A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: count(): Parameter must be an array or an object that implements Countable

Filename: core/Front_Controller.php

Line Number: 144

Backtrace:

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/private_html/application_ramazan/core/Front_Controller.php
Line: 144
Function: _error_handler

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/private_html/application_ramazan/modules/frontend/controllers/Home.php
Line: 9
Function: __construct

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/public_html/index.php
Line: 333
Function: require_once

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: count(): Parameter must be an array or an object that implements Countable

Filename: controllers/Home.php

Line Number: 58

Backtrace:

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/private_html/application_ramazan/modules/frontend/controllers/Home.php
Line: 58
Function: _error_handler

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/public_html/index.php
Line: 333
Function: require_once

A PHP Error was encountered

Severity: Warning

Message: count(): Parameter must be an array or an object that implements Countable

Filename: libraries/Database_lib.php

Line Number: 1215

Backtrace:

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/private_html/application_ramazan/libraries/Database_lib.php
Line: 1215
Function: _error_handler

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/private_html/application_ramazan/helpers/custom_helper.php
Line: 2402
Function: post_author_data

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/private_html/application_ramazan/helpers/custom_helper.php
Line: 2455
Function: get_post_authors

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/private_html/application_ramazan/modules/frontend/controllers/Home.php
Line: 126
Function: get_post_authors_list_pic

File: /mnt/data/home/380485.cloudwaysapps.com/bscybjarhc/public_html/index.php
Line: 333
Function: require_once

مسافر کے لیے روزے کا حکم…! - Geo Ramadan - Islamic Q&A
وَبِصَوْمِ غَدٍ نَّوَيْتُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ.
I Intend to keep the fast for month of Ramadan

مسافر کے لیے روزے کا حکم…!

Islamic Q&A

مولاناڈاکٹرعبدالرزاق اسکندر 

سوال:۔ مسافر کے لیے روزے کا کیا حکم ہے؟ اگر مسافر کے لیے روزہ چھوڑنا جائز ہے تو اس کے لیے کیا شرط ہے؟ کیا فجر کے وقت سے پہلے سفر شروع کیا ہو، یا مثلاً: کسی کی فلائٹ اشراق کے بعد کی ہے اور وہ یہ کہے کہ آج مجھے سفر کرنا ہے تو کیا اس کے لیے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے؟ اسی طرح ایک آدمی کو رات کو سفر شروع کرنا ہے اور اگلے دن اشراق کے وقت تک وہ اپنی منزل پر پہنچےگا یعنی سحری کے وقت وہ حالت سفر میں تھا تو کیا وہ روزہ چھوڑ سکتا ہے؟

جواب:شرعی مسافر کو روزہ رکھنے یا نہ رکھنے دونوں کا اختیار ہے، اور نہ رکھنے کی صورت میں بعد میں اس روزہ کی قضا کرنا لازم ہوگی، تاہم اگر سفر کے دوران روزہ رکھنےمیں سہولت ہے، دشواری نہیں ہے تو روزہ رکھ لینا بہتر ہے، اگر روزہ رکھنے میں مشقت اور دشواری ہے تو اس صورت میں روزہ نہ رکھنے کی بھی اجازت ہےاور بعد میں اس روزے کی قضا کرلے۔

2) اگرسفر کی مقدار کم سے کم اڑتالیس میل (سوا ستتر کلومیٹر) یا اس سے زیادہ ہے تو اپنے شہر کے حدود سے نکلنے کے بعد روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار ہوگا اور شرعی طور پر اس شخص کے لیے سفر میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے جو صبح صادق کے وقت سفر میں ہو اور شرعی مسافر بن چکا ہویعنی شہر یا گاؤں کی آبادی سے نکل چکاہواور اگر کوئی شخص صبح صادق کے وقت سفر میں نہ ہوتواس کے لیے روزہ چھوڑناجائز نہیں اگرچہ دن میں اس کا سفر میں جانےکاارادہ ہو۔

لہٰذا اگر کسی کی فلائٹ اشراق کے بعد کی ہے تو چوں کہ وہ صبح صادق کے وقت مسافر نہ تھا،اس لیے اس کےلیےروزہ چھوڑناجائزنہیں اور جو شخص رات کو سفر شروع کرےاور سحری کے وقت سفر میں ہو تو اس کے لیے روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار ہے، لیکن جب وہ اشراق کے وقت تک اپنی منزل (یعنی اپنے وطن اور گھر) پہنچ جائے اور اس نے روزہ کے منافی کوئی عمل نہیں کیا تو نصف النہار شرعی سے پہلے پہلے اسے نیت کرکے روزہ رکھنا ضروری ہے، تاہم اگر روزے کو فاسد کردیا تو صرف قضا لازم ہوگی، کفارہ نہیں، اور اگر اس نے روزے کے منافی کوئی عمل کرلیا تھا تو اب روزہ تو نہیں ہوگا، البتہ روزےداروں کی مشابہت کی وجہ سے کھانے پینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اگر رات کے وقت اپنے وطن سے سفر شروع کیا اور اگلے دن اشراق کے وقت وہ اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ جائے تو اگر شرعی سفر ہو تو اسے روزہ چھوڑنے کی اجازت ہوگی، البتہ اگر اس نے صبح صادق کے بعد کچھ کھایا نہیں ہو تو نصف النہار شرعی سے پہلے وہ روزے کی نیت کرسکتاہے۔(الدرالمختار وحاشيۃابن عابدين ۔رد المحتار\2/ 431)

مزید مضمون :