ریاکاروں کے ساتھ معاملہ

April 11, 2021

ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے ایک ایسے شخص کا فیصلہ ہوگا جو شہید ہوگا۔ اسے بلاکر وہ تمام نعمتیں جو اُسے دنیا میں دی گئی تھیں، جنہیں وہ شناخت بھی کرلے گا، دکھاکر اس سے پوچھا جائے گا، بتا ان نعمتوں کا حق ادا کرنے کے لیے تونے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے جہاد کیا، جہاد میں شہید ہوکر ان کا حق ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: نہیں تو جھوٹا ہے، تونے جنگ اس لیے لڑی تھی کہ دنیا میں تجھے بہادر کہا جائے، چنانچہ تجھے دنیا میں بہادر کہا جاچکا۔ پھر حکم ہوگا: اسے منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے جہنم میں لے جائو۔ پھر وہ آدمی لایا جائے گا جس نے قرآن اور دین کا علم سیکھا اور سکھایا ہوگا۔ اس کے سامنے بھی اللہ تعالیٰ کے انعامات پیش کرکے، جس کی وہ تصدیق کرے گا، پوچھا جائے گا کہ ان نعمتوں کے بدلے میں بتا تونے کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم پڑھا اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دی۔ تیری رضا اور خوشنودی کی خاطر قرآن پڑھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹا ہے۔ تونے علم، عالم کہلانے اور قرآن قاری کہلانے کے لیے پڑھا تھا، چنانچہ تجھے عالم بھی کہا گیا اور قاری بھی مشہور ہوچکا۔ اس کے متعلق بھی یہی حکم ہوگا کہ منہ کے بل گھسیٹ کر اسے بھی جہنم میں ڈال دو۔ پھر ایسا شخص لایا جائے گا جس کو اللہ تعالیٰ نے بہت زیادہ مال و دولت سے نوازا ہوگا۔ اسے بھی تمام اموال اور دنیا کی تمام نعمتیں دکھاکر پوچھا جائے گا کہ بتائو تو نے یہ مال و دولت کہاں خرچ کیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیرے پسندیدہ راستوں میں سے کوئی راستہ ایسا نہیں چھوڑا جہاں تیری رضا کے لیے اپنا مال خرچ نہ کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹا ہے۔ میری رضا کے لیے تونے کچھ بھی خرچ نہیں کیا۔ یہ سب کچھ تونے اپنے آپ کو سخی کہلانے کے لیے خرچ کیا۔ سو تو سخی کہلا چکا۔ پھر اس کے لیے بھی یہی حکم ہوگا اور اسے بھی منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے جہنم میں ڈال دیا جائے۔ (صحیح مسلم)