو گئے۔

حضرت یوسفؑ کا انتقال

حضرت یوسفؑ کا انتقال ایک سو بیس سال کی عُمر میں ہوا اور دریائے نیل کے کنارے دفن ہوئے۔ روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کو مِصر چھوڑنے کا حکم دیتے ہوئے حضرت یوسفؑ کی میّت بھی اپنے ساتھ لے جانے کی ہدایت کی، جس پر وہ اُن کا تابوت فلسطین لے گئے اور حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہم السّلام کے برابر دفن کر دیا۔