سجدئہ سہو

April 25, 2021

کتاب و سنت کی روشنی میں

سوال: کسی مسجد میں نمازی کثرت سے ہوں اور امام صاحب سے نماز میں کوئی سہو ہوجائے جس کی وجہ سے سجدئہ سہو لازم ہوجائے مگر نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے یہ اندیشہ ہو کہ کہیں امام صاحب کے سجدئہ سہو کرنے کی صورت میں مقتدی کسی گڑبڑ میں نہ پڑ جائیں کہ کوئی سجدہ میں ہو اور کوئی دونوں طرف سلام پھیر دے۔ بعد میں جب امام کچھ نمازیوں کو مختلف حالت میں دیکھے تو ایسی صورت میں امام صاحب کیلئے کیا حکم ہے؟

جواب:مذکورہ صورت میں شریعت مطہرہ نے امام صاحب سے سجدئہ سہو معاف کردیا ہے کہ بغیر سجدئہ سہو ادا کئے ہوئے ہی نماز ہوجائے گی۔