کتاب و سنت کی روشنی میں
سوال: ’’مولانا‘‘ کا لفظ اللہ تعالیٰ کے ساتھ منسوب ہے۔ ہمارے ہاں علمائے دین بھی اپنے نام کے ساتھ ’’مولانا‘‘ لکھتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا درست ہے؟
جواب:لفظ ’’مولا‘‘ سے ’’مولوی‘‘ اور ’’مولانا‘‘ لیا گیا ہے۔ ’’مولا‘‘ اللہ تعالیٰ کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے اور مجازاً سردار، قائد، ساتھی، مددگار اور دوست کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ کسی صاحب علم کو ’’مولوی‘‘ کہہ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح مجازاً لفظ ’’مولانا‘‘ علماء کیلئے استعمال کر لیا جاتا ہے۔ جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا ’’انت اخونا و مولانا‘‘ (صحیح بخاری) ’’تم ہمارے بھائی اور بڑے ہو۔‘‘ قرآن مجید میں لفظ ’’مولانا‘‘ دو مرتبہ آیا ہے اور دونوں مرتبہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے آیا ہے۔ سورۃ البقرہ کی آخری آیت اور سورۃ التوبہ کی آیت 51میں یہ لفظ موجود ہے۔ صرف برصغیر پاک و ہند ہی میں نہیں بلکہ بعض بلاد عربیہ میں بھی لفظ ’’مولانا‘‘ عزت و تکریم اور علم و فضل کے اظہار کیلئے مجازاً استعمال ہوتا ہے۔ علامہ ابن سینا نے بھی اپنی کتاب ’’القانون‘‘ میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ’’ہمارے آقا و مولیٰ اور صاحب شریعت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘‘ تحریر کیا ہے۔
(زاد المعاد 57/4 بحوالہ ،القانون (ابن سینا)