وَبِصَوْمِ غَدٍ نَّوَيْتُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ.
I Intend to keep the fast for month of Ramadan

استعمال شدہ پانی کا حکم

Islamic Q&A
استعمال شدہ پانی کا حکم

کتاب و سنت کی روشنی میں

سوال:اگر کسی پر غسل واجب ہو اور نہاتے وقت جسم سے پانی کی چھینٹیں کپڑوں پر پڑ جائیں تو کپڑے اور پانی پاک سمجھے جائیں گے یا ناپاک؟

جواب:نجاست دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک وہ جو ظاہری ہوتی ہے جیسے بول و براز اور خون وغیرہ اور دوسری باطنی اور حکمی نجاست… جس میں ظاہری تو کوئی ناپاکی یا گندگی نہیں ہوتی لیکن شریعت مطہرہ اس پر ناپاکی کا حکم لگاتی ہے۔ جیسے جسم سے ریاح کا خارج ہونا یا احتلام سے جسم کا ناپاک ہونا یا کسی ناقض وضو کے پیش آنے کی وجہ سے وضو کا ٹوٹ جانا اور وضو کرنے تک آدمی کا ناپاک رہنا۔ ظاہر ہے کہ غسل واجب ہونے کی صورت میں بظاہر آدمی کے سارے جسم پر کوئی ناپاکی یا نجاست لگی نہیں رہتی، اسی طرح اعضائے وضو پر بھی کوئی ظاہری نجاست نہیں ہوتی لیکن شریعت مطہرہ نے انہیں ناپاک قرار دیا اور وضو و غسل کے ذریعے پاکی کا حکم دیا ہے۔ ظاہری نجاست دور کرنے کیلئے جو پانی استعمال کیا جائے، وہ بہرحال ناپاک ہوتا ہے۔ جیسے بدن یا کپڑوں پر خون یا پیشاب وغیرہ لگا ہوتا ہے، پھر اسے پانی سے دھو کر پاک کیا گیا اور وہ استعمال شدہ پانی کسی جگہ جمع ہوگیا تو وہ ناپاک سمجھا جائے گا۔ بے احتیاطی سے وہ کسی پاک پانی میں مل جائے یا پاک کپڑوں یا بدن پر لگ جائے تو وہ پانی نیز بدن اور کپڑوں کا اتنا حصہ ناپاک ہوجائے گا، اس لئے کہ نجاست ظاہری کے ازالے کی وجہ سے وہ استعمال شدہ پانی بھی ناپاک ہوگیا لیکن جس پانی سے باطنی نجاست دور کی جائے یعنی جو پانی وضو یا غسل کیلئے استعمال کیا جائے (چاہے وہ واجب غسل ہو) وہ پانی پاک ہی رہتا ہے، ناپاک نہیں ہوتا۔ (البتہ اس سے دوبارہ پاکی حاصل نہیں کی جاسکتی) لہٰذا نہاتے وقت جسم سے پانی کی چھینٹیں کپڑوں پر پڑ جائیں یا پاک پانی پر گر جائیں تو اس سے کپڑے یا پانی ناپاک نہیں ہوتے البتہ اس کیلئے ضروری ہے کہ پہلے جسم سے ظاہری نجاست دور کرلی جائے اور غسل کا بہترین طریقہ بھی یہی ہے کہ جسم پر اگر کوئی ظاہری نجاست لگی ہو (جیسے منی وغیرہ) تو پہلے اس حصے کو دھو کر پاک کرلیا جائے اور پھر سارے بدن پر پانی بہایا جائے۔ یہ پانی ناپاک سمجھا جائے گا۔