وَبِصَوْمِ غَدٍ نَّوَيْتُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ.
I Intend to keep the fast for month of Ramadan

ٹیپ ریکارڈر کو بطور امام بنانا

Islamic Q&A
ٹیپ ریکارڈر کو بطور امام بنانا

کتاب و سنت کی روشنی میں

سوال:ٹیپ ریکارڈر میں کسی امام کی آواز محفوظ کرکے اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اسی طرح ایک امام صاحب خانہ کعبہ میں باجماعت نماز ادا کررہے ہیں اور ٹی وی کے ذریعے اس منظر کو دنیا کے مختلف حصوں میں دکھایا جارہا ہے تو کیا اس صورت میں کوئی شخص اپنے ملک میں اور اپنے شہر میں رہتے ہوئے خانہ کعبہ کے امام صاحب کی اقتداء میں باجماعت نماز ادا کرسکتا ہے؟

جواب:ٹی وی، ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈر وغیرہ کے ذریعے دورپار کے مقامات کے لوگوں کا نماز باجماعت پڑھنا صحیح نہیں ہے۔ امام کا کام محض نماز پڑھانا ہی نہیں ہے بلکہ وہ ایک طرح سے مقامی جماعت کا رہنما ہے۔ اس کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے مقام کے لوگوں سے شخصی تعلقات قائم کرے، ان کے اخلاق و کردار، معاملات اور مقامی حالات پر نظر رکھے اور حسب موقع اپنے خطبات کے ذریعے اصلاحِ معاشرہ کے فرائض انجام دے۔ اگر ٹی وی، ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈر سے امامت و خطابت کا کام لیا جانے لگے تو امامت کی اصل روح تو ہمیشہ کیلئے فنا ہوجائے گی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ اطہر میں صاحب کردار اور اہل علم صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بطور امام مقرر کیا جاتا تھا۔ ان کا کام تعلیم و تربیت اور تزکیۂ نفس ہوتا تھا۔ آلات کبھی بھی انسان کا بدل نہیں ہوسکتے، صرف مددگار ہوسکتے ہیں۔ یعنی مختلف وجوہ کی بناء پر ’’مشینی امامت‘‘ اسلام کی روح کے منافی ہے۔