وَبِصَوْمِ غَدٍ نَّوَيْتُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ.
I Intend to keep the fast for month of Ramadan

گائے کی قربانی میں زیادہ سے زیادہ سات شراکت دار ہوسکتے ہیں ،کم پرکوئی پابندی نہیں

Islamic Q&A
گائے کی قربانی میں زیادہ سے زیادہ سات شراکت دار ہوسکتے ہیں ،کم پرکوئی پابندی نہیں

مفتی منیب الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال: چار افراد قربانی کے لیے گائے خرید رہے ہیں ،گائے میں7 حصے ہوتے ہیں ،اس صورت میں حصوں کی تقسیم کس طرح ہوگی؟

جواب: بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ جن چار افراد نے مل کر گائے خریدی ہے، ان کی قربانیوں کے مجموعی حصے اگر سات بنتے ہیں تو اس جانور کی قیمت ،چارہ ، نگہداشت اور ذبح کا مجموعی خرچ بھی سات حصوں میں تقسیم ہوگا اور جس کے جتنے حصے ہوں گے ،اس حساب سے وہ رقم اداکرے گا ،لیکن اگر یہ قربانی اُن چار شرکاء کی طرف سے برابر کی حصہ داری پر ہے توپھر یہ قربانی چار افراد کی طرف سے ہوگی اورچاروں جملہ مصارف میں برابر کے شریک ہوں گے ۔اونٹ ، بھینس ،گائے وغیرہ میں زیادہ سے زیادہ سات حصوں کی گنجائش ہوتی ہے ،کم پر پابندی نہیں ہے، ایک گائے چھ یا پانچ یا چار یا تین یا دو حتّیٰ کہ ایک آدمی کی طرف سے بھی ہوسکتی ہے ۔