مقروض کو زکوٰۃ کی ادائیگی

April 27, 2021

کتاب و سنت کی روشنی میں

سوال: ایک شخص کے دو لڑکے ملازمت کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ لوگوں کا کافی مقروض ہے۔ دو جوان بیٹیاں بھی اس کے گھر میں ہیں، کیا ایسے آدمی کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے؟ نیز اس کی طرف میرا قرض ہے، اگر میں یہ نیت کرلوں کہ اس کو وہ رقم چھوڑ دیتا ہوں جو اس نے مجھ سے قرض لے رکھی ہے تو کیا میری زکوٰۃ ادا ہو جائے گی؟

جواب:اگر کوئی شخص صاحب نصاب نہیں اور وہ قرض میں گھرا ہوا ہے تو اس کو قرض کی ادائیگی کے لئے زکوٰۃ کی رقم دی جاسکتی ہے۔ البتہ اس کو پہلے سے جو قرض دیا ہوا ہے، زکوٰۃ کی نیت کرکے قرض میں سے وضع کرنا درست نہیں ہے۔ اس طرح زکوٰۃ ادا نہ ہوگی کیونکہ رقم کسی کو دیتے وقت زکوٰۃ کی ادائیگی کی نیت کرنا ضروری ہے۔ رقم دیتے وقت قرض کی نیت ہو اور بعد میں مقروض کی پریشانی اور اس کے حالات دیکھ کر زکوٰۃ کی ادائیگی کی نیت کرلی جائے تو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔ البتہ یہ کیا جاسکتا ہے کہ اسے زکوٰۃ کی رقم دے کر اس سے اپنا قرض وصول کرلیا جائے۔