وَبِصَوْمِ غَدٍ نَّوَيْتُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ.
I Intend to keep the fast for month of Ramadan

فتنہ سے نجات کا ذریعہ

Articles
فتنہ سے نجات کا ذریعہ

ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت حارث رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں ایک مرتبہ مسجد میں گیا تو لوگ (وہاں دنیاوی) باتوں میں مشغول تھے۔ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ نہیں دیکھتے، لوگ (مسجد میں دنیاوی) باتوں میں مشغول ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا واقعی لوگ ایسا کررہے ہیں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آگاہ ہوجائو، میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’خبردار! ایک بہت بڑا فتنہ آنے والا ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس فتنہ سے نجات پانے کا ذریعہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کی کتاب! اس میں تم سے پہلی امتوں کے (سبق آموز) واقعات ہیں اور تمہارے بعد کی اطلاعات (یعنی اعمال و اخلاق کے مستقبل میں ظاہر ہونے والے دنیوی و اُخروی نتائج) بھی ہیں اور تمہارے درمیان جو مسائل پیدا ہوں گے ان کا حکم اور فیصلہ (عادلانہ حل) موجود ہے۔ وہ فیصلہ کن کلام ہے (یعنی دنیا اور آخرت میں فیصلے اس کی بنیاد پر ہوں گے) اور وہ فضول بات نہیں ہے۔ جو سرکشی کی وجہ سے اس کو چھوڑے گا، اللہ تعالیٰ اس کو توڑ کے رکھ دے گا اور جو کوئی قرآن کے بغیر ہدایت تلاش کرے گا اللہ اس کو گمراہ کردے گا (یعنی وہ ہدایت حق سے محروم رہےگا) قرآن ہی اللہ کی مضبوط رسی (یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق کا مضبوط ذریعہ) ہے اور حکمت بھرا ذکر ہے اور وہی صراط مستقیم ہے۔ وہی حق مبین ہے جس کے اتباع سے خیالات کجی سے محفوظ رہتے ہیں اور زبانیں اس میں تحریف نہیں کرسکتیں۔ (یعنی جس طرح پچھلی کتابوں کو محرفین نے تبدیل کردیا، اس طرح قرآن حکیم میں کوئی تحریف نہیں ہوسکے گی) اور علم والے کبھی اس کے علم سے سیر نہیں ہوں گے۔ (یعنی قرآن میں تدبر کا عمل اور حقائق و معارف کی تلاش کا سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ جاری رہے گا اور کبھی ایسا وقت نہیں آئے گا کہ قرآن کا علم حاصل کرنے والے محسوس کریں گے کہ ہم نے علم قرآن پر پورا عبور حاصل کرلیا ہے بلکہ ان کے علم کی طلب اور بڑھتی جائے گی) اور وہ (قرآن) کثرت تلاوت سے کبھی پرانا نہیں ہوگا (یعنی جس طرح دنیا کی دوسری کتابوں کا حال ہے کہ بار بار پڑھنے کے بعد ان کے پڑھنے میں آدمی کو لطف نہیں آتا، قرآن مجید کا معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے۔ یہ جتنا پڑھا جائے گا اور جتنا اس میں تدبر و تفکر کیا جائے گا اتنا ہی اس کے لطف و لذت میں اضافہ ہوگا) اور اس کے عجائب (یعنی دقیق و لطیف حقائق اور حکمت و معرفت کے نئے نئے پہلو) کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ قرآن حکیم کی شان تو یہ ہے کہ جب جنات نے اس کو سنا تو بے اختیار بول اٹھے، ’’ہم نے دل کو متاثر کرنے والا قرآن حکیم سنا ہے جو رہنمائی کرتاہے بھلائی کی طرف، لہٰذا ہم اس پر ایمان لائے۔‘‘ جس نے قرآن کے مطابق بات کہی اس نے سچ بات کہی اور جس نے قرآن پر عمل کیا وہ اجر و ثواب کا مستحق ہوا۔ اور جس نے قرآن کے موافق فیصلہ کیا اس نے عدل و انصاف کیا اور جس نے قرآن کی طرف دعوت دی اس کو صراط مستقیم کی ہدایت نصیب ہوئی ۔ (ترمذی)